سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں نقوشِ یَکْہَتْوِی سال نو کی تقریبات اور ہماری ذمہ داریاں نقوشِ یَکْہَتْوِی دنیا بھر میں سال نو کے آغاز پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں سے بعض تقریبات میں غیر اسلامی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو اس موقع پر خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان غیر شرعی اعمال میں ملوث نہ ہوں جو ان کی دنیا اور آخرت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سال نو کا موقع صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے گزشتہ سال کو کیسے گزارا اور نئے سال میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ ہم اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ان مسائل کا جائزہ لیں گے۔ 1. وقت کی قدر: اسلامی تعلیمات میں وقت کی اہمیت اسلام میں وقت کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر اس کی قدر و قیمت بیان کی ہے: "وَالْعَصْرِ، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ" (سورۃ العصر: ) "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔" یہ آیت ہمیں بتاتی...
تبصرے