لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں
لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں
(1) لڑکی کا مزاج خندہ پیشانی والا بنائیں کیونکہ وہ دوسرے کے گھر کی امانت ہے، لہذا امانت دینے کے بعد وہاں سے کوئی شکایت نہ آنے پائے۔ پس جب لڑکی خندہ پیشانی والی ہوگی تو ہر طرح کی آزمائش کا مقابلہ کر کے عزت کو باقی رکھے گی ۔ اس لیے تو اضع والا مزاج ضروری ہے۔
(۲) لڑکی کو سسرال کے افراد کے بارے میں اور خاص طور سے اس کو شوہر کے بارے میں مفید معلومات کرانا ضروری ہے۔ گھر میں رہنے سہنے کے تمام آداب و تمیز بتانے چاہئیں اور سسرال کی اہمیت کو بتانا چاہیے۔ بے ہمتی، احساس کمتری والی بات اور ایسی بات جس سے سسرال سے نفرت پیدا ہو جائے ، ہرگز نہیں بتانی چاہیے۔ اس طرح لڑکی کے سامنے اس کے شوہر کی تعریف کرنی چاہیے تا کہ اس کو شوہر سے محبت پیدا ہو۔ بعض والدین یا رشتہ دار کسی معمولی سی بات پر لڑکی کے سامنے اس کے شوہر کی غلطی بیان کرتے رہتے ہیں، یا اس کو ذلت کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جس سے عورت کو اپنے شوہر سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ لہذا لڑکی کے سامنے شوہر کی شکایت کرنا لڑکی سے محبت نہیں عداوت ہے۔
(۳) شکوہ کا مزاج بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ چوری ،جھوٹ بدزبانی ، منہ پھلانا، بات بات پر بہت بولنا، ہر بات کا جواب دینا، ہر ایک کے سامنے پھٹ سے بول دینا، ان چیزوں سے منع کرنا چاہیے۔
(۴) گھریلو کام، کھانے پکانے کا اعلی طریقہ، رہائش کی عمدگی ، پاکی صفائی کا خیال اور مہمان، ہر بڑے کے اکرام کا اور چھوٹے پر شفقت کا علم دینا چاہیے۔
(۵) کاہل وسست ہرگز بننے نہیں دینا چاہیے ، بلکہ گھر کے تمام کاموں کو چستی کے ساتھ بچی سے کرانا چاہیے تاکہ سسرال میں اسے کوئی دقت پیش نہ آئے ۔ بعض والدین اپنی بچی سے کچھ کام نہیں کراتے ہیں اور کسی نے اس کو کچھ کام کرنے کو کہہ بھی دیا تو اس سے لڑتے ہیں ۔ یہ بات بہت غلط ہے۔ لڑکی سے جتنا کام کرائیں گے اتناہی اچھا ہے کہ وہ گھر یلو کام میں پھرتیلی اور تیز بنے گی اور سسرال میں عزت و آبرو والی ، چست و چالاک اور ہر دلعزیز رہے گی۔
(۶) بچی کو نماز، روزے اور قرآن کی تلاوت کی عادت ڈالنی چاہیے اور بات چیت کرنے کے آداب بتانے چاہئیں۔ سلائی وغیرہ بھی سکھا دینا چاہیے۔ یا اور کوئی ہنر سکھا دینا چاہیے۔
(۷) زیادہ ہنسنا، زیادہ بولنا اسی طرح ہر وقت خوب زور سے ہنسنا کسی بھی آدمی کا خیال نہ کرنا، لڑکوں والی عادت اختیار کرنا، خوب دوڑنا اچھلنا کودنا، جلدی بازی میں کام کرنا، ہر ایک سے مذاق کرنا اور مرد بچوں کے ساتھ رہنا یہ سب لڑکی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان تمام عادات سے والدہ کو اپنی بچی کی حفاظت کرنی چاہیے۔
(۸) گھر سے باہر کسی کے ساتھ گھومنے میں زیادہ دیر نہیں لگانے دینا چاہیے۔ ضرورت کے کام کے بعد فورا گھر چلے آنے کی تاکید کرنی چاہیے۔
(9) علم، پردہ، اخلاقی تعلیم محبت سے رہنے کی تعلیم ضرور دینی چاہیے۔
(۱۰) جب بچی بالغ ہو جائے تو اسے شادی کے تعلق سے اور جوانی کی خاص ضروری باتیں بتادینی چاہئیں۔ تا کہ شادی کے بعد وہ بوجھ سمجھ کر سسرال سے نفرت نہ کرنے لگے۔
(۱۱) شادی کے بعد کی زندگی کے گزران اور سسرال کی سختی، راحت کے ماحول کے بارے میں بتانا چاہیے اور یہ باور کرانا چاہیے کہ سسرال عورت کے لیے دارالامتحان ہوتا ہے، وہاں ہر کڑوی، کسیلی بات کو سننا پڑے گا، ان تمام باتوں کو برداشت کر کے سسرال کے لوگوں کو اپنا لینا چاہیے۔
(۱۲) بچی کو رات میں جلدی سلا دینا چاہیے اور صبح سویرے اٹھنے کی عادت بنانی چاہیے۔
(۱۳) پاکی، صفائی اور طہارت کی ضروری باتیں بتادینی چاہئیں۔ اور ازدواجی زندگی کی ابتدائی باتیں اور مسائل بہشتی زیور سے بتا دینے چاہئیں۔
(۱۴) شرم و حیا اور عزت والی عادت ڈالنی چاہیے۔
(۱۵) شوہر کی باتوں کو اور ہر راز والی بات کو راز میں ہی رکھنے والا مزاج بنانا چاہیے۔
(۱۶) سسرال میں خاص طور سے شوہر اور شوہر کے والدین اور شوہر کے بھائی، بہن سے حسن سلوک کرنا چاہیے اور اچھے تعلقات پردے کے ساتھ رکھنے چاہئیں۔ پھر کسی جھگڑے کا انشاء اللہ مسئلہ نہیں رہے گا۔
(۱۷) بچی کی اپنی قسمت اور شوہر کی حیثیت اور ان کے وقار کو بچی کے مزاج میں بٹھانا چاہیے۔
(۱۸) خلاصہ کلام یہ کہ والدین کو اپنے بچہ اور بچی کی ان کے جوان ہونے تک اور شادی بیاہ کے زمانے تک ٹھیک اسی طرح حفاظت کرنی چاہیے جس طرح ایک باغبان اور ایک مالی اپنے باغ اور پھول سے نفع اٹھانے کے لیے محنت و مشقت کرتا ہے۔ تب وہ پھول سے اور باغ سے نفع حاصل کرتا ہے۔ تب والدین کو اس اولاد سے خیر کی امید کرنی چاہیے۔ انشاء اللہ ایسی محنت سے پرورش کرنے والے والدین کبھی بھی اپنی اولاد سے مایوس نہیں ہوں گے۔




تبصرے