شبِ برأت کی فضیلت واہمیت قرآن واحادیث کی روشنی میں!

 شبِ برأت کی فضیلت واہمیت قرآن واحادیث کی روشنی میں! 

کتبہ✍️ العبد محمد آفتاب ہاشمی 



    قارئین کرام:۔ تمام تعریفیں اس اللہ ربّ العزت کی جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے کیونکہ دن و رات، ہفتہ و ماہ اور سال اللہ رب العزت کے بنائے ہوئے ہیں اور اللہ رب العزت نے ہی ان میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، ان ہی عظمت و فضیلت والی راتوں میں ایک رات شعبان المعظم کی پندرہویں شب ہے جو ’’برأت‘‘سے موسوم ہے جو دراصل خطاؤں اور گناہوں سے توبہ کرکے بری ہونے کی رات ہے۔ قرآن مجید میں ۲۵ویں پارہ سورہ دخان کی ابتدائی آیتوں میں ارشاد باری عز و اسمہٗ ہے: ترجمہ: قسم ہے اس کھلے ہوئے واضح کتاب کی ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں اتارا ہے کیونکہ ہم لوگوں کو آگاہ و متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے یقیناًہم ایک رسول بھیجنے والے تھے۔ لیلۃ المبارکۃ کے بارے میں حضرت عکرمہؒ اور مفسرین حضرات کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس سے شب برأت مراد ہے جیسا کہ فیہا یفرق کل امر حکیم سے واضح ہوتا ہے۔ (معارف القرآن)

احادیث و آثار میں بھی شب برأت کی عظمت، برکت اور رحمت بہت اہتمام اور بلیغ انداز میں بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ خیر کو چار راتوں میں خوب بڑھاتے ہیں، عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور چوتھی نویں ذی الحجہ کی رات۔ ان تمام راتوں میں صبح کی اذان تک خیر و برکت کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ (ابن ماجہ) حضرت معاذ ابن جبلؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی ساری ہی مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ رات کئی خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔ اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔ اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔ اس میں شفاعت کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہر امرونہی کا فیصلہ ہوتا ہے، بندوں کی عمر، رزق اورعام و حوادث، مصائب و آلام، خیر و شر، رنج و غم، فتح و ہزیمت، وصل و فصل، ذلت و رفعت، قحط سالی و فراغی، غرض کہ کے تمام سال ہونے والے افعال اس شب مبارکہ میں اس محکمہ سے تعلق رکھنے والے ملائکہ کو تفویض ہوتے ہیں، جس پر آئندہ سال عمل ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ رمضان کے بعد ماہ شعبان میں روزوں کا زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے، اس سلسلے میں حضرت اسامہ بن زیدؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ دونوں جہانوں کے آقا میں نے آپﷺ کو رمضان کے علاوہ شعبان میں اتنے روزے رکھتے دیکھا، حضوراکرم ﷺ نے فرمایا کہ شعبان رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت برتنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ مہینہ ایسا ہے کہ لوگوں کے اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اور جن کی روح قبض کی جانی ہوتی ہے ان کے نام لکھ دیے جاتے ہیں اس لئے میں یہی پسند کرتا ہوں کہ روزے کے ساتھ میرے اعمال اللہ کے دربار میں پیش کیے جائیں۔


عام طور پر لوگ اس رات میں قبرستان جانے کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔ پوری پوری رات قبرستان میں گزاری جاتی ہے، قبور کے قریب محافل کا انتظام کیا جاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ ایک روایت ایسی ملتی ہے جس میں حضور ﷺ اس رات میں بقیع میں گئے اس لیے اس را ت میں قبرستان جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن جس حد تک یہ عمل حضور ﷺ سے ثابت ہے اسی حد تک اس کا اہتمام کیا جائے۔ کبھی قبرستان چلے گئے اور کبھی نہ بھی گئے۔ ہر سال باقاعدگی سے اہتمام کرنا اور راتوں کو قیام کرنا قبرستان میں مناسب نہیں۔

تمام مومنین کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور ﷺ کی تلاش میں نکلی تو میں نے آپ ﷺ کو جنت البقیع میں پایا کہ آسمان کی طرف حضور ﷺ نے سر اٹھایا ہوا تھا مجھے دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے جس قدر بال ہیں ان سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی ’عنہ سے بھی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ماہ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے سوائے دو لوگوں کے سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل۔


شب برات کی اہمیت و فضیلت سے تاریخ اسلام، حادیث و روایات بھری پڑی ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس حد تک اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یوں تو اللہ تعالی ’نے مومن کے لئے ہر دن کو ہی بخشش والا بنایا ہے لیکن اسلامی دنوں میں سے چند دنوں اور راتوں کو دوسروں پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس فضیلت کی وجہ ان دنوں اورراتوں کا دوسرے دن اور راتوں سے منفرد مقام رکھنا ہے۔ یہ دن اور رات ہمیں جھنجھوڑتے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور نائب ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔


دور حاضر کے مسلمان اللہ سے دور ہو کر کس قدر کمزور ہو گئے ہیں، کس قدر گناہوں میں ڈوب گئے ہیں یہ دن ہمیں یہ سب باور کراتے ہوئے اپنے منصب کے مطابق کردار ادا کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ شب برات ہمارے لئے ایک پیغام بھی ہے۔ کیا خبر اس رات ہمارے دنیا سے رخصت ہونے کا فیصلہ کر لیا گیا ہو، ہم خدا کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے۔ ہم کس قدر اللہ کے نبی کے بتائے راستے پر چلے ہم نے کس قدر اللہ تعالی‘ کا نائب ہونے کا حق ادا کیا؟ یہ رات ہمیں پیغام دیتی ہے کہ اس رات اللہ کی یاد میں اشکبار ہوں، یہ رات اللہ کے فیوضات کا بحر بیکراں ہے جس میں غوطہ زن ہو کر اپنے من کو سیراب کیا جاسکے لیکن آج کے دور میں ہم اس کے برعکس اس رات کو پٹاخوں اور آتش بازی جیسے کاموں کی نذر کردیتے ہیں۔


بعض لوگ اس مقدس رات میں عبادت میں مشغول ہونے کے بجائے، اپنے گناہوں کی اللہ سے توبہ کرنے کے بجائے، آخرت کی فکر کرنے کے بجائے آتش بازی اور دیگر ناجائز کاموں میں مشقول ہو جاتے ہیں اور اس رات کا تقدس پامال کر کے اپنے لئے جنہم کی آتش خریدتے ہیں۔ آتش بازی کے اس عمل سے نہ صرف لوگوں کی عبادت میں خلل ڈلتے ہیں بلکہ ایسا کرنے والوں اور ان کے ارد گرد لوگوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس قیمتی رات کو ایسی فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے ہمیں اللہ کے حضور نم آنکھوں کے ساتھ پیش ہونا چاہیے۔ اپنے گناہوں کی توبہ کرنی چاہیے۔ ملک و ملت کی ترقی کی دعا کرنا چاہیے۔ اس رات کی اہمیت سمجھ جانے سے ہمیں دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں