دارالعلوم وقف ایک علمی، فکری، تحریکی اور تجدیدی ادارہ ہے!

 دارالعلوم وقف ایک علمی، فکری، تحریکی اور تجدیدی ادارہ ہے!


محمد افضل حسین



مادرِ علمی دارالعلوم وقف دیوبند کے بنیادی مشائخِ عظام "حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی، علامہ انظر شاہ صاحب کشمیری، مفسرِ قرآن حضرت مولانا محمد نعیم صاحب دیوبندی، مفتئی اعظم حضرت مولانا محمد خورشید صاحب عثمانی، امام المنطق علامہ حسن صاحب باندویؒ، علومِ نانوتویؒ کے ترجمان خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی، بےمثل منتظم متکلم اسلام حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی، دارالعلوم وقف سے بےانتہاء محبت کرنے والے حضرت مولانا ومفتی محمد مشتاق صاحب قاسمی، علومِ نانوتویؒ کے شارح بحر العلوم حضرت مولانا محمد غلام نبی صاحب کشمیری، تقریر وتحریر میں یکتائے عصر حضرت مولانا محمد نسیم اختر شاہ قیصر صاحب مسعودی، عظیم محدث، مفسر اور مائےناز ادیب وانشاءپرداز حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی (رحمھم اللہ تعالیٰ رحمة واسعة) نبیرئہِ حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی (مہتمم دارالعلوم وقف) حفیدِ کشمیریؒ حضرت مولانا محمد احمد خضر شاہ صاحب مسعودی کشمیری (شیخ الحدیث دارالعلوم وقف) عارف باللہ حضرت مولانا بابا فرید الدین صاحب قاسمی (شیخِ ثانی دارالعلوم وقف) اور علامہ قمر صاحب عثمانی" (عمرّکم اللہ تعالیٰ) نے جو کہ علم وعمل، فکر ونظر، اخلاص وللہیت، ورع وتقویٰ، زہد وغنا، عزم وہمت کے پیکر تھے، انہوں نے دارالعلوم وقف کو اپنے خونِ جگر سے سینچا، پروان چھڑایا اور ایک امتیازی شناخت تک پہنچایا ان نفوسِ قدسیہ نے ہم فضلاءِ جامعہ کو اپنی تقریر وتحریر میں یہ درس وپیغام دیا کہ دارالعلوم وقف مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقیؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، حجة الاسلام الامام محمد قاسم صاحب نانوتویؒ، ثانئیِ امام ابوحنیفہ حضرت مولانا محمد رشید احمد صاحب گنگوہیؒ، بحر العلوم حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ جیسے اکابر کے افکار وانظار اقدار و روایات کا محافظ، امین اور پاسدار ہے، لہذا ان کے الفاظ ومعانی اور احساسات وجذبات کی ان الفاظ میں ترجمانی کی جاسکتی ہے کہ دارالعلوم وقف ایک علمی، فکری، تعمیری، تعمیقی، تجدیدی، تحریکی اور انقلابی ادارہ ہے جہاں طالبین علومِ نبوت کے فکر ونظر کو ایک صحیح رخ دے کر اس کو سنوارا، نکھارا اور پروان چڑھایا جاتا ہے ـ

دلی دعاہےکہ رب کریم ان تمام اکابر کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی مخلصانہ خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے لگائے ہوئے خوبصورت پودے "جو اب شجرِ سایہ دار بن چکا ہے" اور ہم مستفدین کی جانب سے بہترین جزا عطا فرمائے اور جو باحیات ہیں ان کو صحت وعافیت کے ساتھ عمرِ دراز عطا فرمائے… آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں