خواتین کی تعلیم و تربیت قسط (2)
خواتین کی تعلیم و تربیت قسط (2)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم و تربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (بیٹی) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی۔ (المعجم الکبیر الطبرانی ١٠٤٤٧)
امام بخاری نے تعلیم نسواں کے سلسلے میں ایک پورا باب ہی قائم کیا ہے باب: عظۃ الامام ، النساء وتعلیمھن ، حضورﷺ جیسے صحابۂ کرامؓ کو پند و نصیحت کیا کرتے تھے ویسے ہی صحابیات کے درمیان بھی تبلیغ دین فرمایا کرتے تھے ۔
ایک بیٹی ، رحمت اسی وقت بن سکتی ہے ، جبکہ اس کا قلب اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور ہو، وہ فاطمی کردار و گفتار کا پیکر ہو، ایک عورت ، مرد کے لیے شریکِ حیات کی شکل میں ، روحِ حیات اور تسکینِ خاطر کا سبب اسی وقت بن سکتی ہے ، جبکہ اس کا دل سیرتِ خدیجہؓ سے سر شار ہو، وہ ایک مشفق اور ہر درد کا درماں ، مصائب کی گرم ہواؤں میں، نسیم صبح کی صورت میں "ماں" اسی وقت ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کی گود بچے کے لیے پہلا اسلامی مکتب ثابت ہو، وہ بھائیوں کی محبتوں کا مرکز و ملجااسی وقت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کے جذبات و احساسات ، ویسے ہوجائیں ، جیسے حضرت عائشہ کے جذبات، اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن کی وفات کے بعد امت کے سامنے آئے۔
اسلامی زندگی کے سفر میں نام نہاد مغربی تعلیم و تہذیب کے دھوکہ دینے والے چراغ کافی نہیں ہیں ، بلکہ اس سفر کی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے اسلامی تعلیمات کے روشن ستاروں سے نسبت رکھنا بے ضروری ہے ، مغربی تہذیب کے چراغ کسی بھی وقت بجھ سکتے ہیں ، لیکن اسلامی تعلیمات کے ستاروں کی ضیا پاشی اور تابندگی کی بقاۓ حیات ایک زندہ جاوید حقیقت ہے ۔
عصر حاضر اور ہماری کوتاہیاں:
لیکن آج تعلیم گاہوں اور دینی تعلیمات کے متعدد ذرائع کے موجود ہونے کے باوجود ، دینی تعلیم سے بے رغبتی اپنی انتہا کو پہونچی ہوئی ہے ، جس مذہب نے دینی تعلیم کو تمام مردوں عورتوں کے لیے فرض قرار دیا ہو اور جس مذہب میں علم و حکمت سے پر قرآن جیسی عظیم کتاب ہو اور جس مذہب کی شروعات ہی "اقرأ" یعنی تعلیم سے ہوتی ہو ، اسی مذہب کے ماننے والے دینی تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی قسط :

تبصرے