اسلام میں عورتوں کا مقام و مرتبہ
اسلام میں عورتوں کا مقام و مرتبہ
عورتوں پر زور زبردستی اور مردوں کی خوشی و خواہش کا تسلط بھی قران کے خلاف ہے۔ اللہ تعالٰی مردوں کو مخاطب کر کے واضح حکم دیتا ہے کہ "یہ قطعا حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن جاؤ"۔ (سورۃ نساء آیت 9) قرآن کہتا ہے کہ خانگی زندگی میں سامان رزق کی فراہمی کا ذمہ دار مرد ہے۔ (سورہ نساء آیت (۳۴) لیکن اس آیت کا دوسرا مفہوم لے کر عورت پر مردوں کی حکمرانی و تسلط جتایا جاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ ہیں۔ "الرجال قوامون علی النساء" یعنی مرد و عورتوں پر قوام بنائے گئے ہیں۔ لفظ قوام کا مطلب عام طور پر حاکم ، داروغہ، تسلط رکھنے والا وغیرہ لیا جاتا ہے۔ جس سے کہ عورتوں پر مرد کی فوقیت اور اُس کا اقتدار ظاہر ہوتا ہے جبکہ قوام کے معنی ہیں سامان رزق مہیا کرنے والا۔ ذمہ دار محافظ و نگہبان۔
قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کام کرنے والے کا اجر ضائع نہیں کرتا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت وہ ایک دوسرے کا جزو ہیں۔ (سورۃ آل عمران: نساء،نحل، مومنون، مومن ، حدید ) اسی طرح بتایا گیا ہے کہ مرد اگر جرم کرے تو اس کی سزا اُسی کو ملے گی اور عورت مجرم ہو تو اس کی سزا اُسی کو ملے گی۔ (سورہ بقرہ، آیت ۱۷۸) قرآن میں جو خصوصیات مردوں کی ہیں وہی خصوصیات ٹھیک اُن ہی الفاظ میں عورتوں کی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔ (سورۃ احزاب آیت ۳۵) اور (سورۃ تحریم آیت (۵) قرآن حکیم بتاتا ہے کہ بعض خصوصیات میں مرد افضل ہیں تو بعض میں عورتیں اُن سے افضل ہیں۔ (سورۃ نساء آیت (۳۴) قرآن عظیم کہتا ہے کہ بنی آدم سب احترام کے قابل ہیں۔ (سورۃ بنی اسرائیل آیت ۷۰) اور بنی آدم میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ قرآن امر بالمعروف ونہی عن المنکر جیسے اہم فریضے میں بھی عورت اور مرد دونوں کو برابر کا شریک کہتا ہے۔ (سورۃ توبہ، آیت ٧١ ) وہ عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے۔ (سورۃ بقرہ آیت (۱۸۷) اس لیے ضروری ہے کہ ایک صالح معاشرے کے قیام میں اسلامی نظام کی تشکیل کے لیے عورتوں کو ان کا بیج مقام دیا جائے ، تا کہ ماں، بیوی، بہن اور بہو کی حیثیت سے اسلام نے عورت کو جو درجہ دیا ہے اس سے معترض واقف ہوں اور عورتیں بھی اس پر فخر و ناز کرسکیں۔

تبصرے