بابری مسجد اور 6دسمبرتاریخ کا ایک باب
بابری مسجد اور 6دسمبرتاریخ کا ایک باب
ازقلم:-محمد اطہرحبیب
بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے 16 ویں صدی میں ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں تعمیر کرائی۔ یہ مسجد رام کوٹ پہاڑی پر تعمیر کی گئی۔
بابری مسجد بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مسجد میں سے ایک تھی۔
1528ء کے لگ بھگ انتہا پسند ہندوؤں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مسجد رام کی جنم بھومی یعنی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے۔ 1949 میں مسجد کو بند کرا دیا گیا۔ اس طرح 40 سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں نے مسجد کو شہید کردیا۔ جس کے بعد بھارت میں اپنی تاریخ کے بدترین ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے
ہر سال دسمبر کا مہینہ آتا ہے اور کروڑوں محبین اسلام کو افسردہ و غمزدہ کرجاتا ہے چونکہ 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ رونما ہوا تھا وطن عزیز کی جمہوریت کو تار تار کرنے اور اسکی بنیادوں کو ہلادینے والے چند سیاست دانوں اور زعفرانی دہشت گردوں کی سازشوں کے باعث سینکڑوں سال سے اپنی گود میں مچلتے سجدوں کو سمونے والی پیاری بابری شیطانی چالوں کا شکار ہوگئی
صدیوں تلک تیری زمیں پر عشق نے سجدے کئے
تو ارتکاز عشق کی اک داستاں در داستاں
480 سالہ پرانی تاریخی بابری مسجد ویسے تو 6 دسمبر 1992ء کو شہید کی گئی مگر اس پر پہلا پتھر نہرو دو سرا اس کے نواسے اور تیسرا پتھر کو سیکو لر کہلوانے والی جماعت کانگریس کے وزیرا عظم نرسمہا رائو نے پھینکا۔ 2009ء میں بابری مسجد کی شہادت کے جب سترہ سال مکمل ہوئے تو اس پر قائم کئے گئے لیبر بان کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایل کے ایڈوانی، جوشی اور کلیان سنگھ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ جس پر کلیان سنگھ نے کہا " مجھے بابری مسجد کے انہدام پر ذرہ برابر بھی افسوس نہیں“ اسے دکھ یہ تھا کہ ابھی تک رام مندر کی تعمیر مکمل کیوں نہیں ہو سکی ؟ اس جگہ رام مندر کی تعمیر کا سہرا نریندر مودی نے اپنے سر سجایا جنہوں نے کو رونالاک ڈائون میں کشمیر کرفیو کا ایک سال مکمل ہونے پر فاتحانہ انداز میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا ایک اور انتخابی وعدہ پورا کر دیا ہے، اس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی حقیقت کو سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ
بابری مسجد سے متعلق تحریریں پہلے بھی آچکی ہیں اس کی تاریخی حقیقت کو لکھنے والوں نے تفصیل سے لکھا ہے اس پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اسکے باوجود ضرورت ہے کہ اس کے بارے میں بار بار لکھا جائے اس پر ہونے والے مظالم کو سال در سال لکھا جائے تاکہ آنے والی نسلیں حقیقت کو جانیں انہیں یہ معلوم رہے کہ اگر 1992ء میں بابری مسجد کو شہید نہ کیا گیا ہوتا تو کوئی بھی عدالت اس جگہ مندر تعمیر کا فیصلہ نہ دیتی انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ معصوم سی مسجد کو شہید تو کیا گیا لیکن ہزاروں تصویریں اور ویڈیوز ہونے کے باوجود انصاف کی آنکھ قاتلوں کو تلاش نہ کرسکی ایک جیتا جاگتا وجود اجاڑ دیا گیا اور اسکی لاش پہ نئی تعمیر کرکے لوگ خوشیاں بٹورنا چاہتے ہیں۔
شاید یہ بددیانت لوگ بابری مسجد کے واقعہ کو بھی تاریخی صفحات سے مٹانے کی کوشش کریں اسلئے یہ بات آنے والی نسلوں کے ذہن و دماغ میں پیوست ہونی ضروری ہے کیونکہ جو لوگ اپنی تاریخ کو بھلا دیتے ہیں تاریخ انہیں بھی فراموش کردیتی ہے اسلئے تاریخ خواہ اچھی ہو یا بری اسے بھولنا نہیں چاہئے اگر تاریخ اچھی ہے تو اس سے حوصلہ لینا چاہئے اور اگر بری تو اس سے سبق ..... یہی زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے۔
.jpeg)
تبصرے