فتنۂ ارتداد سے ہماری حفاظت!!!

 فتنۂ ارتداد سے ہماری حفاظت!!!

از قلم: محمد آفتاب ہاشمی :

    


 قاریین کرام:  ایک مسلمان کے لئے ایمان و اسلام سب سے عظیم نعمت اور دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اسی پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا مدار ہے۔ دنیا میں عزت و افتخار ، عروج و بلندی ، شان و شوکت اسی ایمان سے وابستہ ہے اور موت کے بعد کی دائمی زندگی میں راحت اور سکون اور وہاں کے ناقابل تصور عذاب سے نجات بھی اسی سے متعلق ہے ،جس نے دنیا سے جاتے ہوئے اپنے ایمان کو بچا لیا اور کلمہ ٔ شہادت پر یقین رکھا اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں صاف لفظوں میں بتا دیا گیا ہے کہ وہ کامیاب ہے۔ اگر بعض گناہ کے سبب جہنم میں جانا بھی پڑا تو ایک متعین وقت کے بعد وہاں سے نکال لیا جائے گا اور جنت میں داخل کیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گاجو ایک انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس لئے ایک شخص کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔ حالات جیسے بھی ہوں ، موافق ہوں یا مخالف ، تنگ دستی ہو یا خوش حالی ، بیماری ہو یاتندرستی ،اپنے ایمان کی فکر کرے اور ہر حال میں اس پر استقامت اختیار کرے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو اس کی ہدایت دی ہے اور ایمان کے ساتھ رہنے اور ایمان کی موت مرنے کی تعلیم دی ہے۔

بہر حال :یہ دور فتنوں کا دور ہے پورے عالم میں  خیر وشر کی کشکمش چل رہی ہے، کہیں لوگ اسلامی کی  خوبیوں کو جان کر اسلام کی طرف  مائل ہورہے ہیں  تو کہیں  مغربی تہذیب وتمدن کےفروغ سے نوجوان دین اسلام سےبیزاری کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ،  جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جارہے ہیں ،اتنے ہی فتنے  بڑھتے جار ہے ہیں،ان فتنوں میں ایک فتنۂ ارتداد بھی ہے ،اس فتنے کی زہریلے اثرات مسلم معاشرہ میں تیزی سے پھیل ر ہے  ہیں ،رات دن مسلم خواتین کو مرتد بنانےکی کوششیں کی جارہی  ہیں،نوجوان بچیاں اسلامی تہذیب اور اسلامی  تعلیمات کو چھوڑ کر کفر والحاد کے راستہ پر چل پڑی ہیں ،غیر مسلم آسانی سے ان بچیوں کواپنی طرف کھینچنے میں کامیاب  ہورہے ہیں ۔ارتداد امت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اپنوں کا دین اسلام سے پھر جانا او رمرتد ہوجانا بڑے دکھ کی بات ہے۔

صورت ِ حال اتنی سنگین ہوچکی ہے کہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے ایمان پر ڈاکے پڑرہے ہیں ،حضرت نبی اکرمﷺ کی محبت آپ سے عقیدت،آپ کے امتیازات،آپ کی خصوصیات ،ایک مومن کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی جو عظمت ہے،اور آپ کا جو مقام ہے اس کو داغ دار کیا جارہاہے اور اس پر چوٹ لگائی جارہی ہے،اور جھوٹے مدعیانِ نبوت لبادے بدل بدل کر ہمارے درمیان آرہے ہیں ،ہماری نسلوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ،انہیں دین سے بیراز بلکہ دین مخالف اور دین دشمن بنارہے ہیں ،ایمان سے ان کو خالی کررہے ہیں ،اگر ایسے موقع پر بھی ہماری ایمانی حمیت اور ایمانی غیرت میں جوش پیدانہیں ہواتو یہ زندگی بیکار ہے،کسی کام کی نہیں ۔


 مسلمان کبھی اپنی عددی اکثریت کی بناء پر، تعدادکی بناء پر نہ کامیاب ہوا،نہ غالب ہواہے۔اصل طاقت ہے تو اس کے ایمان کی طاقت ہے،اس وقت اس کے ایمان کی قوت ہے،اللہ پر بھروسہ کی طاقت ہے،اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھنے کی طاقت ہے،اگر یہ رشتہ مضبوط ہے اور اس میں رخنہ ڈالنے والے تمام راستوں کو بندکردیا گیا ہے تو ظاہری حالات خراب ہوں ،معاشی اعتبار سے ،دنیوی اعتبار سے لیکن کامیاب ہوں گے،اور اگر سرکاری ملازمتوں میں ریزویشن بھی مل جائے ،اعلی ملازمتیں حاصل ہوجائیں ،تعلیمی ڈگریاں زیادہ سے زیادہ ہمارے نوجوانوں کو مل جائیں ،اور دنیوی اعتبارسے کامیابی کے جتنے نقشے تصور کئے جاتے ہیں اس کے اعتبار سے ان کو ترقی مل جائے،لیکن اس کے ساتھ ایمان و عقیدہ کا بگاڑ بڑھتا چلاجائے تو یہ ترقی نہیں بلکہ تنزلی ہے اور باعث ِ تشویش ہے۔ اللہ ہم تمام کو ہر طرح کے فتنہ سے محفوظ فرمائے اور خصوصاً ہمارے مسلم بہنوں کو فتنۂ ارتداد سے محفوظ فرمائے اور ان کے والدین کو عقل سلیم عطاء فرمائے آمین ثم آمین ۔

والسلام ۔


مزید یہ بھی پڑھیں.👇👇

 اسلام میں عورتوں کا مقام و مرتبہ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں