تحریک آزادی میں اردو صحافت کا رول
       

🖋️ازقلم :محمد اطہر حبیب   

                    

              
     ہندوستان کی تحریک آزادی میں اردو صحافت نے قابل تعریف کردار ادا کیا ہے۔ اس دور میں لوگ اپنے غصے کا اظہار مختلف انداز میں کرتے تھے اور حکومت سے باغی ہو چکے تھے یہ باغیانہ جنون دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا۔ برطانوی حکومت کے ظلم و ستم بڑھنے کے باعث ملک کے دانشوروں، عالموں، شاعروں، مفکروں، اور وطن پرستوں نے یہ محسوس کیا کہ اب صبر کا باندھ ٹوٹ چکا ہے اور یہ لڑائی ہم سب کو مل کر وسیع پیمانے پر لڑنی ہوگی، عوام کو یکجا کر کے ہم فکر لوگوں کی جماعت بنائی جائے۔ اس کا بااثر ذریعہ صحافت ہی تھا۔ صحافت کا معاشرے سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے جو کہ سماج پر پوری طرح اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ ان وطن پرستوں نے اپنے احساس کو قلم کی طاقت بخشی اور اس طرح اردو صحافت نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی جس سے عوام کو بیدار کرنا بہت آسان ہو گیا۔ اس بات کی تصدیق اپنے زمانے کے معروف شاعر اکبر الہٰ آبادی کے اس شعر سے ہوتی ہے۔ 
                   "کھینچو نہ کمانوں کو تلوار نکالو "
                "جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو"
اردو صحافت کے دور میں کوئی بھی اخبار روزنامہ کے طور پر شائع نہیں ہوتا تھا۔ یہ ہفتہ روزہ ، سہ روزہ ، ماہانہ ہوتا تھا۔ ان اخباروں میں جو خبریں کچھ شائع ہوتی تھی وہ انگریزی اخبار سےکی جاتی تھی اردو اخبارات کے محدود ذرائع کی طرح ان کی تعداد اِشاعت بھی محدود تھی۔ اردو کا پہلا اخبار "جہاں نما" تھا جو کلکتہ کی سرزمین سے 1823ء میں منظر عام پر آیا۔ "جام جہاں نما" ہفتہ واری اخبار تھا، جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی ضرورت کے تحت نکلوایا تھا۔ اسے کبھی اردو کبھی فارسی کبھی دونوں زبانوں میں شائع کیا گیا"جام جہاں نما "کے سلسلے میں خاص بات یہ ہے کہ اس کے مالک ہری ہرات تھے اور ایڈیٹر لالہ سدا سکھ تھے۔ ابتداء میں اس کا پرنٹر ایک انگریز ولیم ہوپ کنگ تھا۔ 
چنانچہ 1823ءسے1857ء کی مدت تک اردو میں 122 اخبارات شائع ہونے کا سرکاری ریکارڈ آج بھی موجود ہے۔ 
ان میں سے چند کتابیں یہ ہے۔ 
*جام جہاں نما، صادق الاخبار، دہلی اردو اخبار، پیام آزادی، بغاوت ہند، سحر سامری، چشمہ فیض، گلشن نوبہار، پنجاب اودھ، اردو معلیٰ، الہلال، البلاغ، اخبار ہمدرد،
ان تمام کتابوں میں سے"صادق الاخبار" اس اخبار کا نمایا وصف یہ ہے کہ اس نے ظالم وجابر حکومت کے جبر کی پرواہ کئے بغیر حکومت کے خلاف وہ فتویٰ شائع کیا تھا جس پر اس وقت کے 35 علما کرام کے دستخط اور مہریں ثبت تھیں۔
 اسی طرح مرزا بیدار بحث کے اخبار "پیام آزادی" جس کے خاص نگراں تحریک آزادی کے سپہ سالار عظیم الله خاں تھے۔ انگریز اس اخبار سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ جب انگریزوں نے واپس دہلی پر قبضہ پایا تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان سبھی لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا جن کے گھروں سے" پیام آزادی "کا ایک شمارہ بھی برآمد ہوا۔
سب سے درناک کہانی مرزا بیدار بحث کی ہے جو" پیام آزادی " کے ایڈیٹر ہیں۔ انگریزوں نے مرزا بیدار بحث کے جسم پر سور کی چربی مل کر پھانسی دے دی تھی۔ 
اِن صحافیوں کی قربانیوں اور ان تمام لوگوں کی محنت کی وجہ سے اردو صحافت اپنے آغاز کے وقت بھی ملک میں تیسرے نمبر پر تھا۔ اور آج بھی الحمد للہ اردو صحافت تیسرے مقام پر ہی قائم و دائم ہے۔ 
بال منکد نے 1904ء میں بڑی دلچسپ بات لکھی تھی وہ یہ کہ ہندی اخباروں کے ریویو کا خیال دل میں آتے ہی پہلے اردو اخبار کی طرف نگاہ جاتی ہے کیوں کہ اردو اخبارات ہندی اخبارات سے پہلے جاری ہوئے اور پہلے ہی انہوں نے ترقی کے میدان میں قد آگے بڑھایا۔ 
اردو صحافت آزادی کے بعد سے 1900ء تک شائع ہونے والے تقریباً 25 فیصد اردو اخبارات 1823 مالک ہندو تھے۔ 
اس کے باوجود اردو اخبارات نے جذبات بر انگیختہ کرنے والی نظمیں اور باغیانہ مضامین شائع کئے۔ ہندوستان پر انگریزوں کے مظالم کو نمایاں اندازمیں شائع کیا۔ 
1830ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اردو کو ہندوستان کی سرکاری زبان بنایا۔ 
ہندوستان کی جنگ آزادی میں سب سے زیادہ قربانی اردو کے صحافیوں نے دی۔
 جس مصنف نے پہلی جنگ آزادی کے اسباب کا تجزیہ کیا جس نے پورے ملک میں انگریزی حکومت اور حکام کے خلاف نفرت پیدا کردی اور عوام وخواص صحافی وادیب کے دلوں میں غاصب حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے صف آرا کیا وہ پہلے صحافی مولوی محمد باقر ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی کے خاطر جان قربان کر دی 
اس کے بعد بغاوت کی وہ لہر جو مرکز حریت میرٹھ سے شروع ہو کر دہلی پہونچی تھی اس کی چنگاری کو شعلہ بنانے میں اردو صحافت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انقلابی جذبات کو ابھارنے اور عوام وخواص کو خبر سے باخبر کرنے کا اہم کارنامہ اردو صحافت نے بڑی کامیابی اور لیاقت کے ساتھ انجام دیا۔ 
اِس دور کے بعد اخباروں کا ایک سنہرا اور جوشیلا دور شروع ہوا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب ہندوستان میں ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی تھی اور عوام کے صبر کا باندھ ٹوٹ چکاتھا۔ اخباروں میں صاف گوئی اور بغاوت کا تیز رنگ آنے لگا ۔ 
حسرت موہانی نے یکم جولائی 1903ء کو علی گڑھ سے ماہانہ رسالہ " اردو معلیٰ " جاری کیا۔ اس رسالے کے پہلے ہی شمارے کی خوبی یہ تھی کہ اس میں مکمل آزادی کا مطالبہ کر دیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ ہندوستان میں سیاسی بیداری عروج پر تھی اور اس وقت کے تمام بڑے بڑے رہنما اتنی بڑی جرأت نہ کر سکے کہ مکمل آزادی کا مطالبہ کریں۔ ان اخباروں کے ذریعہ اردو صحافت کے شعلوں کو ہوا ملی اور آگے چل کر اندازۂ بغاوت اور انقلاب سے اخباروں کی چھڑی لگ گئی۔
مولانا الکلام آزاد نے 13 جولائی 1912ء کو 17 صفحات پر مشتمل ہفتہ وار " الہلال " اور 12نومبر 1915کو " البلاغ" جاری کیا۔ جس نے صحافت کو مزید توانائی بخشی مولانا آزاد ایک قابل عالم و مفکر اور مقرر تھے۔ ان کی بیباک بیانی ملت کی محبت اور وطن پرستی کے جنون نے آزادی کی لڑائی میں گھی کا کام کیا۔ اسی طرح ادیبوں کی بیباک بیانی اور شاعروں کے جوشیلے نغمیں اسے تقویت پہونچاتی رہی
لھذا ۔ آزادی کی ٓاگ روشن کرنے کے لیے اردو اخبارات نے جو خدمات انجام دیں ان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بہت سے اخبارات نے ایک بار نہیں چھ چھ بار ضمانتیں ضبط کرائیں اور اپنے ایڈیٹروں ، مقالہ نگاروں اور تبصرہ نویسوں پر جیل کے دروازے کھولے ۔ مولانا محمد علی جوہر ؔ کے اخبار "ہمدرد "کے فائل گواہ ہیں کہ وہ انگریزوں کے سینوں میں نشتر بن کر پیوست ہو تا رہا ۔تحریک ٓازادی میں اردو صحافت کی کارکردگی زرین حروف میں لکھنے کے قابل ہیں اور اس نقطہ نگاہ سے اسکے اندر خو بیاں ہی خوبیاں ہے مگر ایک خامی بھی ہے اور وہ ہے سرمائے کی کمی ۔ابتداسےاردواخبارات عام لوگوں نے جاری کئے ۔ اس وجہ اخبارات نکلتے تھے اور بند ہوتے تھے ۔اسکا ایک فائدہ یہ نظرآیا کہ اخبارات کے مالک عام لوگ تھے اس لئے وہ عام لوگوں کے جذبات واحساسات سے بخوبی واقف تھے ۔اور انکےجذبات کی نمائندگی کر رہے تھے ۔عوام کےجذبات کی ترجمانی کرتے کرتے ان کے دل کی ڈھڑکن ہو گئے ،انگریزون کو اسوقت چیلینج کیا جب کہ ان کی حکومت کا سورج غروب نہیں ہوتاتھا ۔غریب فاقہ پست اردو صحافیوں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو بھاگنے پر مجبور کیا ۔انگریز ہندوستان سے کیا بھاگے ساری دنیا سے انکے پیر اکھڑ گئے انکی سامراج کا دائرہ تنگ ہوتا گیا اور ملک پر ملک انکے چنگل سے آزاد ہوتے گئے ۔ یہ کارنامہ بذات خود اتنا بڑا ہے کہ اردو صحافت کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔کیو ں کہ اردو صحافت کے ذریعے سے ہی عوام کو انگریزوں کی پالیشیوں سے رو برو کرایا ۔انگریز نہیں چاہتے تھے کہ وہ ہندوستان سے جائے مگر یہاں کہ عوام میں ایک ٓازادی کے لئے ایک نیا جوش ودیوانہ پن سا دیکھنے کو، اپنےمال ودولت اور ملک کو آزاد دیکھنے کی آش دیکھنے لگے ۔ انگریزوں کو ملک سے باہر نکالنا اتنا آسان کام نہ تھا مگر اردو کےصحافیوں نے شعراوں نے مصنفوں نے اخبارات کے ذریعہ عوام کو ملک کی ٓازادی دلانے میں ایک ساتھ ٓانے کا جذبہ پیدا کیا ۔ بہت سی قربانیوں سے گزرنا پڑا مگر ہمارے شعرا اور صحافی اپنے مقصد سے ہٹے نہیں اور ملک کو ٓازادی دالنے میں اخبارات کے ذریعہ ایک اہم حصہ بنے ۔ ٓاج ملک ٓازاد ہوگیا اور ٓاج بھی اردو صحافت کی بہت بڑی ملک میں حصہ داری ہے ۔ اور آج بھی اخبارات عوام کے ذہن میں بہت گہری چھاپ چھوڑتا ہے ۔ 
اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں ٓازادی کے لیے اردو صحافت کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں جنگِ آزادی میں اردو صحافت کا بہت اہم رول رہا ہے-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں