شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس سرہ
ریشمی رومال تحریک کے بانی شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس سرہ
اسعد اقبال یکہتوی
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے شاگرد ہیں ۔ان ہی کی نسبت کہا گیا ہے کہ جس نے سب سے پہلے استاذ کے سامنے کتاب کھولی وہ محمود تھا۔ حضرت شیخ الہندؒ کی پیدائش 1268 ھ مطابق 1851ء میں بریلی میں ہوئی ۔ جہاں ان کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علیؒ سرکاری محکمۂ تعلیم سے وابستہ تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے مشہور عالم چچا مولانا مہتاب علیؒ سے حاصل کی ۔ قدوری اور شرح تہذیب پڑھ رہے تھے کہ دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔ آپ اس میں داخل ہوگئے ۔ نصاب دارالعلوم کی تکمیل کے بعد حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر علم حدیث کی تحصیل فرمائی ۔ فنون کی بعض اعلی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں ۔ 1290ھ مطابق 1873ء میں حضرت نانوتویؒ کے دست مبارک سے دستار فضیلت حاصل کی ۔ زمانہ تعلیم ہی میں آپ کا شمار حضرت نانوتویؒ کے ممتاز تلامذہ میں ہوتا تھا اور حضرت نانوتویؒ خاص طور سے شفقت فرماتے تھے چنانچہ ان کی اعلی علمی اور ذہنی صلاحیتوں کے پیش نظر دارالعلوم دیوبند کی مدرسی کے لیے اکابر کی نظر انتخاب آپ کے اوپر پڑی اور 1291ھ مطابق 1874ء میں مدرس چہارم کی حیثیت سے آپ کا تقرر عمل میں آیا جس سے بتدریج ترقی پاکر 1308ھ مطابق 1890ء میں صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ۔
ظاہری علم و فضل کی طرح باطن بھی آراستہ تھا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے خلافت حاصل تھی ۔
دارالعلوم میں صدارت تدریس میں مشاہرہ اس وقت 75 روپیہ تھا مگر آپ نے 50 روپیہ سے زیادہ قبول نہیں فرمائے۔ بقیہ 25 روپے دارالعلوم کے چندے میں شامل فرما دیتے تھے آپ کی زبردست علمی شخصیت کے باعث طلبہ کی تعداد 200 سے بڑھ کر 600 تک پہنچ گئی آپ کے زمانے میں 860 طلبہ نے حدیث نبوی سے فراغت حاصل کی حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے فیض تعلیم نے مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا منصور انصاری، مولانا حسین احمد، مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سید اصغر حسین دیوبندی، مولانا سید فخر الدین احمد، مولانا محمد اعزاز علی امروہی، مولانا محمد ابراہیم بلیاوی، مولانا سید مناظر احسن گیلانی رحمہم اللہ جیسے مشاہر اور نامور علماء کی جماعت تیار کی۔
بہت سے ذی استعداد اور ذہین و زکی طالب علم جو مختلف اساتذہ کی خدمتوں میں استفادہ کرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے اپنے شکوک و شبہات کے کافی و شافی جواب پانے کے بعد حضرت مولانا کی زبان سے آیات قرانیہ اور احادیث نبویہ کے معنی اور مضامین عالیہ سن کر سر نیاز خم کر کے متعرف ہوتے کہ یہ علم کسی میں نہیں ہے اور ایسا محقق عالم دنیا میں نہیں دیکھا۔ آخر عمر میں جب جنگ طرابلس و بلقان کی وجہ سے مسلمانوں میں ہیجان پھیلا ہوا تھا۔ حضرت شیخ الہند نے ہندوستان سے برطانوی حکومت کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے ایک اسکیم تیار کی۔ یہ 1330 ہجری مطابق 1913 عیسوی کا زمانہ تھا۔ انہوں نے مسلح انقلاب کے ذریعہ سے برطانوی گورنمنٹ کا تختہ الٹ دینے کا نقشہ تیار کیا اس کے لیے انہوں نے نہایت منظم طور پر اپنا پروگرام مرتب کیا تھا ان کے شاگردوں اور رفقاء کی ہے بڑی جماعت جو ہندو بیرون ہند کے اکثر ممالک میں پھیلی ہوئی تھی ان کے مجوزہ پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نہایت سرگرمی اور جاں بازی کے ساتھ کوشاں تھی شاگردوں میں مولانا عبیداللہ سندھی مولانا محمد میاں ، مولانا منصور انصاری اور دوسرے بہت سے بہت تلامذہ اس میں شامل تھے ۔ جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کے سیاسی اور انقلابی پروگرام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں ۔ اس وقت عام خیال یہ تھا کہ طاقت کے بغیر ہندوستان سے انگریزوں کا نکلنا ممکن نہیں ہے اس کے لیے سپاہ اور اسلحہ کی ضرورت ہے ۔ ان چیزوں کی فراہمی کے لیے افغانستان اور ترکی کا انتخاب کیا گیا ۔
حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی مجوزہ اسکیم کو کامیاب بنانے کےلئے پیرانہ سالی کے باوجود 1333ھ 1915ء میں حجاز کا سفر فرمایا۔ وہاں کے ترکی گونر غالب پاشا اور پاشا سے جو اس وقت ترکی کے وزیر جنگ تھے۔
ملاقات فرما کر بعض اہم امور طے کیے ۔ آپ حجاز سے براہ بغداد بلوچستان ہوتے ہوئے سرحد کے آزاد قبائل میں پہنچنا چاہتے تھے کہ اچانک جنگ عظیم کے دوران میں شریف حسین وائی مکہ نے انگریز حکام کے ایما پر گرفتار کر کے ان کے حوالے کر دیا ۔ حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ مولانا حسین احمدؒ، مولانا عزیر گل ، حکیم نصرت حسین اور مولانا وحید احمد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ۔ آپ کو پہلے مصر اور پھر وہاں سے مالٹا لے جایا گیا ۔ جو برطانوی قلمرو میں جنگی مجرموں کے لیے محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کے ختم ہونے پر آپ کو ہندوستان آنے کی اجازت ملی ۔ اور 20/ رمضان المبارک 1338 ھ مطابق 1920 ء کو آپ نے ساحل بمبئ پر قدم رنجہ فرمایا ۔ گرچہ مالٹا سے واپسی کے بعد صحت بگڑ چکی تھی ۔
جب حالت زیادہ تشویش ناک ہوگئی تو بغرض علاج ڈاکٹر مختار انصاری کے یہاں دہلی لے جایا گیا ۔ حکیم اجمل خان بھی شریک علاج تھے ۔ مگر وقت موعود آچکا تھا 18/ ربیع الاول 1339ھ مطابق 1921ء کی صبح کو داعئ اجل کو لبیک کہا۔
جنازہ دیوبند لایا گیا اور اگلے روز حضرت نانوتویؒ کی قبر مبارک کے قریب یہ گنجینۂ فضل و کمالات دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہوگیا ۔
مزید پڑھیں 👇
(1) ہندوستان کی آزادی اور مسلمان
(2) مولانا محمد علی جوہر! جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کے لیے زندگی وقف کردی
(3) از سرِ نو تاریخ نویسی کا معاملہ
(4) آزادئ ہند میں علماء کا کردار
(6) جنگ آزادی میں خاک وطن کے ذروں کو ماہ و انجم بنانے والی بے مثال خواتین
(7) ہندوستان کی تحریک آزادی اور مسلمانوں کا کردار
(8) تحریک آزادی میں علماء کرام کا حصہ ایک نظر میں

تبصرے