رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان المبارک
رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ
ماہ رمضان المبارک
🖋️محمد اطہرحبیب
اسلام کے ارکان میں سے روزہ جس کو ماہ رمضان المبارک کے تیس دن امت مسلمہ پر اللہ رب العزت نے فرض فرمایا
اور اس مہینے میں اللہ رب العزت نے امت مسلمہ کے لئے راہ نجات اور برکتوں اور رحمتوں کا سامان مہیا فرمایا
رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت اور فیوض و برکات کے باب میں حضور نبی اکرمﷺ کی چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:''جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔
یعنی ایسا ماہ مبارک جس میں شیطان کے بہکاوؤں سے بچنے کی بھی آسانی کردی گئی ہے۔
رمضان المبارک کے روزوں کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم ﷺکی اس حدیث مبارک سے لگایا جا سکتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
''جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے۔
اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جس نے ہمیں رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینہ سے نوازا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کی آمد کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺدعائیں مانگتے تھے۔
آپ ﷺ ماہ رمضان کی پوری تیاری کے ساتھ استقبال فرماتے۔ رمضان المبارک میں آپﷺ کے شب و روز کے معمولات بڑھ جاتے۔ تہجد کا اہتمام خود بھی کرتے تھے اور دوسروں کو بھی تاکید فرماتے. مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ ابرِ رحمت کی مانند ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے دل منور ہو جاتے ہیں اور ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور روایت بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک اور جگہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے قسم کھا کر فرمایا:
''تم پر ایسا مہینہ سایہ فگن ہوگیا ہے کہ مسلمانوں پر اِس سے بہترمہینہ اور منافقین پر اس سے بُرا مہینہ کبھی نہیں آیا۔ پھر دوبارہ رسول اکرم ﷺ نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا:اﷲ تعالیٰ اس مہینے کاثواب اور اس کی نفلی عبادت اس کی آمد سے پہلے لکھ دیتا ہے اور اس کی بدبختی اور گناہ بھی اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتا ہے، کیونکہ مومن اس میں انفاق کے ذریعے قوت حاصل کر کے عبادت کرنے کی تیاری کرتا ہے اور منافق مومنوں کی غفلتوں اور ان کے عیب تلاش کرنے کی تیاری کرتا ہے۔
کیسا شاندار مہینہ رب کریم نے امت مسلمہ کو عطا فرمایا کہ جس میں عبادات کا ثواب 70 سے 700 گنا بڑھا دیا گیا، مغفرت اور بخشش نقد عطا کی جارہی ہے، روزے دار کی منہ کی بدبو کو مشک سے تعبیر کیا جارہا ہے،جنت کا ایک دروازہ ''باب الریان'' روزے داروں کے داخلے کے لئے مخصوص کردیا گیا۔کیا شان ہے!اس مبارک ماہ کی۔
ماہ مبارک کو حدیث پاک میں ''سید الشہور شہر الرمضان''(تمام مہینوں کا سردار) کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کے تمام دن تمام لمحے سب سے بہتر،اور ایک ایک سیکنڈ بہت قیمتی ہے۔
چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ میں فرمایا۔اے لوگو! سنو! تم پر ایک مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے جو بہت بڑا اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام کو ثواب کی چیز ٹھہرایاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کوئی نفلی نیکی بجا لائے گا تو وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ عام دنوں میں فرض کا ثواب ہو اورجو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سے نجات کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا مگر روزہ دار کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہیں ہوگی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اﷲ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (یہ ثواب پیٹ بھر کرکھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی شخص ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ کاپلادے تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دیگا۔یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور آگ سے آزادی عطا فرمائے گا۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو جن میں سے دو چیزیں اﷲ کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کراتے ہوئے پانی پلائے گا تو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائے گا جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔''
اس ماہ کریم کی ایک اور فضیلت 'شب قدر' ہے۔ یہ وہ رات ہے جس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پوری سورة نازل فرمائی۔ اس رات کو افضل ترین کہا گیا۔یہ رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ وہ مؤمنوں سے مصافحہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہوتی ہے۔یہ رات سابقہ امتوں کے عبادت گزار بندوں سے سبقت لے جانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
رسول اللہﷺ ہمیشہ ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے، لیکن جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو ذکر واذکار اور تسبیحات میں بہت اضافہ ہوجاتا، کثرت ذکر کے ساتھ اس ماہ میں دعائیں بھی خوب اہتمام سے کرتے۔
اسوہ رسول کریم ﷺپر عمل کرتے ہوئے ہمیں بھی اس ماہ کی فضیلتوں اور برکتوں سے اپنے دامن کو بھر لینا چاہیے،اس انوارات اورفیضانات سے اپنے قلب کو منور کرلینا چاہیے تاکہ روز محشر ہمیں بھی صائمین، ذاکرین اور خاشعین کی صفوں میں جگہ مل سکے اور نبی آخر الزماں ﷺ کی شفاعت نصیب ہوسکے۔آمین یارب العالمین

تبصرے