بیوی کا محبت نام رکھنا

 بیوی کا محبت کا نام رکھنا: 

اسعد اقبال یکہتوی 

بیوی کا محبت نام رکھنا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہت ہی محبت کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "میں تم میں سے اپنے اہل خانہ کے لیے سب سے بہتر ہوں۔" ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے دور سے فرمایا ۔ حمیرا ! میرے لیے بھی کچھ پانی بچادینا ۔ ان کا نام تو عائشہ تھالیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کومحبت کی وجہ سے حمیرا فرماتے تھے۔ اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا محبت میں کوئی ایسا نام رکھے جو اُسے بھی پسند ہو اور اِسے بھی پسند ہو ۔ایسا نام محبت کی علامت ہوتا ہے اور جب اس نام سے بندہ اپنی بیوی کو پکارتا ہے تو بیوی قرب محسوس کرتی ہے یہ سنت ہے۔ 

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ حمیرا میرے لیے بھی کچھ پانی بچادینا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کچھ پانی پیا اور کچھ پانی بچادیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور انھوں نے پیالہ حاضر خدمت کر دیا۔ حد یث پاک میں آیا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی پینے لگے تو آپ رک گئے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ۔ "حمیرا ! تو نے کس جگہ سے منہ لگا کر پانی پیا تھا ؟ حدیث پاک میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کے رخ کو پھیرا اور اپنے مبارک لب اسی جگہ پر لگا کر پانی نوش فرمایا ۔ خاوند اپنی بیوی کو ایسی محبت دے گا تو وہ کیوں کر گھر آباد نہیں کرے گی ۔ اب سوچئے کہ رحمۃ اللعالمین تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے، آپ سید الاولین والآخرین ہیں اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اہلیہ کا بچا ہوا پانی پیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچا ہوا پانی وہ پیتیں مگر یہ سب کچھ محبت کی وجہ سے تھا ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں