دوزخی عورتیں

 دوزخی عورتیں

اسعد اقبال یکہتوی

دوزخی عورتیں


 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ دوزخیوں کی دو جماعتیں میں نے نہیں دیکھی ہیں (کیونکہ وہ ابھی موجودنہیں ہوئیں ، بعد میں ان کا وجود اور ظہور ہوگا) ایک جماعت ان لوگوں کی ہوگی جن کے پاس بیلوں کی دُموں کی طرح کوڑے ہوں گے ، ان سے لوگوں کوظلما ماریں گے ، دوسری جماعت ایسی عورتوں کی ہوگی جو کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی ( مگر اس کے باوجود ) ننگی ہوں گی ( مردوں کو مائل کرنے والی اور ( خودان کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی ، ان کے سرخوب بڑے بڑے اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے جو جھکے ہوئے ہوں گے یہ عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھیں گی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جنت کی خوشبو دور دور سے سونگھی جاتی ہے ۔ ( مشکوۃ المصابیح ص ۳۱۲ ، از مسلم ) اس حدیث شریف میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ایسے گروہوں کے متعلق پیشین گوئی فرمائی ہے ، جن کو آپ نے اپنے زمانہ میں نہیں دیکھا تھا لیکن آج وہ دونوں گروہ اپنے شروفساد کے ساتھ موجود ہیں ، خدا کے مقدس پیغمبرﷺ نے اول تو ان لوگوں کا ذکر فرمایا جوکوڑے لیے پھریں گے اوران سے لوگوں کو ماریں گے ، یہ ان لوگوں کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی جو اپنے اقتدار کے نشہ میں بات بات پر کمزوروں اور بیکسوں کو پیٹ دیا کرتے ہیں، دیہات اور قصبات کے زمینداروں اور مال داروں کو دیکھا گیا ہے کہ تنگ دستوں اور بیکسوں کو جھوٹے سچے بہانے بناکر پیٹتے ہیں ، ان سے سینکڑوں کام بیگار میں لیتے ہیں اور طرح طرح کے ظلم وستم ان پر ڈھاتے ہیں ، اس سلسلہ میں بعض واقعات یہاں تک سنے گئے ہیں کہ اگر کسی کم حیثیت والے مسلمان نے کسی دولت مند مسلمان کو سلام کر لیا تو اس غریب کو اس جرم میں پیٹ ڈالا کہ اس نے اپنے آپ کو ہمارے برابر سمجھا ، اللہ ایسے ظالموں سے بچاۓ ، یہ بے کس اور بے بس مظلوم بندے جب آخرت میں مدعی ہوں گے اور وہاں قاضی کو روز جزا کی عدالت میں پیشی ہوگی ، توظلم وستم کے انجام کا پتہ چلے گا ۔ دوسری پیشین گوئی عورتوں کے حق میں ارشادفرمائی کہ ایسی عورتیں موجود ہوں گی جو کپڑے پہنے ہوۓ ہوں گی لیکن پھر بھی ننگی ہوں گی ، یعنی اس قدر باریک کپڑے پہنیں گی کہ ان کے پہننے سے جسم کو چھپانے کا فائدہ حاصل نہ ہوگا ، یا باریک کپڑاتو نہ ہوگا مگر چست ہونے اور بدن کی ساخت پرکس جانے سے اس کا پہننا نہ پہننا برابر ہوگا ، بدن پر کپڑے ہونے اور اس کے باوجود ننگا ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ بدن پر صرف تھوڑا سا کپڑا ہو اور بدن کا بیشتر حصہ اور خصوصا وہ اعضا کھلے ہوں جن کو باحیاء عورتیں غیر مردوں سے چھپاتی ہیں ، جیسا کہ یورپ اور ایشیا کے بعض شہروں مثلا ممبئ ، کلکتہ ، دہلی اور سنگاپور وغیرہ میں ایسالباس پہننے کا رواج ہے کہ گھٹنوں تک قمیص یا فراک ہوتا ہے ، آستین یا تو ہوتی نہیں یا اس قدرکوتاہ ہوتی ہے کہ مونڈھے سے صرف دو چار انچ ہی بڑھی ہوئی ہے ، پنڈلیاں بالکل ننگی ہوتی ہیں اور سر بھی دوپٹہ سے خالی ہوتا ہے ، اور فراک کا گلا آگے اور پیچھے سے اس قدر فراخ اور چوڑا ہوتا ہے کہ نصف کمر اور نصف سینہ نظر آتا ہے۔

 پھر فرمایا کہ یہ عورتیں ( غیر مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی ، ننگا ہونے کا رواج مفلسی کی وجہ سے نہ ہوگا بلکہ مردوں کو اپنا بدن دکھانا اوران کا دل لبھانا مقصود ہوگا ، اور لبھانے کا دوسرا طریقہ یہ اختیار کریں گی کہ اپنے سروں کو (جو دوپٹوں سے خالی ہوں گے ) مٹکا کر چلیں گی جس طرح اونٹ کی پشت کا بالائی حصہ ( جسے کوہان کہتے ہیں)  تیز رفتاری کے وقت زمین کی طرف جھکا کرتا ہے ، اونٹ کے کوہان سے تشبیہ دے کر یہ بتایا کہ وہ عورتیں بالوں کو پھلا پھلا کر اپنے سروں کو موٹا کریں گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں