عورت اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے

 عورت اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے

 طلعت ضیاء دربھنگہ

عورت اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے


اسلام ایک دین فطرت ہے اور اس کے تمام احکام بھی فطری حقیقتوں پر مبنی ہیں ۔ اسی طرح مردوعورت کے تعلقات بھی اسی قانون فطرت پر قائم ہیں ۔اسی قانون فطرت کے تحت مردوں کو الگ ذمہ داری دی گئی ، مثلا کمانا ، باہر کا کام کرنا حکومت کرنا اور دیگر وہ تمام امور جو مردوں سے متعلق ہیں ، اسی طرح عورتوں کو گھر کی اندرونی ذمہ داری دی گئی ہے اور عورتوں کو گھر کی زینت کہا گیا ہے کہ عورت اپنے گھروں میں رہے اور وہ گھر کے اندرونی نظام کو چلائے، گھر کی رونق کو بڑھائیں ، بازار کی زینت نہ بنیں ۔ اسی بنا پرحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم عورتوں سے چار وجوہات کی بنا پر نکاح کرو لیکن ان چاروں وجوہات میں سے دینداری کو ترجیح دو ، اس لئے کہ عورت اگر نیک اور دیندار ہوگی تو گھر کے نظام کوبحسن وخوبی چلائے گی اور اپنے اخلاق و کردار اور اپنے عادات واطوار سے اپنے گھر کوسنوارنے کی کوشش کرے گی ، اپنے بچے کی اچھی تربیت کرے گی ، اس لئے کہ بچوں کی تربیت اوران کی پرورش و پرداخت میں عورتوں کا بڑا دخل ہے بلکہ بچوں کی پرورش کرنے میں عورتوں کی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں جو عورتوں میں بدرجہ اتم اور کامل درجہ میں موجود ہوتی ہیں اور مردوں میں ان صلاحیتوں کا فقدان ہوتا ہے ۔ اولاد پر ان کے والدین کے حرکات وسکنات ، ان کے عادات واطوار اور زندگی گذارنے کے طور طریقہ کا بڑا اثر پڑتا ہے ، اگر والدین نیک ہوں گے تو ان کی اولاد نیک ہوں گی کیوں کہ بچہ کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔ بچہ سب سے پہلے اپنی ماں کی حرکات وسکنات کو دیکھتا ہے اور اسی کا اثر قبول کرتا ہے ، ماں نماز پڑھے گی تو بچہ بھی اپنی ماں کی نقالی میں نماز پڑھنا شروع کرے گا اور یہی نقالی حقیقت میں بدل جا تا ہے ۔ ماں تلاوت کرے گی تو بچہ کے اندر بھی قرآن پڑھنے کا شوق بیدار ہوگا لیکن اگر وہی ماں ٹی وی اور گانا بجانا کرے گی تو پھر بچہ بھی اسی اثر کوقبول کرتا جائے گا اور بالآخر بڑا ہوکر برے کردار کا حامل انسان بنے گا۔

 مسلم شریف میں ایک حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی تمام چیزیں متاع ( فائدہ اٹھانے والی چیز) ہے اور سب سے بہتر متاع نیک صالح عورت ہے۔ 

اگر ایک عورت نیک بخت اور خوش اخلاق ہو وہیں اس کے گھر میں اس کا شوہر یا اس کے گھر کا کوئی فرد بداخلاق اور بدکردار ہوتو و و نیک بخت عورت اپنے اخلاق وکردار کے ذریعہ اپنے شوہر اور اپنے گھر کے دیگر افراد کی احسن طریقہ سے اصلاح کر سکتی ہے اور اس طرح وہ اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بناسکتی ہے۔ وہ بھی ایک عورت ہی تھی جس نے سب سے پہلے اسلام کی خدمت کی اور اسلام کی اشاعت میں معاون و مددگار ثابت ہوئی ، یاد کریں وہ وقت جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حراء میں پہلی وحی نازل ہوئی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھبراۓ ہوۓ گھر تشریف لائے اور اپنی رفیقۂ حیات اور مونس و غمخوار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بے چینی اور گھبراہٹ کے عالم میں فرمایا کہ زملونی زملونی (مجھے کمبل اڑھاؤ، کمبل اڑھاؤ ) مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تسلی اور دلداری کے جو کلمات کہے وہ تاریخ اسلام کے صفحات پر زریں حروف میں نقش ہے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ کا خدا آپ کو کیسے ضائع کر سکتا ہے جب کہ آپ بے کسوں کی مددکر نے والے ہیں ، بے سہاروں کو سہارادینے والے ہیں ، بھوکوں کوکھانا کھلانے والے ہیں ، آخر ایک عورت ہی تھی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودلاسہ دلا یا ، آپ کو ڈھارس بندھائی اور آپ کا حوصلہ بڑھایا،اسی طرح ذرا اس واقعہ کو بھی یاد کرلیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا دشمن اسلام اپنی بہن کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ سن کر اس ارادہ سے اپنی بہن کے گھر پہونچتے ہیں کہ آج بہن بہنوئی کا خاتمہ ہی کر دیں گے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی بہن بہنوئی کو بہت مارا مار مارکر لہولہان کر دیا، بہن نے انتہائی صبر واستقامت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کہا کہ عمراگر تم میری جان بھی لےلوتب بھی میں اپنے اس دین سے پھرنے والی نہیں ہوں، بالآخر بہن کے صبر و استقامت اور ہمت واستقلال کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھٹنے ٹیک دئیے اور وہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔بہ بھی عورتیں ہی تھیں جنہوں نے اپنے ہمت واستقلال سے تاریخ اسلامی میں انمٹ نقوش چھوڑے، آج کی عورتوں کے لئے ان میں بڑاسبق اور سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ عورت اگر باہمت ہو صبر و استقامت کی پیکر ہو عزم و ہمت کا نمونہ ہو تو وہ اپنے اس نمونہ کے ذریعہ گھر خاندان اور معاشرہ کے رخ کو بدل سکتی ہے۔اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنانے کے ساتھ ساتھ پورے معاشرہ اور سماج کوگل گلزار بناسکتی ہے۔عورت اپنے اخلاق وکردار اور اپنے عادات واطوار کے ذریعہ دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت پہلے اپنے اخلاق وکردار کو سنوارے اور اس کی روشنی میں اپنے گھر، خاندان اور معاشرہ کو جنت نظیر بنائے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں