خواتین کی تعلیم و تربیت قسط 1

 خواتین کی تعلیم و تربیت (1)

اسعد اقبال یکہتوی 


خواتین کی تعلیم و تربیت (1)

     انسان جب زیور تعلیم سے آراستہ ہوتا ہے تو واقعی وہ انسان ہوتا ہے ، ہر زمانے میں تعلیم یافتہ حضرات کی قدر و قیمت رہی ہے ۔ تعلیم کے بغیر ترقی وعروج کی خواہش ، بے بنیاد خواہش ہے ، انسان کی نافعیت کے لیے ، دینی تعلیم ، اسلامی تربیت ، ایمانی شائستگی اور انسانی عادات و آداب کی اتنی ہی ضرورت ہے ، جتنی ضرورت مچھلی کے لیے پانی کی ہے تعلیم وہ نسخۂ کیمیا ہے ، جس سے مردوں کی مسیحائی عمل میں آ سکتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ احادیث میں دینی تعلیم کے حصول کی افادیت واہمیت کی بہت تاکید کی گئی ہے۔خداوند قدوس نے دنیا کو آباد رکھنے کے لیے حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا کوبھی پیدا فرمایا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک تناسب سے مردوخواتین کی تخلیق ہوتی رہی ، مکلف بن جانے کے بعد دونوں کی ذمہ داریاں الگ الگ طے کر دی گئیں ، مردوں کو بطور خاص خارجی معاملات کانگراں بنایا گیا ، جبکہ عورتوں کو اندرون خانہ معاملات کا ذمہ دار بنایا گیا اور اسے تاکید کی گئی کہ اس کی عزت وآبرو اور اخروی فلاح و بہبود ، چراغِ خانہ بنے رہنے میں مضمر ہے اور اس کا شمع محفل بننا اسلام کو پسند نہیں ، اسی لیے خالقِ کائنات نے عقائد ، عبادات ، معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات ان سب کا مکلف جیسے مردوں کا بنایا ہے ، ویسے ہی عورتوں کو بھی اس کا مخاطب بنایا ہے ، اسی لیے علم کا حصول دونوں ہی صنفوں پر فرض قرار دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ علم کے جو ذرائع ہیں یعنی انسان کے ظاہری حواس عقل و فہم اور دوسرے انسانوں سے استفادہ کی صلاحیت ، مردوں میں بھی پائی جاتی ہیں اور عورتوں میں بھی ۔ 

جہاں اس اَمر کا انکار اسلامی نقطۂ نظر سے ناممکنات میں سے ہے کہ مردوں کے لیے اتناعلم اور اتنی دینی تعلیمات بے حد ضروری ہے ، جن سے وہ دین پر صیح طور سے عمل پیرا ہوسکیں اور شریعت کے مطالبات کو رو بہ عمل لاکر نگاہِ شریعت میں معتبر بن سکیں ، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ عورتوں کے لیے دینی تعلیم وتربیت سے آگاہ ہونا اور دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا ، آئندہ کی دائمی حیات کے لیے ناگزیر ہے اور اسی دینی تعلیم وتربیت کو رو بہ عمل لاکر کے ایک عام قومی بیداری اور اجتماعی شعور کو ترقی دینے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے اور چونکہ عورت کے کئی رنگ ہیں ، کبھی وہ رحمت کی شکل میں بیٹی کا روپ لیے ہوتی ہے تو کبھی پیاری بہن، کبھی کسی کی شریکِ حیات ہوتی ہے، تو کبھی ماں کی شکل میں شجر سایہ دار، اس لیے اس کی ذمہ داری کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے اور اس کے لیے زیورِ تعلیم کی قیمیت، سونے چاندی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔

                           جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


   

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں