نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط (1)

 نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم

 قسط (1)

ازقلم: اسعد اقبال یکہتوی



    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الـمـرأة فـاذا اخـرجت استشرفها الشيطان" ( بخاری شریف : ص ۲۶۹ مسلم شریف : ص ۲۳۱ ) ترجمہ : عورت گویا کہ ستر ہے یعنی جس طر ح ستر کو چھپارہنا چاہیے اسی طرح عورت کو گھر میں پردے میں رہنا چاہیے ، جب عورت باہرنکلتی ہے تو شیاطین اس کوتاکتے ہیں اور اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں ، ہمارے معاشرہ اور سماج میں بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں ایسی ہیں جن سے پردہ کرنا عیب شمار کیا جا تا ہے اور پردہ کرنا ان لوگوں سے شریعت کے خلاف تصور کیا جا تا ہے جبکہ وہ لوگ ایسے ہیں جن کو شریعت نے انتہائی خطرناک قرار دیے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  "ایاکم والدخول على النساء فقال رجل يارسول الله ارأيت الحمو قال الحمو الموت" ( معارف الحدیث ج ۳۳۰/۵ ) ترجمہ :  "تم نامحرم عورتوں کے پاس جانے سے بچو ( اور اس معاملہ میں بہت احتیاط کرو ) ایک شخص نے دریافت کیا کہ شوہر کے قریبی رشتہ داروں مثلا دیور اورجیٹھ وغیرہ کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ نے ارشادفرمایاوہ بالکل موت اور ہلاکت ہے۔" سماج میں دیکھا جارہا ہے کہ دیور، نندوئی بہنوئی اس طرح کے لوگ اور رشتہ داروں سے پردہ نہیں کرتے جبکہ شرعی حکم یہ ہے کہ ہر نامحرم سے پردہ ضروری ہے اور نامحرم ہر وہ مرد ہے جس سے نکاح درست ہواس لیے ان سب جگہ پردہ کا پور اہتمام کریں اور دوسروں سے بھی کرائیں۔

آج کل ہماری عورتوں کا یہ حال ہو چکا ہے کہ دو پٹہ فیشن سمجھ کر گلے میں ڈال لیا جا تا ہے نہ اس سے سر ڈھک پاتا ہے، نہ گلا اور نہ گریبان۔اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں اسی طرح پھرا کرتی تھیں کہ دو پٹہ سر پر ڈال کر اس کے دونوں کنارے پیچھے کمر پر چھوڑ دیا کرتی تھیں، گلا اور کان کھول کر بازاروں میں پھرا کرتی تھیں اور اس لیے اس کے بعد مسلمان خواتین کو حکم ہوا ۔ " وليـضـريـن بـخـمـرهـن عـلـى جیوبھن" کہ اپنے دوپٹہ اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں قرآن کا یہ حکم رسم جاہلیت کو مٹانے کے لیے تھامگر آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارامعاشرہ زمانۂ جاہلیت کی حدوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے زمانۂ جاہلیت میں اسلام سے پہلے اتنی برائی نہیں ہوگی جو اب دیکھنے میں آ رہی ہے ، اُس وقت کم سے کم سروں پر دو پٹہ تو ہوتا تھا لیکن آج وہ بھی نہیں ہے نوخیر لڑکیاں اس قدر فیشن کی دنیا میں اتر گئی ہیں کہ بتلاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ کہیں لباس میں فیشن ہے تو کہیں رفتار و گفتار بھی فیشنی ہے مزید افسوس اس بات پر ہے کہ یہ بے حیائی اور بے شرمی کا لباس اپنا کر بڑے ناز وانداز سے اپنے اپنے حسن وجسم کی نمائش کرتی ہوئی پارکوں اور تفریح گاہوں میں گھومتی پھرتی ہیں ، جناب ہاشم عظیم آبادی نے کیا خوب کہا ہے:

 ہے شرم وحیا جن کو جھکالیں وہ نگاہیں                    فیشن کی پرستار ہیں جو بازار میں آویں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں