ہولی (Holi)
ہولی ( Holi )
ہولی موسم بہار میں منایا جانے والا ہندومت کا مذہبی اور عوامی تہوار ہے ۔ یہ تہوار ہندو کیلنڈر کے مطابق 15 بھاگن "جو کہ عیسوی کیلنڈر کے مطابق مارچ کے مہینے میں آتا ہے"کو منایا جاتا ہے ۔ یہ تاریخ پورما کہلاتی ہے ۔ رنگوں کا یہ تہوار روایتی طور پر دو دن منایا جا تا ہے اور ان دنوں ہندو ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر تفریح سے محفوظ ہوتے ہیں ۔لوگ ایک دوسرے کورنگنے اور گانے بجانے کے بعد غسل کر کے نئے کپڑے پہن کر ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے ہیں ، گلے ملتے اور مٹھائیاں کھلاتے ہیں ۔ اکثر گھروں کے آنگن کو رنگوں سے مزین کیا جا تا ہے اور محفلوں میں بھنگ کا بھی خاص اہتمام ہوتا ہے ۔ پورے ہندوستان سمیت ان تمام ممالک میں مختلف ناموں کے ساتھ رنگوں کا یہ تہوار منایا جا تا ہے جہاں ہندوؤں کی آبادیاں موجود ہیں۔ ہندوستان کے کئی قدیم مندروں کی دیواروں پر اس تہوار جیسے جشن کی تصاویرملتی ہیں ۔
یہ تہوار ہندوستان میں جس قدر قدیم ہے اس کی تاریخ بھی اسی قدر نامعلوم ہے ۔
مؤرخین کے مطابق قدیم تہذیب میں یہ تہوار موسم بہار کی آمد کی خوشی میں آریوں کے ہاں منایا جاتا تھا ۔ البتہ ہندومت کی مذہبی کتابوں میں اس رسم کا واضح ذکر ہمیں پرانوں میں ملتا ہے ، جس میں اسے رنگ کا تہوار بتایا گیا ہے ۔ لیکن اس تہوار کی وجہ کے متعلق ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف کہانیاں بیان کی جاتی ہیں ۔ عام طور پر مشہور ہے کہ ہر یکشپ جو کہ ایک طاقت ور بددیویا بادشاہ تھا ، اس نے یہ حکم جاری کیا کہ اب کوئی بھی خدا کا نام نہ لے اور نہ ہی خدا کی عبادت کرے کیونکہ وہ خود کو خدا مانتا تھا ۔ اس بدکار کے خوف سے لوگوں نے اسے پوجنا شروع کر دیا ، جب کہ اس کا بیٹا جو کہ خدا کا ایک حق پرست اور جاں نثار بندہ تھا ، اس نے اپنے باپ کی مخالفت کی اور اس کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ۔ ہر یکشپ اس کی اس جرات پر سخت برہم ہوا اور اس کے لیے سخت سزا کا حکم سنایا ۔ لیکن اس حق پرست بندے کو اس سزا سے کچھ فرق نہیں پڑا ۔ ہولیکا ، جو کہ ہر یکشپ کی بہن تھی ، اس نے ہر یکشپ کے بیٹے پر لہاد کو یہ قوت تحفہ کی کہ آگ اس کے لیے بے ضرر ہوگئی ۔ ہر یکشپ نے دونوں کو آگ میں ڈلوایا جس کے نتیجے میں اس کی بہن مرگئی جب کہ اس کے بیٹے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔اسی داستان کی یاد میں آج ہولی کا تہوار منایا جا تا ہے۔
اتر پردیش کے خطے برج میں ہولی کورادھا اور کرشن کی محبت سے منسوب کیا جا تا ہے ۔

تبصرے