خواتین کی تعلیم و تربیت آخری قسط

   خواتین کی تعلیم و تربیت آخری قسط 

خواتین کی تعلیم و تربیت آخری قسط


آج دینی تعلیم کی ضرورت جتنی مردوں کو ہے ، اس سے کہیں زیادہ عورتوں کو ہے ، عورت کا قلب اگر دینی تعلیمات سے منور ہو ، تو اس چراغ سے کئی چراغ روشن ہو سکتے ہیں ، وہ دیندار بیوی ثابت ہوسکتی ہے ، وہ ہر دل عزیز بہو بن سکتی ہے ، نیک اور شفیق ساس ہوسکتی ہے ، وہ اپنے بچوں کی معلم اول ہوسکتی ہے ، وہ خاندانی نظام کومربوط رکھ سکتی ہے ، معاشی تنگی کو خوش حالی سے بدل کر معاشی نظام مضبوط کر سکتی ہے ، وہ شوہر کے مرجھاۓ اور افسردہ چہرے پرگل افشانی کرسکتی ہے ، میخانے کو مسجد اور بت خانے کو عبادت خانہ بناسکتی ہے ، اولادکو جذبہ جہاد سے سرشار کر سکتی ہے ، الغرض دینی تعلیم یافتہ عورت وہ سب کچھ بہت آسانی سے کرسکتی ہے جو اسلام چاہتا ہے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو جاۓ تو منفی نتیجہ کیسا خوف ناک ہوگا ، اندازہ کرنا مشکل نہیں اور دینی تعلیم سے بے انتہا غفلت عورت کو شیطان بنادیتا ہے ۔

 لائـق تـوجـه پـهـلـو : ضرورت اور وقت دونوں اس امر کے متقاضی ہیں کہ تعلیم نسواں کے حوالے سے مزید بیداری پیدا کی جائے اور اس کی جانب سنجیدگی سے توجہ دی جائے لیکن اس سلسلے میں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم کے لیے محفوظ مقامات اورتعلیم گاہیں ہوں ، عورتوں کی تعلیم کے لیے سب سے محفوظ اور ہر طرح کی برائیوں سے پاک جگہ ، خوداس کا گھر ہے ، گھر میں ایسا انتظام اگر مشکل ہوتو غیراقامتی اسکول اور مدرسے ہیں ، جہاں صرف لڑکیوں کو ہی تعلیم دی جاتی ہو اورتعلیم دینے والا تدریسی عمل عورتوں پر ہی مشتمل ہو ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عالم اسلام کی معروف ہستی اور متبحر عالم دین حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ العالی کی کتاب ہمارا تعلیمی نظام سے ایک اقتباس نقل کر کے مضمون ختم کیا جاۓ ، لکھتے ہیں : "تعلیم نسواں ایک مستقل چیز ہے اور مخلوط تعلیم ایک جدا گانہ چیز ہے ، ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط وہی بے دین اور بے حمیت یورپ زدہ لوگ کرتے ہیں جو فروغ تعلیم نسواں کی آڑ میں مخلوط تعلیم کو فروغ دینا اور عام کرنا چاہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں:

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں