سفر شملہ ایک نظر میں
سفر شملہ ایک نظر میں
ازقلم :- محمد اطہرحبیب
ہماچل پردیش شمالی بھارت کی ایک ریاست جو 21,495 مربع میل (55,670 کلومیٹر) کے رقبہ پر محیط ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں جموں و کشمیر، جنوب اورمغرب میں پنجاب ، جنوب اور مشرق میں ہریانہ اور اتراکھنڈ اور مشرق میں تبت خودمختار علاقہ سے ملتی۔
اور شملہ، بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کی راج دھانی ہے ۔ بارہ اضلاع پر مشتمل ہے اور اس کی بلندی 7,608 فٹ ہے
شملہ سطح سمندر سے 2,206 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شملہ تقریباً 9.2 کیلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے۔
اچانک ساتھیوں میں مشورہ ہوا کہ ہماچل پردیش کی راج دھانی شملہ کی وادیوں میں گھوما جائے، اور اس بات پر تمام ساتھیوں کا اتفاق ہوا، اور ہم لوگوں نے شملہ کا رخت سفر باندھ لیا حالانکہ میں ٹھنڈی سے تھوڑا گھبراتا ہوں پھر بھی اس وادی کی کشش اور خوبصورتی نے مجھے جانے پر مجبور کر دیا۔
اور ہم لوگ دیوبند سے شملہ کی طرف رواں دواں ہو گیے، کچھ دیر میں ہم لوگ دیوبند اسٹیشن پہونچ گئے اور دیوبند سے امبالا کی ٹرین کا انتظار کرنے لگے، دس منٹ ہی ہواتھا کہ ٹرین اسٹیشن پر حاضر ہوگئی لیکن بھیڑ نے چڑھنے کی اجازت نہ دی، لیکن ساتھیوں کے اصرار کی وجہ سے بھیڑ میں چڑھ گیا بحمدللہ چڑھتے ہی بھیڑ ہونے کے باوجود سیٹ بآسانی مل گئی اور بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ ہم لوگ امبالا اسٹیشن پر پہونچ گئے، پھر وہاں سے ہم لوگوں نے ٹرین تبدیل کیا اور کالکا کے لیے روانہ ہو گئے اور ساڑھے نو بجے کے قریب ہم لوگوں کالکا اسٹیشن پہونچ گئے یہاں ساڑھے نو بجے سے لیکر ساڑھے تین بجے تک روکنا تھا اس لیے کہ شملہ کی ٹرین ساڑھے تین بجے تھی اتنی دیر اسٹیشن پر روکنا کافی دشوار لگ رہا تھا، اس لئے کہ یہ میرا پہلا ایسا سفر ہورہا تھا۔ لیکن کالکا کی خوبصورتی اور صفائی ستھرائی اور شملہ کی ٹوے ٹرین کی خوبصورتی ہماچل پردیش کی رونق کو بیان کررہی تھی۔ اس لیے وقت کا پتا ہی نہیں چلا اور بڑی آسانی سے تین گھنٹہ گزر گیا لیکن ایک دوشوری ہمارے ساتھ تھی اسلئے کہ ٹوے ٹرین کا ٹکٹ کنفرم ہمارے پاس نہیں تھا جسکی وجہ سے پریشانی ہورہی تھی لیکن اللہ نےاس کو بھی آسان کردیا اور ٹکٹ کنفرم نہیں ہونے کے باوجود سیٹ بڑی ہی کشادگی سے حاصل ہوئی، اس پر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا، پھر ہم لوگوں ٹوے ٹرین کا مزہ لینے لگے ٹوے ٹرین جوں جوں آگے بڑھ رہی تھی ایک الگ ہی مزہ ایک الگ ہی فیلنگ آرہا تھا جب ٹوے ٹرین پہاڑ کی بلندیوں اور پک ڈنڈیوں سے گزر رہی تھی اور پہاڑ کی بلندیوں پر خوبصورت اور عالی شان عمارت نظر آرہی تھی جس کودیکھنے کا اور ہی مزہ تھا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے کبھی تو یوں محسوس ہورہا تھا کہ جہاز کا سفر کررہا ہوں اور ہمارا جہاز کافی اونچائی پر ہے پھر کبھی پہاڑ پر نظر پڑتی تھی اور اس میں بنے مکانات کو دیکھتا تھا تو یوں لگتا تھا کہ اللہ نے واقعی انسان کو تمام تر مخلوق سے افضل بنایا اور ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کردیا۔ یہ تمام چیزوں کا نظارہ کرتے ہوئے ہم لوگ صبح ساڑھے آٹھ بجے شملہ اسٹیشن سے ایک اسٹیشن پہلے ثمر ہل نامی ایک اسٹیشن پر اتر گئے اس لیے کے ساتھیوں نے بتایا تھا اس قریب ایک مدرسہ ہے وہی ٹھہرنے کا اچھا انتظام ہے اس وجہ سے ہم لوگ ثمر ہل میں اتر گئے ۔ لیکن وہاں سے مدرسہ کا پتا نہیں تھا نہ نام کا، نہ جگہ کا، پریشان ہونے لگا اتنے میں ساتھیوں میں سے ایک بول پڑا کہ جگہ کا مجھے پتا ہے۔ بالو گنج، پھر ہم لوگ میپ کے ذریعے بالو گنج پہونچ گئے وہاں ایک دکاندار سے معلوم کیا کہ یہاں کوئی مدرسہ ہے۔ تو انہوں نے رہنمائی فرمائی، اور ہم لوگوں مدرسہ پہونچ گیے۔
مدرسہ کے ناظم صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں ادھار کارڈ کی فوٹو کاپی دریافت کی، اور ہم لوگوں نے ان کو ادھار کارڈ کی فوٹو کاپی جمع کی۔ اس کے بعد انہوں نے رہنے کی لئے ایک بیڈ مہیا کروایا۔ اور کھانے وغیرہ کی ترتیب بتائی، اس کے بعد کچھ دیر ہم لوگوں نے وہاں آرام کیا۔ پھر مقصد اصلی کی طرف چل پڑے سواری گاڑی سے شملہ مول روڈ پہونچا وہاں کے خوبصورت اور حسین عمارتوں اور بلند پہاڑوں کا نظارہ کیا کچھ یادیں ان سے وابستہ کی، پاس میں چرچ ہے، اس کا معائنہ کیا یکے بعد دیگر وہاں کی تمام چیزوں کو دیکھا دن کا کھانا مول روڈ پر ہی کھایا۔ کھانا کھا کر نکلا ہی تھا کہ پاس میں پھل والا بیٹھا تھا ساتھیوں کا اصرار ہوا کہ کچھ پھل کھا لیا جائے پھل والے کے پاس پہونچا ان سے پھلوں قیمت پہونچی تو بہت ہی زیادہ بتا رہے تھے لیکن کچھ امرود کاٹا ہوا رکھا تھا اس کو ہم لوگوں نے خریدا جس کی قیمت پچاس روپیے تھی۔ ہم لوگ ان میں سے مل باٹ کر کھا ہی رہے تھے کہ وہ دکاندار پہونچنے لگا کہاں سے ہیں پھر ہم لوگوں نے اپنا تعارف کروایا اتنے میں وہ دوسری پیلٹ پھولوں کی تیار کرنے لگا اور ہم لوگوں سے کہا یہ بھی کھائے یہ میری طرف سے ہے ہم لوگوں نے اس کو بھی کھایا پھر روپیہ دینے لگا تو انہوں نے انکار کر دیا دعاء سلام کے بعد وہاں سے ہم لوگ روانہ ہوگئے۔
ایڈوانس اسٹیڈی ، یہ ایڈوانس اسٹیڈی کا سفر ہم لوگوں کا بڑا دلچسپ رہا، وہی مزل کی چاہ تھی اور منزل کا پتا نہیں، ساتھیوں میں سے ایک کے بھائی نے بتایا تھا، وہاں ایک ایڈوانس اسٹیڈی روڈ ہے۔ وہاں گھوم لینا، مول روڈ سے ہم لوگ ، ایڈوانس اسٹیڈی کی تلاش میں نکل پڑے کسی سے پوچھا کہ بھائی ، ایڈوانس اسٹیڈی کتنا دور اور کس طرف ہے، تو انہوں نے کہا کہ اگر گاڑی سے جائیں گے، تو چار کیلو میٹر ہے، اور پیدل جائے گے، تو ڈیڑھ کیلومیٹر ہے، تو ہم لوگوں نے پیدل چلنے ارادہ کر لیا، ڈھیڑ دو کیلومیٹر چلا، پھر کسی پوچھا، وہ ایک کیلومیٹر بتایا چلتے چلتے حالت خراب ہورہی تھی۔ اور ودھان سبھا ہماچل پردیش کے علاقے میں پہونچ گیا تھا، جہاں سوری گاڑیوں کی اجازت نہیں تھی۔ مرتا کیا نہ کرتا پھر چلنے لگا پہاڑ کی اونچائیوں پر چڑھنے میں دشواری ہو رہی تھی، لیکن منزل کی چاہ تھی، بڑی پریشانیوں اور دشواری کے ساتھ چار پانچ کیلو میٹر طیے کرکےایڈوانس اسٹیڈی پہونچا ۔
وہاں پہونچ کر ٹکٹ کٹایا پھر وہاں کی عمارتوں کو دیکھا اور یہ ایڈوانس اسٹیڈی جو پہاڑ کی بلندی پر واقع ہے جو دیکھنے میں انہتائی خوبصورت ہے، اور اس کی عمارت کافی پورانی ہے ۔ کچھ دیر وہاں گھوما، کافی تھک گیا تھا، شام بھی ہو رہی تھی، اس لیے ہم لوگ واپس مدرسہ پہونچ گئے۔ مغرب کی نماز ادا کی، کھانا مدرسہ ہی میں بنایا، پھر تمام ساتھیوں نے بعد نماز عشاء مل کر کھایا، اس کے بعد سب آرام کرنے لگے ۔ اس لئے کہ اس کے دوسرے دن وہاں کی خوبصورت جگہ جہاں برف باری ہوتی ہے وہاں جانا تھا جس کا نام کفری ہے ۔
صبح گاڑی کرایا پر لیا تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ہم لوگوں کفری کے لئے روانہ ہو گئے کفری جوں جوں قریب ہورہا تھا برف کے زرات نظر آرہے تھے، کچھ دور پہونچا ہی تھا کہ گاڑی اچانک روکی اور ڈرائیور کہ نے لگا یہ بہت خوبصورت جگہ ہے، یہاں کچھ دیر اس کی خوبصورتی کو اپنے آنکھوں کے پنجرے میں قید کر لیں، ہم تمام ساتھی گاڑی سے اتر کر کچھ یادیں ان سے وابستہ کی پہاڑوں اور ان پر برف کی سفید چادر کو دیکھا جو بہت ہی خوشنما نظر آرہا تھا۔
پھر اس بعد کے کفری طرف چل پڑا کچھ دیر میں کفری پہونچ گیا گاڑی روکی ہی تھی کہ کچھ لوگوں دوڑ کر آئے جو ٹور کروانے والے تھے، انہوں نے ٹور کی تمام چیزوں کا تذکرہ کیا۔ اور کن کن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کو بتلایا ان میں سے ہم لوگوں نے جوتا اور گھوڑا لیا جس کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ جوتا پہنا اس بعد گھوڑے تک پہونچنے کے لئے تقریبا ایک ڈھیر کیلو میٹر کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے، وہ جپسی گاڑی سے طے کیا، اور گھوڑے تک پہونچ گیا۔
پھر گھوڑے سے دو ڈھائی کیلو میٹر کی مسافت طے کرنی تھی، کبھی گھوڑے کی سواری نہیں کی تھی، اور میں پہاڑ کی کافی بلندی پر بھی تھا، جس کی وجہ سے کچھ گھبراہٹ ہورہی تھی، بالآخر مجبوری بھی تھی، چڑھ گیا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، گھبراتا ہوا دیکھ گھوڑے کی نکیل پکڑے ہوئے شخص نے ہیمت دلائی، جب گھوڑا چلنے لگا تو گھوڑے کی سواری کرنے میں مزہ آنے لگا اور بیس پچیس منٹ میں ہم لوگ ہماچل پر دیش کی ملکہ حسن کہلانے والی وادی شملہ کےکفری مقام پر پہونچ گیا، سابقہ مصنوعی خیالات کے مطابق یہاں وہ سارے نظارے دیکھنے لگا جو اب تک کانوں کی سمع پر موقوف تھا،خوبصورت پہاڑ،برف سے ڈھکے ٹیلے اپنے اندر الگ جاذبیت کا عکاس تھا،قدرتی حسن،سرد فضائیں، صاف شفاف ہوائیں، قدرت کے یہ انوکھے روپ نظروں کے سامنے تھا،ہر مکان بلندی پر گویا آسمانوں سے بات کررہے ہوں،بادل آسمانوں سے اتنے قریب کہ ناظرین سرگوشی کرتا محسوس کریں،ان سارے حسین لمحات نے مجھے اپنے وجود سے بے خبر کردیا،شملہ کی پر کیف فضاؤں میں ڈوب کر آرزوؤں کی تکمیل ہورہی تھی،کبھی برف پر کودتا تو کبھی سوتا،کبھی انگڑائیاں لیتا تو کبھی ایک دوسرے پر برف کے ڈلے پھینکتا،یہ سارے لمحات گزر رہے تھے،وقت اپنی روش پر تھا،حسین پلکین یاد رفتہ بن رہی تھیں،حال ماضی کےلئے ایک مکمل داستان تیار کررہا تھا شام ہونے لگی وقت پتا ہی نہ چلا ساتھیوں نے کہا اب واپسی کا رقت سفر باندھ لیا جائے مگر کفری کی پرکشش فضائیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی رہی تھی ۔
بہر حال ہم لوگ واپسی کا رخت سفر باندھ کر شملہ اسٹیشن پہونچ گئے کچھ ہی دیر میں ٹرین آگئی اور ہم لوگوں مدرسہ واپس آگیے
بس میں اس پیغام سے اپنے سفرنامے کو تمام کرتا ہوں۔
مسافرت کا ولولہ سیاحتوں کا مشغلہ
جو تم میں کچھ زیادہ ہے سفر کرو سفر کرو
*شریک سفر-*
*مولوی محمد عادل حسین القاسمی*
*مولوی حسین احمد القاسمی*
*مولوی محمد شارق القاسمی*
*مولوی محمد انیس القاسمی*
*مولوی محمد آفتاب القاسمی*
*مولوی محمد جیلانی القاسمی*
پچھلا سفر نامہ...👇👇👇

تبصرے