عہد نبوی کا معاشرہ اور آج کا مسلم سماج

 عہد نبوی کا معاشرہ اور آج کا مسلم سماج



ہماری سوچ کا یہ عجیب پہلو ہے کہ مسلمان عورت کے آئی اے ایس بننے پر ہمیں اعتراض ہوتا ہے۔ اسے پائلٹ بن کر ہوائی جہاز اڑاتے ہوئے ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اسے پارلیمنٹ اور اسمبلی میں بھی ملی ملکی اور سماجی مسائل پر آواز اٹھاتے ہوئے ہم پسند نہیں کرتے مگر گھر میں جھاڑو، برتن کرانے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ بچوں کی غلاظت صاف کرانے اور نوکروں کے کام کاج کرانے میں کوئی قباحت نہیں محسوس کرتے، بلکہ نوکروں کو تو صرف آٹھ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے ،مگر عورت بغیر تنخواہ کی نوکر ہے جو چوبیس گھنٹے سروس دیتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ ہمارے علماء کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ہے۔ کیا ملکہ ایسی ہی ہوتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ سماج میں اعلیٰ مقام صرف اسے ملتا ہے جس کے پاس پیسے ہوتے ہیں اور مسلم سماج نے خواتین کے کام کاج پر پابندی لگا دی ہے جس کے سبب وہ خود فیل نہیں ہوتیں اور ہمیشہ مردوں کی دست نگر رہتی ہیں۔ انھیں مرد کی ہر نازیبا بات صرف اس لیے برداشت کرنی پڑتی ہے کہ وہ ان کا خرچ چلاتا ہے۔ اس سوچ میں اگر چہ اب تبدیلی آرہی ہے، مگر اس کی رفتار بہت سست ہے۔ تاریخ و سیرت کی کتابیں گواہ ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت خدیجہؓ ایک تجارت پیشہ خاتون تھیں اور زمانہ جاہلیت میں بھی ان کے کام کاج کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماتحت کام کیا اور آپ کی مردانہ حمیت کو کبھی اس بات سے ٹھیس نہیں پہنچی کہ ایک عورت کے ماتحت کام کریں۔ حضرت خدیجہ کے عالم اسلام پر بہت احسانات ہیں کہ انھوں نے اپنی دولت کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی خدمت پر نچھاور کیا۔ انھوں نے سب سے پہلے اسلام کا پیغام قبول کیا اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ ان کے انتقال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شادیاں کیں، ان میں ایک حضرت زینب بنت جحش بھی تھیں جو چمڑے کے کاروبار سے وابستہ تھیں اور اپنی کمائی سے جو کچھ حاصل کرتیں۔ اس کا بیشتر حصہ اللہ کے راستے میں خیرات کر دیا کرتی تھیں۔ ان دو واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ عہد رسول میں خواتین کے کام کاج کرنے اور پیسے کمانے پر کوئی پابندی نہیں تھی، بلکہ خود رسول اللہ کے گھر کی خواتین کماتی تھیں۔ اسی طرح سیاسی ، سماجی مسائل پر بھی خواتین کی رائے اہمیت کی حامل ہوتی تھی اور ان کے مشوروں کا خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پاس رکھتے تھے۔ آپ اپنے گھر کی عورت سے مشورے کیا کرتے تھے اور یہ خواتین جنگوں میں بھی شامل ہوتی تھیں اور اسلام کی حفاظت کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ لڑتی تھیں۔ حالانکہ اسلام نے خواتین پر جہاد فرض نہیں کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد تو حضرت عائشہؓ  نے سرگرمی کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیا تھا۔ اسلام نے کماکرگھر چلانے اور بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی مردوں پر ڈالی ہے لیکن اگر وہ کمانا چاہیں اور آگے بڑھنا چاہیں تو اسلام نے اس سے انھیں روکا بھی نہیں ہے۔ کام کاج اور سماجی ایشوز میں عورت کو حصہ لینے سے روک دینے کا مطلب یہ ہے کہ آدھے مسلم سماج کو برف لگا دینا اور اسے ناکارہ بنا دینا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں