نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم ( قسط 3)

 نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم 

  ( قسط 3)

 اسعد اقبال یکہتوی 

  

نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط 3


   
نامحرم سے چوڑیاں پھننا: اکثر عورتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ بازار میں جا کر نامحرم مردوں سے چوڑیاں پہنتی ہیں جبکہ شرعاً کسی اجنبی اور غیر محرم مردکو اپنا ہاتھ پکڑانا یا کوئی عضو مس کرنے پر قدرت دینا عورت کے لیے بلاضرورت شدید حرام ہے اور چوڑیاں پہننا ضرورت شدید میں داخل نہیں کیونکہ چوڑیاں خود بھی پہن سکتی ہے یاکسی تجربہ کار چوڑی پہنانے والی عورت سے بھی پہنواسکتی ہیں لہذامنیہار سے چوڑیاں پہننا اور پہنوانا بالکل ناجائز ہے اس کو ترک کر دینا چاہیے۔ ( احسن الفتاوی : ج ۸ / ص ۳۱ ، فتاوی محمود میرج ۱۲ / ص ۱۸۵ ) 

ہیجڑے سے پردہ نہ کرنے کا رواج:  بعض عورتیں خیال کرتی ہیں کہ ہیجڑے سے پردہ کرناضروری نہیں ہے کیونکہ ان میں جماع کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی عورتوں کا یہ خیال بالکل باطل اور غلط ہے ، شرعاً ہیجڑے سے بھی پردہ ہے اس لیے کہ پردہ کامبنی اور مدار قدرتِ جماع نہیں۔ حدیث میں ہے بغرض استلذاذ دیکھنا، باتیں سنا یا ہاتھ سے مس کرنا ، آنکھ کان اور ہاتھ کا زنا ہے اور یہ صفت پیجڑے میں بھی موجود ہے ، نیز بہت سے ہیجڑے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں مردانہ قوت موجود ہوتی ہے ، لہذا بیجڑے سے پردہ کرنا بھی اسی قد ضروری ہے جس طرح غیر ہیجڑے سے ۔ ( احسن الفتاوی : ج ۸ / ص ۳۵ )

سسر سے بھی پردہ ضروری ہے: بعض عورتیں یوں خیال کرتی ہیں کہ سسر سے پردہ فرض نہیں اور وہ اس خیال سے سسر سے پردہ نہیں کرتیں جبکہ یہ بات تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سسر سے پردہ فرض نہیں ہے لیکن ایسے ہی بعض علاقوں میں ساس سے مصافحہ کرنے کا رواج ہے جو انتہائی خطرناک ہے ایسی حالت میں بھی اگر کسی ایک کو شہوت ہوگئی تو داماد پر اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی ، داماد سے ساس پر پردہ تو فرض نہیں ہے لیکن اگر ساس کچھ جوانی کی سی حالت میں ہوتو فتنہ سے بچنے کی وجہ سے احتیاط ضروری ہے تنہائی اور سفر وغیرہ سے اس کے ساتھ احتیاط کریں۔ ( احسن الفتاوی : ج ۸ / ص ۳۶ )

 پردہ ہونے کی عمر: عام طور سے یہ بات مشہور ہے کہ پردہ اس وقت فرض ہوتا ہے جس وقت مرد کے چہرے پر بال آنے شروع ہو جاتے ہیں اور لڑکی جب بالغ ہو جاتی ہے ، حالانکہ یہ خیال میری اپنی رائے سے بالکل غلط ہے کیونکہ پردہ سے مقصود مردوں اور عورتوں کی بدنظری اور برے خیالات سے محفوظ رکھنا ہے ، سو جس عمر سے بچوں میں اس گناہ میں مبتلا ہونے کا احتمال ہوگا وہ اسی عمر سے احکام حجاب کے مکلف ہوں گے اور پردہ کے سلسلہ میں ایسے بچوں کا وہی حکم ہوگا جو بالغ مردوں اور عورتوں کا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں ارشاد خداوندی بھی ہے۔ "والطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء" یعنی جب بچے میں شہوت پیدا ہو جائے تو اس سے پردہ کرنا فرض ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ جب بچہ بالغ ہو جائے یا اس کے چہرے پر بال نکل جائیں یا لڑکی جس وقت بالغ ہوجائے اس وقت پردہ فرض ہوتا ہے ، جبکہ یہ بات بالکل غلط اور ناجائز ہے بچہ اور بچی میں جب شہوت محسوں ہونے لگیں تو اسی وقت پردہ فرض ہو جاتا ہے۔ ( احسن الفتاوی : ج ۸ ص ۳۷ )


   نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط( 1 )پڑھنے کے لیے اس👇 لنک پر کلک کریں۔

نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط( 1 )پڑھنے کے لیے اس 👇لنک پر کلک کریں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں