ایک آسان نکاح
---- ایک آسان نکاح ----
✍️ابوطالب قاسمی کشن گنج
![]() |
جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ کل بتاریخ ۴/دسمبر۲۰۲۲ء بروز اتوار کو مولانا معظم عارفی صاحب قاسمی کشن گنجی رشتہ ٔ ازدواج میں منسلک ہوگئے اس سے بڑھ کر خوشی اس بات پر ہورہی ہے کہ انہوں نے ایک آسان نکاح کرکے سنت نبوی پر عمل کیا اور تمام مسلمانوں کو اس سنت نبوی کی طرف مدعو کیا اور اس پرفتن دور میں جبکہ لوگ فضول خرچی پر مفاخرہ کرتے ہیں انہوں نے ثابت کردکھایا کہ آج بھی نکاح کوئی مشکل نہیں اور آج بھی
سنت رسول پر عمل پیرا ہونا بہت آسان ہے ۔
اس موقع ہم مولانا معظم عارفی صاحب کو نیک خواہشات پیش کرتے ہیں اور اس مثبت اقدام پر ان کا تہ دل سے استقبال کرتے ہیں ۔
- معظم عارفی صاحب تمہیں شادی مبارک ہو
- مسرت اور خوشیوں کی نئی وادی مبارک ہو
- نبیٔ پاکؑ کی سنت کو تم نےکردیا زندہ
- مکمل ہوگیا ایمان، تازہ اور تابندہ
- امنگ و آرزو ہیں اور بہاریں ہی بہاریں ہیں
- تمہاری زندگی کی خوبصورت ابتدائیں ہیں
- خدا کا شکر ہے کیسے مقدس، پاک لمحے ہیں
- ہر اک جانب "مبارک ہو"مبارک ہو" کے نغمے ہیں
- ہر اک لب پر دعائیں ہیں، رہیں شیر وشکر دونوں
- محبت چاہت و الفت میں ہردم ہم قدم دونوں
اسلام نے نکاح کو بہت ہی آسان بنایا ہے بلکہ نکاح سے آسان کوئی چیز ہے ہی نہیں، اسلامی نکاح کہتے ہیں دوگواہوں کی موجود میں عاقدین کا ایجاب وقبول کرنا؛ یعنی کہ محض دو گواہوں کی موجودگی میان بیوں یا وکیل ایجاب وقبول کرلے تو نکاح ہوجاتا ہے، جس کے لیے طویل جد جہداور کوئی منظم پروگرام کی کوئی ضرور نہیں ہے۔
بلکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : أعظَمُ النِّکَاحِ بَرَکَۃً أیسَرُہ مَئُونَۃً (احمد:24529) ”سب سے زیادہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو“۔
جس میں نہ تو رسموں کا کوئی تکلف اور نہ ہی کسی قسم کی فضول خرچی ہو بلکہ صرف نگاہوں کی حفاظت اور نسل انسانی کی افزائش مقصود ہو،
اور قرآن کریم میں فضول خرچی کرنے والے کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے (بنی اسرائیل پارہ: ۱۵)
ایک دوسری حدیث میں ہے ”نکاح کا اعلان کرو اور اسے مسجد میں کرو۔“(ترمذی:1089)
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین میں سے بہت سے ایسے صحابہ ہیں جنہوں نے اپنا نکاح کرلیا اور نبی اکرم کو خبر تک نہ ہوتی، پھر جب کسی کے نکاح کا علم ہوتا تو آپ علیہ السلام خوشی کا اظہار فرماتے، دعاؤں سے نوازتے اور دعوت ولیمہ کامطالبہ کرتے ان الفاظ کے ساتھ "اولم ولوبشاۃ"(نسائی)
یعنی ولیمہ کھلاؤ اگرچہ ایک بکری ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو ۔
معلوم ہوا کہ اسلام کے مزاج ہی میں آسان نکاح ہے،
مگر افوس کہ شریعت نے نکاح کو جتنا آسان بنایا تھا ہمارے معاشرے نے اس کو اتنا ہی مشکل بنادیا، لوگ نکاح کے نام سے ڈرتے ہیں، لڑکیوں کی شادیاں کرانے سے گھبراتے ہیں بلکہ لڑکیاں بلوغت کی دہلیز پر قدم نہیں رکھتی مگر والدین کی نیندیں حرام ہوجاتی ہے، غریبوں پر تو قیامت آجاتی ہے بہت سی لڑکیاں اور بہت سے والدین اس مشکل نکاح کے بوجھ کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے خود کشی کرچکے ہیں، کئی گھر اجڑ چکے ہیں،بے شماربن بیاہی لڑکیاں نکاح کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہیں، لاتعداد لڑکیاں دین اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوچکی، اور جسم فروشی کا دھندا بھی اسی مشکل نکاح کا بدترین ثمرہ ہے، شورش کاشمیری نے اپنی کتاب *"اس بازار میں* میں جسم فروشی کی واحد وجہ مشکل نکاح قرار دیا ہے، گویا کہ اس مشکل نکاح نے سماج کو تباہ کردیا ہے عورتوں کو مجبورمحض اورمظلوم ومقہور بنادیا۔
افسوس اس بات کا ہے کہ آج مسلمان سنت نبوی سے ہٹ کر غیرں کے طریقے پر نکاح کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور فضول خرچی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا قیمتی اثاثہ اس میں ضائع کردیتے ہیں ۔
قابل تعریف ہیں مولانا معظم عارفی صاحب کہ انہوں نے اس دور میں بھی رسموں کو پیچھے چھوڑ کر دور نبوی کی یادیں تازہ کردی، سنت رسول کو زندہ کیا اور امت کے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ نکاح بہت آسان اور سہل ہے ،
ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت زوجین میں الفت ومحبت قائم رکھے نکاح کو متبرک بنائے اور نیک صالح اولاد عطا فرمائے اور اس مثبت قدم پر ان کو جزاء خیر عنایت فرمائے اور امت کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
۵/دسمبر ۲۰۲۲ء بروز پیر
- معظم عارفی صاحب تمہیں شادی مبارک ہو
- مسرت اور خوشیوں کی نئی وادی مبارک ہو
- نبیٔ پاکؑ کی سنت کو تم نےکردیا زندہ
- مکمل ہوگیا ایمان، تازہ اور تابندہ
- امنگ و آرزو ہیں اور بہاریں ہی بہاریں ہیں
- تمہاری زندگی کی خوبصورت ابتدائیں ہیں
- خدا کا شکر ہے کیسے مقدس، پاک لمحے ہیں
- ہر اک جانب "مبارک ہو"مبارک ہو" کے نغمے ہیں
- ہر اک لب پر دعائیں ہیں، رہیں شیر وشکر دونوں
- محبت چاہت و الفت میں ہردم ہم قدم دونوں

تبصرے