نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط (2)

نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم

 قسط (2)

ازقلم: اسعد اقبال یکہتوی

نامحرموں سے پردہ کا شرعی حکم قسط (2)


 حضرت فاطمہ اور پردہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے سوال فرمایا کہ عورت کے لیے کیا چیز سب سے بہتر ہے ، حضرت فاطمہ نے جواب میں فرمایا کہ نہ عورت کسی مردکود یکھے اور نہ ہی مردکسی عورت کو دیکھے ۔ یہ جواب سن کر آپ نے انھیں گلے سے لگایا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کا جواب سن کر ارشادفرمایا : "صدقت انها بضعة منی" کہ فاطمہ نے درست کہا بلاشبہ وہ میرا ایک جزہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو جنت میں سب عورتوں کی ملکہ ہوں گی انھوں نے بھی عورتوں کے لیے بہترین عمل اور نسخۂ حجاب اور پردہ ہی تجویز فرمایا، لیکن فیشن کے بہاؤ میں بہنے والی خواتین کو اس کی کوئی فکر نہیں کہ ان کے لیے کیا چیز اچھی ہے کیا بری ہے آج کی عورتوں کا یہ حال ہے کہ آدھی آستین والی قمیص بلکہ مزید بار یک لباس میں ملبوس اور نہایت تنگ لباس پہن کر اور پورے طریقہ سے بن سنور کر کھلے سرکھلا چہرہ بازاروں میں مردوں کے سامنے اپنے حسن و جمال کا مظاہرہ کرتی ہوئی پھرتی ہیں ایسی ہی عورتوں کے متعلق آپ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ "کـاسـيـات عـاريـات مميلات مائلات" ترجمہ : کہ بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوتی ہیں لیکن درحقیقت وہ ننگی ہوتی ہیں ، اور دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے اور دوسروں کی طرف مائل ہونے والی ہوتی ہیں اور پھر آپ کی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ ایسی عورتیں ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ جنت کی خوشبو پاسکیں گی ۔ 

الیکشن اور بے پردگی :

 آج کل یہ بات عام ہوگئی ہے کہ عورتیں انتخابات میں حصے لینے لگی اور مردوں پر حکومت کرنے لگیں ہیں ، جب کہ قرآن میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے ۔ "الرجال قوامون على النساء" کہ مرد عورتوں پر حاکم ہوتے ہیں،لیکن اس کے باوجود بھی مسلمان اپنی عورتوں کو الیکشن کے ذریعہ سربراہی کی زندگی دیتے ہیں اور ان کو بے حیائی کے راستہ پر لگاتے ہیں افسوس کس طرح قرآن و حدیث کو مسلمانوں نے چھوڑ دیا جبکہ عورتوں کے لیے ووٹ استعمال کرنا اور انتخابات میں حصہ لینا قطعاً جائز نہیں ہے ، خواتین کو کسی عہدہ کے لیے بھی تجویز کرنا گناہ ہے ، البتہ جب انتخابات اسلامی غیر اسلامی نظریہ پرمبنی ہوں یا ایک امید وار صالح اور اس کے مقابلہ میں دوسرا فاسق ہو اور خواتین کا ووٹ استعمال نہ کرانے میں دین کو خطرہ ہوتو اس وقت عورتوں کا ووٹ استعمال کرنا کرانا ضروری ہے اور جہاں یہ معذوری اور مجبوری نہ ہو تو ایسی صورت میں عورتوں کا نکلنا اور ان کے ووٹ دلوانا یا بازار وغیرہ میں سے ان سے سامان منگوانا بلا مجبوری کے قطعاً جائز نہیں ہے ، اس زمانہ میں لوگوں نے خواہشات نفسانیہ اور ہوس بے لگام کو ضرورت کا نام دے رکھا ہے عورت کے متعلق مردوں پر فرض ہے کہ بلاضرورت عورت کو باہر جانے سے منع کریں اور انتخابات جیسی کوتاہیوں سے ان کو بچائیں ورنہ مرد بھی عورتوں پر حاکم ہونے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے جیسا کہ حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نگراں سے ان کے ماتحت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں