مجاہد حریت مولانا کفایت علی کافی شہیدؒ
مجاہد حریت مولانا کفایت علی کافی شہیدؒ ! جنہیں انگریزوں نے مجمع عام کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا
عامل اور فاضل ، طبیب اور قادر الکلام شاعر تھے ، خانوادۂ سادات کے ایک رکن تھے ، مراد آباد اصل وطن تھا ، حضرت شاہ ، ابوسعید صاحب مجددی رام پوری سے علم حدیث کی تکمیل کی، اسی علم شریف سے بے حد شغف تھا سچ یہ ہے کہ عشق رسولﷺ کی سیرت مقدسہ سے عشق تھا ، جذبات نے شعر اختیار کر لی تھی، یہی آپ کی شاعری تھی آپ خود فرماتے ہیں۔
بس آرزو یہی دل حسرت زدہ کی ہے سنتا رہے شمائل احوال مصطفے ہے سعید دو جہاں وہ جو کوئی لیل و نہار نعت اوصاف رسول اللہ کا شاغِل ہوا آپ صاحب تصانیف ہیں مگر موضوع تصانیف احادیث مقدسہ ہیں ، آپ کی مشہور مگر آجکل نایاب تصانیف یہ ہیں ۔
بہار خلد: ترجمہ شمائل ترمذی منظوم نسیم جنت - مجموعہ چہل حدیث مع تشریح
منظوم۔ خیابان فردوس: ترجمہ منظوم ترغیب اہل سعادت مصنفہ حضرت مولانا عبد الحق صاحب محدث دہلوی ، متعلق بہ فضائل درود شریف۔
حج بیت اللہ اور زیارت حرم مدینہ منورہ (علی صاحبہا) کا بے حد شوق تھا آپ کے دیوان"دیوان کافی" کی متعدد نظموں میں اس شوق کا اظہار ہے ، اللہ تعالے نے آپ کی یہ تمنا پوری کی تو ایک مثنوی اس سفر کے متعلق لکھ دی جو "تجمل دربار رحمت بار" کے عنوان سے منشی عبدالرحمن صاحب شاکر مالک مطبع نظامی کانپور کی کوشش سے طبع ہوئی۔
ان کے علاوہ مولود بہاریہ ، جذبہ عشق اوقات نحو و صرف بھی آپ کی تصانیف ہیں مولانا کافی کا بھی کچھ عرصہ آگرہ میں بھی قیام رہا ہے ، جب 1857 کی تحریک حریت مراد آباد میں نمودار ہوئی تو آپ صف اول کے مجاہدین میں پیش پیش تھے ۔ انگریزی حکومت کے ختم ہو جانے کے بعد جب نواب مجددالدین عرف نواب مجو خاں کی زیر سر کردگی آزاد حکومت قائم کی گئی تو آپ صدرالشریعت قرار دیئے گئے ، آپ کے یہاں مقدمات کا فیصلہ شرعی احکام کے مطابق ہوتا تھا۔
اسی اثنا میں جب مراد آباد میں نواب رام پور کی بالادستی قائم ہوئی تو آپ نے انگریزوں کے خلاف ایک فتویٰ جہاد مرتب کیا اس کی نقلیں آپ نے دوسرے مقامات پر بھیجوائیں بلکہ بعض مقامات پر آپ خود تشریف لے گئے ۔ انولہ ضلع بریلی میں خاص اسی مقصد کیلئے ایک ہفتہ سے زیادہ قیام فرمایا ، حکیم سعید اللہ ولد حکیم عظیم اللہ آپ کے ہم سبق ساتھی تھے انہیں کے یہاں آپ کا قیام رہا، حکیم صاحب آنولہ میں تحریک آزادی کے خاص رکن تھے ، مولانا کافی آنولہ سے بریلی پہنچے ، وہاں نواب خاں بہادر خاں اور امام المجاہدین مولانا سرفراز علی صاحب سے مشورے ہوئے جنرل بخت خان کی ماتحتی میں جو فوج بریلی سے دہلی جا رہی تھی اسی فوج کے ساتھ آپ مراد آباد واپس ہوئے۔
گرفتاری اور پھانسی: 25/ اپریل 1858 کو مراد آباد پر انگریزوں کا دوبارہ قبضہ ہوا، مولانا کافی کچھ دنوں محفوظ رہے 30/اپریل 1858 ء مطابق 16/رمضان المبارک 1274 ھ کو مولانا گرفتار ہوئے ، مولانا پر مختلف الزامات عائد کیے گئے اور ضابطہ کی کاروائی کے بعد پھانسی کا حکم صادر کر دیا گیا ، مولانا کافی نے جیسے ہی حکم سنا نہایت خوشی کا اظہار کیا اور جب مولانا کو پھانسی کیلئے لے جایا گیا تو آپ کی زبان پر ایک تازہ نظم تھی ، جو بڑے ترنم سے بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ نظم یہ ہے:
کوئی گل باقی رہے گا ، نہ چمن رہ جائیگا
یہ رسول اللہ کا دین حسن رہ جائیگا
ہم سفیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی، سونا چمن رہ جائیگا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تن بے جان پر خاکی کفن رہ جائیگا
نام شاہان جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشان پنجتن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائیگا
سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک
نعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائیگا
حضرت مولانا کافی رحمۃ اللہ علیہ کو جیل مراد آباد کے پاس مجمع عام کے سامنے پھانسی دی گئی اور وہیں تدفین عمل میں آئی ۔ رحمة الله ورضی عنہ.
مزید پڑھیں 👇
(1) ہندوستان کی آزادی اور مسلمان
(2) مولانا محمد علی جوہر! جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کے لیے زندگی وقف کردی
(3) از سرِ نو تاریخ نویسی کا معاملہ
(4) آزادئ ہند میں علماء کا کردار
(5) تاریخ حریت کے دو اہم باب
(6) جنگ آزادی میں خاک وطن کے ذروں کو ماہ و انجم بنانے والی بے مثال خواتین
(7) ہندوستان کی تحریک آزادی اور مسلمانوں کا کردار
(8) تحریک آزادی میں علماء کرام کا حصہ ایک نظر میں
(9) ٹکرائے کس میں دم ہے یہ مسلم امنگ سے
.jpeg)
تبصرے