اُس پری زاد کے نام
غزل
اُس پری زاد کے نام
پاس آ وجہِ اطمنان تو بن
باعثِ سرخروئے جان تو بن
تپتے صحراؤں میں سرابوں میں
عکسِ امیدِ سائبان تو بن
حاتم وقت بعد میں بننا
پہلے تو میرا میزبان تو بن
رسمِ دُنیا سے کوئی شکوہ نہیں
اوّلا صاحبِ مکان تو بن
جذبہء پارسائی سے پہلے
کِسی دشمن پہ مہربان تو بن
فخرِ اجداد بن تو بن ورنہ
حد معیارِ خاندان تو بن
گل کھلیں گے حیاتِ نو کے نواز
شاد رہ، شاخِ کامران تو بن

تبصرے