نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم (قسط 4 )
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم (قسط 4 )
اسعد اقبال یکہتوی
غیر محرم کو سلام کرنے کی رسم: عموما معاشرہ میں یہ رواج بنا ہوا ہے کہ اجنبی لڑکی مثلا سسرال کے قرب و جوار کی لڑکیاں سالیاں وغیرہ اسی طرح غیر محرم عورتیں غیر محرم مردوں کو مثلاً نندوئی ، بہنوئی ، دیور کو سلام کرتی ہیں اور اس سلام و جواب کو نہ کرنے پر طعن وتشنیع ہوتی ہے ، جبکہ مرد کے لیے اجنبی عورت کے لیے ایک دوسرے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا جائز نہیں اگر کسی نے سلام کر بھی لیا تو جواب دل میں دے آواز سے نہ دے ۔ ( احسن الفتاوی : ج:۴۲:۸ )
عورتوں کا اپنے محارم کے سامنے ننگے سر گھومنا:
عموما دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں اپنے محارم کے سامنے ننگے سر پھرتی رہتی ہیں اور اس کو جائز سمجھتی ہیں ، جبکہ اس حرکت کو شریف اور دیندار گھرانوں میں بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے نیز عورتوں میں بے پردگی و آزادی کے شیوع کا ذریعہ ہے ، علاوہ ازیں محارم کے سامنے بھی سینے کے ابھار کا ظاہر کرنا بہت بڑی بے حیائی ہے ، لہذا عورتوں کا اپنے گھروں میں اپنے محارم کے سامنے ننگے سر گھومنا اور سینہ کے ابھار کو ظاہر کرنا بھی خلاف احتیاط ہے اس لیے پوری پوری احتیاط کی جائے۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیے ، احسن الفتاوی ج: ۵، ص: ۵۲ )
عورتوں کا تفریح کے لیے جانا:
عموما عورتوں اور لڑکیوں کا تفریح کے لیے برقع اوڑھ کر اپنے شوہر، والد یا کسی محرم کے ساتھ عام تفریح گاہوں جیسے کلفٹن پارک وغیرہ میں جانے کا دستور بن گیا ہے ، جبکہ بغیر کسی شرعی ضرورت کے عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا بالکل ناجائز ہے، عورتیں اگر چہ خود برقع میں ہوں ، ان کے چہرے پر خواہ کسی غیر مرد کی نگاہ بھی نہ پڑے، لیکن خود ان عورتوں کی نگاہ تو غیر مردوں کے چہرے پر پڑتی ہے اور وہ ان کو دیکھتی ہیں۔
مزید افسوس یہ ہے کہ تفریح کے لیے تفریح گاہوں میں جانا ، لوگوں نے شرعی ضرورت میں شامل کر لیا ہے ، جبکہ علماء کرام حج وعمرہ پر جانے والی عورتوں کو نماز کے لیے مسجد حرام اور مسجد نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں بھی جانے سے منع فرماتے ہیں ، اور اپنی اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں ، اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ تفریح گاہوں کی اہمیت کیا ان مسجدوں میں نماز پڑھنے سے بھی زیادہ ہے ، آج کل بعض دیندارلوگ بھی صوفیانہ وضع کے ساتھ اپنی بیوی اور جوان لڑکیوں کو لے کر عام تفریح گاہوں اور پارکوں میں جا کر بیٹھنے اور کچھ کھانے پینے کا شغل کرتے ہیں، یعنی ایک طرح کی پکنک مناتے ہیں ، جس سے عام لوگوں کے ذہنوں میں اس کے جواز کا خیال پیدا ہوتا ہے۔
ہمیشہ یاد رہے یہ بات کہ قرآن وحدیث میں عورت کو پردے کی سخت تاکید اور عورت کے باہر نکلنے میں مفاسد کثیر کے پیش نظر عورتوں کا تفریح کے لیے گھر سے باہر نکلنا قطعا جائز نہیں، اگر نکلے گی تو اس کے علاوہ اس کا شوہر اور دوسرے اولیاء سخت گنہگار ہوں گے ، ان سب لوگوں پر ایسے فسق و فجور سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: "وقرن فی بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى" کہ عورت بلاضرورت برقع اوڑھ کر بھی گھر سے باہر نہ نکلے ۔ ( احسن الفتاوی : ج:۸، ص: ۴۸ )
جاری..............
پہلی قسط پڑھنے کے لئے اس 👇 لنک پر کلک کریں۔
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 1
دوسری قسط پڑھنے کے لئے اس 👇 لنک پر کلک کریں۔
نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 2
تیسری قسط پڑھنے کے لئے اس 👇 لنک پر کلک کریں۔


تبصرے