نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم آخری قسط (5)
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم
آخری قسط (5)
اسعد اقبال یکہتوی
غیر شادی شدہ عورت کو چوڑیاں نہ پھننے کا رواج: بعض علاقوں میں دستور ہے کہ غیر شادی شدہ عورت کو چوڑیاں نہیں پہننے دیتے اور کہتے ہیں کہ اس سے عورت سہاگن معلوم ہوتی ہے ، جبکہ عورتوں کو ہر حال میں چوڑیاں پہننا جائز ہے، بعض لوگوں کا اس کو معیوب سمجھنا اور دلہن کی علامت قرار دینا غلط ہے ، البتہ غیر شادی شدہ عورت کو زیادہ زیب وزینت کرنا بوجہ خوف فتنہ جائز نہیں ۔ ( ترمذی شریف : ج ۱ / ص ۳۲ )
عورتوں کا چوڑی دار پائجامہ وغیرہ پھننے کا دستور: آج کل کی عورتیں بالخصوص شہر کے رہنے والی نو جوان لڑکیاں ایسے لباس کو پسند کرتی ہیں جس سے پورا بدن ظاہر ہوتا ہے جبکہ ایسے باریک اور تنگ لباس کو اختیار کرنا شرعا بالکل غلط ہے عورتوں کو چاہیے کہ اس سے احتیاط کریں خصوصاً ایسے وقت کہ خاندان کے غیر محرم لوگ بھی اسی جگہ رہتے ہوں ایسے لباس کو استعمال کرنے والی عورتوں کے لیے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ "عن أبي هريرة انه قال نساء كاسيات عاريات مائلات مميلات لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحهـا يوجد من مسيرة خمس مأة سنة" ترجمہ : ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ عورتیں ایسی ہیں جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوتی ہیں لیکن در حقیقت وہ ننگی ہوتی ہیں اور دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے اور دوسروں کی طرف مائل ہونے والی ہوتی ہیں ، ایسی عورتیں ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ جنت کی خوشبو پاسکیں گی۔ ( مؤطاء امام مالک : ج ۲ / فتاوی محمودیہ ج ۲ / ص ۲۷۳ )
یہ کھنا کہ اصل پرده تو دل کا ہے رسمی پردہ کی کیا ضرورت ہے: صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت امت کی مقدس ترین اور افضل ترین جماعت ہے ، یہ وہ طبقہ ہے ، جن کے دور کو خیر القرون کہا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثاروں کی یہ جماعت انتہائی درجہ کی پاکباز جماعت ہے ، اس کے باوجود بھی قرآن کریم کا ان کے لیے حکم ہے : "وإذاسـئـلـتمـوهـن متاعا فسعلوهن من وراء حجاب." ترجمہ : اور جب تم ان سے ( یعنی ازواج مطہرات سے) کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر کھڑے ہوکر مانگا کرو۔
حضرت انسؓ ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں اس کے باوجود حضرت انسؓ بلوغ کو پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم خاص پر پابندی عائد کر دی اور ازواج مطہرات سے پردہ کا حکم فرمایا ، اور آج کے اس پرفتن دور میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے کہ دل صاف ہونا چاہیے رسمی پردے کی ضرورت نہیں ہے ، جبکہ یہ تو کھلم کھلا شریعت کا مذاق اڑانا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری ماؤں اور بہنوں کو پردے میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
پہلی قسط پڑھنے کے لیے اس 👇 لنک پر کلک کریں۔
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 1
دوسری قسط پڑھنے کے لیے اس 👇 لنک پر کلک کریں۔
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 2
تیسری قسط پڑھنے کے لیے اس 👇 لنک پر کلک کریں۔
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 3
چوتھی قسط پڑھنے کے لیے اس 👇 لنک پر کلک کریں ۔
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 4

تبصرے