مؤمن کبھی مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ مایوسی کفر ہے
مؤمن کبھی مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ مایوسی کفر ہے
🖋️ازقلم:- محمد اطہرحبیب
اللہ تعالی سے امید رکھنا اس کو حق تعالی نے فرض عین قرار دیا ☀️اگر غلطی ہو گئی تو مایوس ہرگز نہیں ہونا ☀️ نا امید تو شیطان ہوتا ہے☀️خدا کی قسم مایوس ہونا، نا امید ہو جانا حرام نہیں کفر ہے ! ☀️توبہ کے ذریعے سے بندہ بالکل پاک وصاف ہو جاتا ہے☀️ توبہ ندامت کا نام ہے☀️ حق تعالی جس کو قبول فرماتے ہیں کبھی اس کو مردہ نہیں فرماتے☀️
دنیا دارالامتحان ہے، یہاں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں، ان آزمائشوں کے ساتھ ایک مومن کو زندگی گزارنا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :
الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر:
دنیا قید خانہ ہے مومن کے لیے اور جنت ہے کافر کے لیے۔
جب زبان رسالت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ دنیا مومن کے حق میں قیدخانہ یعنی تکلیف کی جگہ ہے تو ایک مومن کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسے ایسے موقع پر صبر کا دامن تھامنا ہوگا۔ مومن کو پہنچنے والی تکلیف کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے،اللہ کسی مومن کو مال میں آزمائے گا، کسی کو اولاد میں آزمائے گا اور کسی کو جسمانی طور پر آزمائے گا یعنی مومن کا سامنا فقر، بے چینی، خوف، بیماری، مشغولیت اور ناکامی وغیرہ سے ہوسکتا ہے لیکن مومن ان مصائب ومشکلات سے ہرگز نہیں گھبراتا ہے، نہ وہ جزع فزع کرتا اور نہ بے صبری کا مظاہرہ کرکے مایوسی اور غلط راہ روی کا شکار ہوجاتا ہے بلکہ صبر کا پہاڑ بن کر بڑی سے بڑی مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے۔
پہلے یہ جان لیں کہ مصیبت تقدیر کا حصہ ہے،ہمارے عقیدے میں اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا شامل ہے۔ پریشانی اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس کو وہی دور کرسکتا ہے لہذا مصیبت کے وقت ہم اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور اسی سے مدد مانگیں گے۔ کسی پر پریشانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی برا آدمی ہے بلکہ اللہ کسی کو پریشانی میں مبتلا کرکے اس کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرتا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ
اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و برکت کا ارادہ کرتا ہے اسے مصائب وآلام میں مبتلا کردیتا ہے۔
اس لئے جس کسی مسلمان کے ساتھ آزمائش ہو اس کو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ اس کو اونچا اٹھا رہا ہے نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر بدگمان ہونا، اس کا مذاق اڑانا اور لوگوں میں اس کی مصیبت کا ذکرکرکے اس کی عزت اچھالناایک اچھے مسلمان کی علامت نہیں ہے۔ اسی طرح مصیبت کے وقت اول وحلہ میں صبر کرنے کے ساتھ رونے دھونے اور شکوہ شکایت سے پرہیزکرنا چاہئے۔
انسان کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آتے ہیں۔ کبھی غم اور مصیبت پیش آتی ہے تو کبھی خوش و مسرت ملتی ہے۔ کبھی تنگ دستی و غربت سے سابقہ پڑتا ہے تو کبھی خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔ صحت بھی ملتی ہے اور بیماری بھی آتی ہے۔ ایک سچا مومن جو خدا پر ایمان و یقین رکھتا ہے، خدا کی ذات پر مکمل بھروسہ کرتا ہے اور خدا ہی کو اپنا واحد سہارا بنالیتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ سے راضی و خوش رہتا ہے اور اس کے ہر فیصلے پر سر جھکا دیتا ہے۔ نہ وہ مال و دولت اور دنیا کی آسائش اور خوشیاں پاکر اپنے رب کو بھول جاتا ہے نہ دنیا پرست بن جاتا ہے۔ نہ ہی وہ تنگ دستی، بیماری اور آزمائشوں و پریشانیوں میں اپنے رب کا ناشکرا بن کر اس سے شکوہ و شکایت کرتا ہے۔ بلکہ مومن تو ہر حال میں صبر و رضا کا پیکر بنا رہتا ہے۔ اس کی روش یہ ہوتی ہے کہ جب فتح مندیاں، کامیابیاں اور خوشیاں اسے میسر ہوتی ہیں تو وہ اتراتا نہیں بلکہ اپنے مالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب ناکامیاں، پریشانیاں اور آزمائشیں اس کے حصے میں آتی ہیں تو وہ حکمت ایزدی پر برہم ہونے کے بجائے صبر و رضا سے کام لیتا ہے اور اپنے مالک سے حالات کا رخ پھیرنے کی دعا کرتا ہے۔
سب کا نتیجہ یہ ہے کہ :مومن کبھی بھی خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا ہے ، اور کبھی بھی زندگی کو اپنے لئے سخت نہیں دیکھتا ہے ، بلکہ خدا کی رضایت پر راضی ہوتا ہے ، دنیا ، امتحان کی جگہ ہے اور اس میں پیش آنے والی پریشانیاں اور مشکلات مومن کے گناہوں کو بخشنے کا یا بلند درجات تک فائز ہونے کا وسیلہ ہے ، اس لیے ناامید نہیں ہونا چاہئے ،بے صبری کو اپنے آپ سے دور کریں ، تمام کاموں کو خدا کے سپرد کرے اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور خدا پر توکل کریں اور خدا کو محور قرار دیتے ہوئے اپنے مشکلات کو ختم کرنے کے لئے کوشش کریں ، زیادہ سے زیادہ دعا پڑھیں، قرآن کی تلاوت کرے ، واجبات کو بجا لائے دوسروں کو اذیت پہنچانے اور حرام مال کھانے سے اجتناب کرے ، ان شاء اللہ خداوند ان کی مشکلات کو رفع کرے گا اور سب کو صحیح ہو جائے گا ۔ انشاءاللہ

تبصرے