زنا سے بچنے کی عمدہ نصیحت

 زنا سے بچنے کی عمدہ نصیحت

زنا سے بچنے کی عمدہ نصیحت


  حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے زنا کی اجازت دے سکتے ہیں تو نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تم یہ کام اپنی ماں کے ساتھ اچھا سمجھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا نہیں ، پھر آپﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص تمہاری بیٹی کے ساتھ ایسا کرے تو کیا تمہیں اچھا لگے گا ؟ تو انہوں نے کہا ہرگز نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے اس کی بہن ، پھوپھی،خالہ وغیرہ کا ذکر کر کے اس طرح سمجھایا تو اس کی سمجھ میں آگیا اور اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا فرمایے ، تو آپﷺ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا فرمایا کہ اے اللہ اس کے گناہ معاف فرما ، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ (شعب الایمان: جلد 4، ص: 362)
اس واقعہ سے آپﷺ نے بدکاری سے بچنے کی ایک عمدہ تدبیر امت کو بتلائی ہے جو بھی برائی کرنے والا ایک لمحہ کے لیے اس بارے میں سوچ لے تو وہ اپنے غلط ارادے سے باز آسکتا ہے: کیوں کہ وہ جس عورت سے بھی بدکاری کا ارادہ کرے گا وہ کسی کی بہن ، بیٹی یا ماں ضرور ہونگی ، جس طرح انسان اپنی ماں بہنوں کے ساتھ یہ جرم گوارا نہیں کرتا تو اسے سوچنا چاہیے کہ دوسرے لوگ اسے کیوں کر گوارا کریں گے۔
   اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو کامل عفت مآبی سے سرفراز فرمائے اور امت کے ہر فرد کو بدکاری کے قریب جانے سے محفوظ فرمائے، آمین یارب العالمین ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں