خیالات کا سفر
خیالات کا سفر
استاذ مکرم حضرت مولانا اسلام صاحب قاسمی
محمد شمس قمر سہرسہ
متعلم شعبہ افتاء دارالعلوم وقف دیوبند
کہ لیجئے میرا گھر اور میرا آنگن دارالعلوم وقف ہی رہا روز صبح و شام اسی کی چہار دیواری میری قسمت کا فیصلہ لئے کبھی یہاں بلاتی اور کبھی وہاں ، میں یہاں وہاں سرگرداں کئی چہرے دیکھتا ، کسی پر اچٹتی نگاہ تو کسی پر غور کی نظر ، کچھ شخصیات سامنے ہوتیں کچھ اساتذہ ہوتے تو کچھ طلبہ سبھی اپنی ہئیت میں مگن، لیکن کیا پوچھئے میرے ممدوح مشفق و مکرم حضرت مولانا محمد اسلام قاسمی صاحب بے مثال محقق بے مثال عالم دین بے مثال استاذ اگر مبالغہ نہ سمجھیں تو میں ایک ادنی طالب علم ان کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے صرف یہ کہ دوں کہ۔بہت بڑے تھے تو شاہد آپ کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو، مولانا کی مجلس مولانا کا چلنا پھرنا، مولانا کے ہم نوا، ہم نفس، ہم رفیق ایسے لوگ تھے جو ہر ایک کی دلوں کے سکون تھے، میرے مربی، میرے قلمی نوک سنوارنے والے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر بھی ان کی مجلس ان کی ہمنوائی کے رفیق اور یار غمگسار ہنستے کھیلتے ساتھی تھے، ہم بچے تھے ان کی مجلسوں کے بیچ کبھی چائے پلانے کا موقع ملا کبھی پانی پلانے پہونچے کبھی کسی کام سے ان کی نگاہوں کے پاس سے ہوکر گزرے ، نہ پوچھئے کیا لمحات ہوتے تھے ہم انہیں دن بھر اپنے تذکرے میں دوستوں کے سامنے بیان کرتے ، دورہ کے طلبہ جب مولانا کا درس سن کر آتے تو خاص طور پر تاریخ کے حالات اس انداز پر دہراتے کہ ایسا لگتا مولانا نے صاف صاف دکھا دیا ہو، اور خوب دہراتے کہ ہمیں بھی یاد ہو جاتا ، ان دنوں میرے ایک ساتھی کو میں ضد کرتا تھا کہ آپ مولانا کے طرز پر ڈانٹ کر بتائیے کہ ان دنوں ہم مولانا کی آواز نہیں سن پارہے ہیں_
وجہ یہ بن رہی ہے الفت کی کہ میں سال دوم عربی سے مولانا کو دیکھتا رہا ، دیکھئے قسمت کہ سال گذشتہ دورہ حدیث میں پہونچا تو باضابطہ مولانا سے مسلم شریف کے درس میں تلمذ کا شرف حاصل ہوا ، لیکن ہائے قسمت وہ جاہ و جلال وہ انداز وہ محفل کی زینت وہ پر وقار چہرہ اب ضعف اور بیماری سے مضطرب تھا ، کچھ اچاٹ سا تھا کچھ اداس سا تھا ، ہم گھر پر کر پہونچ جایا کرتے تھے ،پہلی دفعہ ہی گھر کی ملاقات میں انہوں نے ہماری غلطی پر ٹوکا کہ میں مدرسہ کم آتا ہوں تو تم میں تربیت کی کمی دیکھ رہا ہوں، آہ کاش آپ آتے اور کان پکڑ کر سکھا دیتے ، میں بچپن کے مولانا اسلام کو ڈھونڈتا ان کے گھر پہونچ جاتا تھا، پھر دعائیں لےکر واپس آجانا تھا ، کئی ملاقات رہی ایک دن درسگاہ میں اپنی علالت کی کچھ داستان چھیڑ دی تو آبدیدہ ہوگئے اور ہمیں بھی آنسووں سے رلا گئے_
دورہ کا سال پورا ہوا ان کی کتاب کی آخری دعا مفتی احسان صاحب قاسمی ندوی نے کرائی ، اب مایوسی ہماری ناامیدی سے ہوکر یقین میں بدلنے والی تھی ، اب میں سال افتاء میں ہوں ، گزشتہ شب ہی طلبہ راجستھان کی انجمن میں شرکت کا موقع ملا، مولانا سکندر صاحب ساتھ تھے ، آپ نے خبر دی کہ میں اور مولانا فرید الدین صاحب قاسمی، استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند مل کر آئے ہیں لیکن اب حالت پہلے سے کچھ بہتر نہیں ہے ، دیکھئے کہ کہاں یہ سوچتے رات گزری صبح اطلاع ملی کی خوابوں کا محل ویران ہوگیا ، مولانا خود میں مگن ہو گئے ، اور ہمیں سوچنے پر مجبور کر گیے ، بے چین قدموں سے کچھ وقفہ بعد دولت کدہ محلہ خانقاہ حاضر ہوا بس تقریبا دن کے گیارہ بج رہے تھے_ مولانا سکندر صاحب جو پہلے سے موجود تھے مجھے وہیں روک کر خود ادائگی نماز جمعہ کے لئے مدرسہ تشریف لے گئے ، میرا دل بھی مولانا کو چھوڑنے کا نہ ہوا اور رات جنازہ کے وقت تک ساتھ رہنے کا ارادہ کر لیا ، ساڑھے تین بجے قریب جنازہ کو نہلایا گیا مجھے بھی مولانا سکندر صاحب نے ساتھ لیا اور درمیان میں طریقہ غسل سمجھاتے بھی رہے ، میں سوچتا تھا کہ وداع ہونے والے کو کوئی ایسے تیار کر کے خود کیوں فرقت سر لے لیکن گیتی عالم ہے نظام شریعت ہے اس سے اوپر ہم کیا خوبصورتی دیکھیں ، ساتھ مفتی اظہار صاحب قاسمی، مولانا خالد نثار صاحب بھی تھے اور کچھ معاون ساتھی تھے_
زنان خانہ سے احرام کا کپڑا بھیجا گیا کہ اسے کفن میں شامل کر دیا جائے تو مولانا سکندر صاحب نے اسے ایک کپڑے کی جگہ رکھ دیا اور بقیہ ۔ معمول کے مطابق کفن رہا ، اب مولانا سجے سنورے تیار ہیں ، کیا خوب زندگی ہے ،آخری دیدار کے لئے آنے والوں کا تانتا ہے وہیں پاس پڑی کرسی پر میں ادھیڑ پڑا رہا اور آنے جانے والوں کے چہرے نہارتا رہا شام ہو چکی تھی ، بھیڑ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی، میں کمرے سے باہر نکل آیا اور باہر منتظر اساتذہ اور ساتھیوں کے ہمراہ ترتیب سے سڑک کنارے لگی کرسی پر بیٹھ گیا، اب تذکرہ ہے ، اور جنازہ کے وقت کی الٹی گنتی شروع ہے جیسے جیسے وقت کٹ رہا ہے ، افسوس اور جدائیگی کے لمحات زور پکڑتے جارہے ہیں، نو بجنے کے قریب دوبارہ داخل ہوا تو استاذ نے حکم دیا کہ چند ساتھیوں کے ساتھ جنازہ اٹھاو اور مولسری تک پہونچاو ، ایک ہجوم نے ساتھ دیا اور بڑے اہتمام کے ساتھ ہم بزرگوں کی جائے جنازہ احاطہ مولسری پہونچ گئے ، دس بجے حضرت مولانا فرید الدین صاحب قاسمی، جسے پیار سے بچے بوڑھے سبھی بابا کہتے ہیں، انہوں نماز جنازہ پڑھائ ، اب عاشقان کا ایک ہجوم ہے جو ٹلنے کا نام نہیں لے رہا ہے، کسی دقتوں کے ساتھ جنازہ کو قاسمی قبرستان کے لئے روا نہ کیا گیا ، اب پھر میری وہی کیفیت ، میرا جسم اس لائق نہ تھا کہ بھیڑ کی ادیڑ بن کو برداشت کروں ، پھر بھی شامل ہو گیا اور جنازہ کو آگے بڑھانے لگا ، جائے قسمت کافی بچوں کی طرح میرا چپل میرا ساتھ چھوڑ گیا اور ٹوپی سرسے نیچے چلی گئی ، میرے ساتھ رفیق مکرم سالم گورکھپوری فرحان سہرسہ نے مجھے روک دیا اور میری ٹوپی ڈھونڈنے لگے ، اب میں دوبارہ کوشش کرکے آگے پہونچا اور قبر کے پاس پہونچ گیا ، راستہ بناتا رہا تاکہ جنازہ آسکے ، طلبہ کا جوش بہت زیادہ تھا ، ایک استاذ مثل بادشاہ ہوتے ہیں ، کون تھا جو اس آخری وقت میں آپ کو کاندھا نہ دینا چاہتا ہو کسی طرح جنازہ بالآخر قطر تک پہونچا_
مولانا بدر الاسلام قاسمی جو حضرت الاستاذ کے صاحبزادے ہیں، وہ اور مولانا سکندر صاحب قبر میں اترے، مٹی ڈالنے کے بعد مولانا سکندر اعظم قاسمی صاحب کے ساتھ وہیں کھڑے ہوکر کچھ تلاوت اور دعا کی_
ابھی یہاں سے فارغ ہوئے کہ مفتی حسنین ارشد قاسمی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند اور مولانا احمد فراز صاحب ناظم تنظیم و ترقی نے حکم دیا کہ مولانا شکیب صاحب کی جانب سے مولانا کے گھر کھانے کا نظم ہوا ہے آپ چند ساتھیوں کے ساتھ وہاں جاکر مہمانوں کو کھانا کھلادیں، ہم پہونچے تو ابھی بھی بہت سے اساتذہ جو مٹی دیکر واپس آئے تھے وہ بدرالاسلام صاحب کو تعزیت پیش کرنے کے لئے ان کے گھر پر منتظر تھے ، ہم نے مہمانوں کو کھانا کھلایا ، بدر الاسلام صاحب بھی کچھ بہت ہی کھا سکے دن بھر کے بھوکے تھے، مولانا کے گھر ان کے بڑے بھائی آئے ہوئے کچھ اور مہمان تھے،نم آنکھوں تمام کارروائی کے بعد ہم تقریبا بارہ بجے شب مدرسہ واپس آئے_
اللہ حضرت الاستاذ کی بال بال مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ___آمین

تبصرے