آہ یہ جدائی

 __________ آہ یہ جدائی __________

معافی کا خواستگار ۔ محمد مبین ۔۔ ارریا




دارالعلوم وقف دیوبند نے مجھے عربی سوم میں اپنی آغوش میں لیا جس وقت میں یہاں آیا تھا تو میرے لیے یہاں کی درودیواریں نئی اور دوست بھی نئے تھے،

 ایک اجنبیت سی محسوس ہو رہا تھا، من اکھڑا اکھڑا سا رہتا تھا، کہیں بیٹھتا تو عجیب عجیب خیالات ذہنوں میں آتے تھے،


 مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بھی بدلتے گئے، اجنبیت ختم ہو گئی، نئے دوست پرانے ہو گئے اور اس طرح گھل مل گئے ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہم سب نے ایک ہی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہے اور اب زندگی بھر ہمیں ایک ہی ساتھ رہنا ہے 

اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جدا نہیں کر سکتی،

کیونکہ وہ ایک ساتھ رہنا ، تکرار و مطالعہ کرنا ،ساتھیوں سے علمی بحثیں کرنا، ہر سکھ دکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا رہنا، لڑنا جھگڑنا پھر جاکر معافی مانگنا ، ایک دوسرے کو اپنوں رشتے داروں اور گھر کی کمی محسوس نہ ہونے دینا ، مستی بھرے لمحے ساتھ مل کرگزارنا وغیرہ وغیرہ


جدائگی و فرقت کا تصور تو ہمارے ذہنوں میں دور دور تک نہ تھا

 

مگر حالات نے پھر کروٹ لی اور ہمیں زندگی کے ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جس کا ہم نے کبھی تصور ہی نہیں کیا تھا ، اور بے وفا زمانہ نے ہمیں جدائی کے کڑوے گھونٹ پینے پر مجبور کر دیا ، بے رحم وقت نے ہمارے گلشن کو اجاڑ دیا ، اور وقفے وقفے سے ساتھیوں کے جدا ہونے نے ہمیں خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا 


اخیر میں دل کو یہ کہہ کر سمجھانے پر مجبور ہو گیا کہ اے دل یہ دنیا ہے یہاں 

وقت کے بے رحم ہاتھوں سے کون محفوظ رہ سکا ہے وہ کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ زمانے کی تلخیاں اس کے قریب سے ہو کر نہیں گزریں اور اس نے دنیا کی تنگی اور مجبوریوں سے بھرے دن نہ دیکھے ہوں، بہت کم خوش نصیب لوگ ایسے ملین گے جنہیں کوئی غم نہ ہو کوئ فکر نہ ہو جب دنیا کا نظام ہی ایسا ہے تو ہم لوگ کیسے زمانے کی رنگینیوں اور تلخیوں سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں اس لیے حالات آتے ہیں آئیں گے اور گزر جائیں ہیں


اخیر میں یہ شعر آپ کے لیے 


جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر


مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے


مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی


گل آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئے


جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے مرا خواب تھے


وہ جو روز و شب مرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے


بس خداوند متعال سے دعاء ہے کہ یا خدا ہمارے ساتھیوں کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھنا اور وہ جہاں بھی رہے انہیں حق پر اور دین و ایمان پر قائم رکھنا انہیں دین کی خدمت کے لئے قبول فرمانا

آمین یارب العالمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں