مولانا محمد علی جوہرؒ ! جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کے لیے زندگی وقف کردی

 

مولانا محمد علی جوہرؒ ! جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کے لیے زندگی وقف کردی

  اسعد اقبال یکہتوی 
" یاتو میرے ملک کو آزادی دو یا پھر مجھے کسی آزاد ملک میں دوگز زمین قبر کے لیے دو میں غلام ملک واپس نہیں جاؤں گا"۔


   ماضی قریب میں برصغیر ہندوپاک سے جتنے بھی اسلامی سورما اٹھے ان میں محمد علی جوہرؒ کی حیثیت سرخیل سے کم نہیں تھی وہ اپنی قوم اور اپنی ملت و استقبال کی زندگی تھے، انہوں نے تمامتر تکلیفوں اور پریشانیوں کے باوجود نامساعد حالات سے جنگ کی بے یاری اور بے مددگاری نے ان کی سرمستئ کار کو بار بار متزلزل کیا اس کے باوجود انہوں نے سپر نہیں ڈالی، اسلام اور بر صغیر کی سرگزشت لکھنے والا مؤرخ محمد علی جوہر کےان کارناموں کو نظر انداز کر دے یہ ممکن نہیں ، انہوں نے قوم کے خاکستری میں اضطراب کے شرر بھڑ کا کر ہمیشہ کے لیے متحرک کردیا۔
یہ مولانا محمد علی جوہر کا ہی وصف تھا کہ بر صغیر کے مسلمانوں کو جو کہ منتشر ، مفلس اور نہایت بے بسی کے عالم میں تھے ایک مرکز میں جمع کیا مولانا محمد علی جوہر نے مسلمانوں کی آزادی میں جان تک قربان کر دی تھی اگرچہ ان کی زندگی میں آزادی نہیں ملی مگر اپنے پیچھے ایک ایسا لائحہ عمل چھوڑ گئے جو ناقابل فراموش شکست تھا۔
جب مولانا محمد علی جوہر کے والد مولانا عبدالعلی صاحب کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی عمر پونے دو سال تھی ، آپ کی والدہ محترمہ "بی اماں"  28 سال کی تھیں جو کہ پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کا سہارا بنی خود اگرچہ پڑھی لکھی نہیں تھی صرف قرآن شریف پڑھا تھا اور اسی کی مدد سے اردو تلفظ کی پہچان ہو گئی تھی انہوں نے مولانا محمد علی جوہر اور بڑے بیٹے مولانا شوکت علی کو تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی باوجود خاندانی نکتہ چینیوں کے "بی اماں" نے دونوں بیٹوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی تک پڑھایا خود سستا اور موٹا لباس پہنا ، روکھی سوکھی کھا کر زندگی گزارہ کیا۔ مگر بچوں کی کسی فرمائش کو رد نہیں کیا اور نہ ہی تعلیم میں کمی آنے دی جب آکسفورڈ سے بی اے گر یجو یٹ ہو کر آئے تو ریاست رام پور میں اور افسر تعلیم مقرر ہوئے یہ تو "بی اماں" کی ہی محنت کا ثمرہ تھا کہ محمد علی جوہر اپنے بڑے چچا سے بھی اعلی درجے کے عہدے پر فائز ہوئے۔

رام پور اور بڑودہ میں مختلف عہدوں پر نہایت نیک نامی اور ایمانداری سے خدمات انجام دیں لیکن جلد ہی طبعیت اکتا گئی ، بڑی بڑی پیش کش ٹھکرا دیں اوردنیائے صحافت میں قدم رکھ کر خود کو ملک وملت کیلئے وقف کر دیا۔ یوں تو دوران ملازمت ہی چھوٹا سا انگریزی رسالہ "گپ" کے نام سے شائع کر دیا تھا جس میں لطیف اور ادبی سیاسی مضامین ہوتے تھے بعد میں ان کی مستقل تصنیف "تھائس آن انڈین دسکنٹ" (یعنی ہندوستان کے اضطراب پر چند خیالات ) شائع ہوئی ، بعدازاں ملازمت سے چنداں دلچسپی نہ رہی ، ریاست سے طویل رخصت لے لی اور پھر استعفیٰ دیدیا، 1911 ء میں کلکتہ سے بزبان انگریزی ایک ہفتہ وار  اخبار کامریڈ جاری کیا۔ مختصر ہی عرصے میں اپنی انشاء پردازی کی دھوم مچادی۔
  جب دارالسلطنت کلکتہ سے دہلی منتقل ہوا تو آپ بھی دہلی آگئے اور کامریڈ دہلی ہے ہونے لٹا چونکہ کامریڈ انگریزی زبان میں تھا اور انگریز طبقہ ان کے طرز تحریر اور خیالات سے خاصی دلچسپی رکھتا تھا اسی لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کیلئے بھی اردو زبان میں اخبار نکالا جائے چنانچہ اردو میں "ہمدرد" کے نام سے اخبار کا اجراء ہوا یہ بھی جلد ہی مقبول ہوا "ہمدرد" میں مولانا محمد علی جوہر کے قلم سے جو مضمون نکلے ان میں اتحاد مسلم اور سید جمال الدین افغانی کے سیاسی عقائد کے اثرات نمایاں تھے جن سے ان کا مطمح نظریہ تھا کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک اسلامی رشتہ میں منسلک کردیا جائے ۔
ترکی اور اطالیہ میں جنگ ہوئی تو برصغیر کے برصغیر کے مسلمانوں نے ترکوں کی مدد کے لیے بہت سا چندہ جمع کرکے قسطنطنیہ بھیجا ، اس تحریک کے روح رواں بھی مولانا محمد علی جوہر ہی تھے جزیرہ بلقان کی ریاستوں نے ترکوں سے بغاوت کی حمایت کی ، واقعہ کانپور رونما ہوا تو مسلمانوں کی سیاست ن پلٹا لیا یعنی مسلمانوں کی سب سے پہلی نمائندہ سیاسی انجمن مسلم لیگ وجود میں آئی ، اس جماعت کی رہنمائی کا شرف بھی محمد علی جوہر کو حاصل ہوا کہ مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے ۔
1914 میں یورپ کی پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی محمد علی جوہر کامریڈ میں "جو آئس آف دی ترگس" کے عنوان سے مضمون شائع کیا جس کی پاداش میں حکومت نے کامریڈ اور "ہمدرد" سے ضمانتیں ضبط کر لیں اور محمد علی جوہر کو بمقام مہرولی نظر بند کردیا ، بالآخر 25 / اکتوبر 1919 میں عفو عام شاہی کی روسے رہا ہوئے تو قوم نے جس جوش و خروش سے آپ کا خیر مقدم کیا اس کی مثال تاریخ ہند میں مشکل سے ملے گی۔
فرانس اور انگلستان نے ترکی کے ساتھ جو نار و اسلوک کیا تھا مولانا محمد علی جوہر نے سخت کرب اور بےچینی محسوس کی، رپورٹ ایکٹ نے اس بےچینی میں اور اضافہ کردیا ، چنانچہ کانگریس کا ایک اجلاس امرتسر میں منعقد ہوا، مولانا محمد علی جوہر بھی اس میں شریک ہوئے اور حکومت کے خلاف تقریریں کیں ، یہیں سے تحریک خلافت کا آغاز ہوا اور خوب ڈٹے رہے "بی اماں" نے بھی اجازت دے دی۔ ع: جان بیٹا خلافت پر دے دو
عدم تعاون کی تحریک شروع ہوئی تو مولانا محمد علی جوہر نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء کو اس تحریک میں شمولیت کی دعوت دی ، اس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی بنیاد پڑی اس کے ساتھ ہی علماء کو بھی سیاست میں حصہ لینے پر آمادہ کیا اور جمعیۃ علماء ہند قائم ہوئی ، 1920 میں جمعیۃ کی طرف سے ایک وفد یورپ روانہ ہوا۔ جو وزرائے برطانیہ ، فرانس ، اطالیہ اور باپائے روم سے ملا پھر دوسال قید کی سزا ہوئی، کراچی میں مقدمہ چلا رہائی کے بعد 1923 میں کناڈا کانگریس کی صدارت کی اس وقت تحریک عدم تعاون زوال پذیر ہوچکی تھی اور شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں وجود میں آچکی تھیں۔
1927 کے آخر میں سائمن کمیشن کا اعلان ہوا تو کانگریس کو کامل آزادی کا اختیار دیدیا گیا ، مولانا محمد علی جوہر نے سائمن کمیشن کا مقاطعہ کیا 1928 میں جب نہرو رپورٹ شائع ہوا تو آل انڈیا پارٹیز کانفرس کی کاروائی سے مولانا شوکت علی نے اختلاف کیا ، اس وقت مولانا محمد علی جوہر یورپ میں تھے یورپ سے واپسی پر انہوں نے بھی نہرو رپورٹ سے اختلاف کیا ۔
مولانا محمد علی جوہر کی زندگی ہنگامہ خیزیوں سے پرتھی ان ہنگامہ خیزیوں کے باعث بیماریوں نے آلیا ، ڈاکٹروں نے آرام کرنے کا مشورہ دیا ۔ مگر قوم کا درد تھا ، کنارہ کشی گوارہ نہ ہوئی، لندن گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے تو حالات یہ تھی کہ اسٹریچر پر لے جایا گیا ،ضعف کا عالم یہ تھا کہ کھڑے نہیں ہوسکتے تھے پھر بھی کانفرنس میں شریک ہوئے اور تقریر کی یہ آپ کی آخری اور یادگار تقریر تھی جس میں آپ نے کہا " یاتو میرے ملک کو آزادی دو یا پھر مجھے کسی آزاد ملک میں دوگز زمین قبر کے لیے دو میں غلام ملک واپس نہیں جاؤں گا"۔
اس مسیحائے قوم نے اسلام اور آزادی کی خاطر جان کو جان نہیں سمجھا ، بستر مرگ پر بھی قوم کی خدمت میں مصروف رہے رحلت سے کچھ دیر پہلے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت کے ایک بیان کی ترتیب میں مصروف تھے ان کے دماغ اور جسم ایسی سخت محنت کے کب متحمل ہوسکتے تھے ، ڈاکٹروں کا بیان ہے کہ دماغی مشقت کے باعث کوئی شریان پھٹ گئی اور اس عاشق ملک و ملت نے 4/ جنوری 1930 کی صبح کو سفر آخرت اختیار کیا اور بیت المقدس میں جگہ پائی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں