مرادآباد عیدگاہ قتلِ عام- 13 اگست 1980
*مرادآباد عیدگاہ قتلِ عام- 13 اگست 1980*
یہ آج سے ٹھیک 43 سال پہلے کا واقعہ ہے، آج ہی کے دن 13 اگست 1980 کو مراد آباد میں عید ہمیشہ کی طرح خوشیوں سے بھری تھی دو ہی دن بعد پندرہ اگست بھی آنے والا تھا تو خوشیاں دوگنی تھی۔
مراد آباد کی عید گاہ میں اس دن سب کچھ نارمل تھا لوگ عید کے دن عطر کی خوشبو لگا کر اور نئے کپڑے پہن کر عید گاہ میں عید کی نماز پڑھنے کے لیے آئے تھے۔
50 ہزار نمازیوں سے بھری عیدگاہ کے چاروں طرف اچانک PSC لگائی جانے لگی، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیوں ہو رہا ہے اور PSC کے جوانوں سے عیدگاہ کو گھیرنے کی وجہ کیا ہے؟ مگر مرادآباد عیدگاہ کو PSC کے جوانوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔
خیر نمازی عید کی نماز کی نیت کر ہی رہے تھے کہ اچانک عیدگاہ میں سور گھس آئے جب کہ عیدگاہ کے چاروں طرف اور عیدگاہ کے گیٹ پر PSC کے جوان گھڑے تھے، پھر یہ کیسے ہوگیا؟
جس کی وجہ سے معمولی بحث ہونے لگی عیدگاہ کی پچھلی صف میں کھڑے کچھ نمازیوں نے PSC کے جوانوں سے سوال جواب کرنا شروع کردیا کہ عیدگاہ کے چاروں طرف اور گیٹ پر پولیس کے کھڑے رہنے کے باوجود سور مسجد میں کیسے گھس گئے؟
نماز کی پچھلی صف میں موجود کچھ لوگ اور PSC کے جوانوں کے بیچ بحث چل ہی رہی تھی کہ اچانک PSC کے جوانوں نے پیچھے ہٹ کر عیدگاہ کی طرف بندوق کر کے فائرنگ شروع کردی اور اور عیدگاہ میں نمازیوں کی لاشیں گرنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے 400 مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔
عیدگاہ سے باہر نکلنے کا بس ایک ہی گیٹ تھا اور وہاں کھڑے پولیس کے جوانوں نے مسلمانوں کو ایک ایک کر کے گولی ماری، وہاں کے لوگوں کے مطابق بعد میں وہاں سے ایک ٹرک بھر کر خون سے لت پت جوتے چپلوں کو اٹھایا گیا۔
پردھان منتری اندرا گاندھی اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ وی پی سنگھ سرکار اور کانگریس نے اس کے لیے مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ عیدگاہ کے اندر سے مسلمانوں نے PSC کے جوانوں پر فائرنگ کی تھی۔
پھر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مرادآباد فائرنگ کانڈ کی جانچ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سکسینہ کے سپرد کر دی گئی، جسٹس سکسینہ ایک کانگریسی چمچہ تھا جو اس طرح کے معاملے کو لیپا پوتی کر کے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا کرتا تھا اور اس بھیانک قتل عام کا انجام بھی یہی ہوا۔
آزاد بھارت کے سب سے بھیانک پولیس فائرنگ کانڈ کو جسے جلیاں والہ باغ کے طرز پر انجام دیا گیا تھا، اس کیس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردیا گیا۔
بھارت میں کانگریس سرکار نے جتنا مسلمانوں کا خون بہایا، اتنا کسی نے نہیں بہایا۔

تبصرے