مسلمان متحد ہو کر اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں سیاست اسلام کا بڑا حصہ ہے جس کو اپنا نا مسلمانوں کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے
مسلمان متحد ہو کر اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں!
سیاست اسلام کا بڑا حصہ ہے جس کو اپنا نا مسلمانوں کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے
ازقلم :- محمد اطہر حبیب
سیاست بھی انسانی سوسائٹی کا ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟ قوم کی اجتماعی قیادت کرنا، ان کے لایے نظام حکومت قائم کرنا، اس نظام حکومت کا نظم اچھے طریقے سے چلانا اور اجتماعی معاملات میں قوم کی راہنمائی کرنا، اسے سیاست کہتے ہیں
حضرات انبیاء کرامؑ نے اس شعبے میں بھی وحی الٰہی کی بنیاد پر انسانیت کی راہنمائی کی، اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کرامؑ کا تذکرہ فرمایا ہے جو اپنے اپنے دور میں وقت کے حکمران بھی تھے اور دینی و مذہبی معاملات میں قائد بھی تھے۔
رسول اللہؐ کے سوا پوری نسل انسانی میں کوئی ہستی ایسی نہیں ہے کہ جس کی شخصیت اس قدر جامع ہو کہ زندگی کے ہر شعبے میں اس سے راہنمائی ملتی ہو، یہ جناب رسول اللہؐ کا معجزہ۔ سیرت پاک میں انسانی زندگی کے ہر کردار کا نمونہ ملتا ہے۔آپ ایک سیاسی لیڈر بھی تھے۔
بڑی غلط فہمی جو مسلمانوں میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ تر مسلمان یہ سمجھتے ہیں۔ کہ دین صرف ایمان و عقیدہ عبادت اور معاشرت و اخلاق کے مجموعہ کا نام ہے نماز و روزہ حج و زکوة یہ دین کا حصہ ہے اور اسلام انہیں عبادات و عقائد کے مجموعہ کا نام ہے ۔ جب کہ اسلام حکومت و خلافت سیادت و قیادت تدبیر و سیاست کے اصول و ضوابط اور طریقوں کو بھی کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ اور اس کے اصول و ضوابط کو طے کرتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں لوگوں کو عبادت و معاشرت اخلاق و معاملات کی تفصیلات بتائیں اور اس کے رہنما اصول و ضوابط دیئے، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اسلام کے سیاسی عادلانہ نظام سے بھی روشناس کرایا اور اس کے اصول و ضوابط بھی طے کئے ،لوگوں کے اندر ملی تہذیبی اور سیاسی شعور پیدا کیا، اسلام کے نظام سیاست کی خوبیوں اور اچھائیوں سے واقف کرایا ۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عبادت اور معاشرت و اخلاق کی ہی تعلیم نہیں دیتے تھے بلکہ آپ امت کے اندر ملی اور سیاسی شعور بھی پیدا کرتے تھے ۔
آج کے اس پر آشوب ماحول میں ہندوستانی مسلمان بڑی آزمائش کے دور سے گزر رہا ہے۔ حالات کس قدر متاثر ہیں۔ اس سے ہم سب اچھی طرح نہ صرف واقف ہیں بلکہ پریشاں حال بھی ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر افشانی و شرانگیزی پورے ملک میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کی جارہی ہے۔اور اسلام کے خلاف منصوبہ بند شازش ہورہی ہے ۔ مسلم لڑکیوں کی ارتداد کے اسباب، اسلامی فوبیہ کو بڑھاوا دینا، مسلمانوں کی تئی نفرت، شریعت اسلامی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، مسلم نوجوانوں کو برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب وطنِ عزیز میں مسلم قیادت کا انحطاط وفقدان عام مسلمانوں کو احساس کمتری کی جانب لے جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب پوری قوت کے ساتھ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی و سماجی، تعلیمی و اقتصادی طور پر اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ اس ملک میں اکثریتی طبقے کے محتاج بن جائیں۔
حالات کی اس سنگینی و حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ مسلمانانِ ہند اپنے اندر اتحاد اور سیاسی شعور پیدا کریں۔ عرصہ دراز سے کوشش کی جارہی ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں بحیثیت اقلیت مسلمان ہم سب متحد ہو کر اپنے اندر سیاسی شعور و بیداری کا جوہر پیدا کریں۔ مگر کئی سال کا یہ مشاہدہ بتا رہا ہے کہ ہم اس اہم کام میں دیگر اقوام کی بہ نسبت کافی تنزلی کا شکار ہیں۔ بحیثیت خیر امت ہمیں نہ صرف سیاسی طور پر اپنی صفوں میں شعور و بیداری لانا چاہئے بلکہ ہمیں سیاسی قیادت میں دیگر اقوام سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہونا چاہئے۔ ہمارا دین یہ تعلیم دیتا ہے، کہ اللہ کے ملک میں عدل و انصاف مساوات و رواداری اخوت و بھائی چارہ اور انسانی اقدار کی حفاظت کے لیے سیاسی امور کو احسن طریقے سے انجام دینا چاہئے۔ مگر دور حاضر کی منافرت سے بھری سیاست کی ستم ظریفی اس لائق نہیں ہے کہ اس میدان میں قدم رکھا جائے۔ مگر یہ بھی سچائی ہے کہ مسلمان سیاسی منظر نامے سے اگر الگ ہوتاجلاجائے گا تو ممکن ہے کہ مکمل طور پرمسلمانان ہند کو حاشیے پر کردیا جائے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں ایسےسازشی دور میں ملت اسلامیہ کی بقا کی خاطر سیاسی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
اور کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کی روشنی میں عوام الناس نیز ہر طبقے کی قیادت میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی جانب توجہ کرنی پڑے گی اور اس صداقت پر توجہ کرنی ہوگی، کہ ہر مسلمان، ہندوستان جیسے ملک میں کس طرح اپنی زندگی و بندگی کے خطوط متعین کرتے ہوئے سیاسی استحکام کی جانب اقدام کرے۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے، ہر طرح کے اختلاف سے اجتناب کریں۔
اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یاد رکھیں کہ آنے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ہم متحد نہ ہوئے اور سیاسی شعور و بیداری اپنی صفوں میں پیدا نہ کر سکے تو اس کا خمیازہ پوری ملت کو بھگتنا پڑے گاجس کے بڑے بھیانک و مہیب اثرات مرتب ہوں گے اور ہماری آنے والی نسلیں کبھی ہمیں معاف نہیں کر پائیں گی۔

تبصرے