نعت رسول مقبول ﷺ

 نعت رسول مقبول ﷺ

غفران شکیل ندوی


زمانے بھر میں کہیں بھی مجھے قرار نہ ہو 
تمہارے چاہنے والوں میں گر شمار نہ ہو

تِرے وجود کی تابش ہے دہر میں ورنہ
یہ رنگ و نور نہ ہو، موسمِ بہار نہ ہو

مکانِ دل پہ ہے پہرہ تمہاری یادوں کا
کوئی بھی تاکہ خیالوں میں انتشار نہ ہو

 خدائے برتر وبالا ہو جس کا خود مداح 

تو اسکی ذات پہ کیسے کوئی نثار نہ ہو

یہ التجا ہے مدینے اگر پہنچ جاؤں
تو واپسی کا مجھے کوئی اختیار نہ ہو

 بہائے کتنے ہیں آنسو فراق طیبہ، میں
جگر کے داغ دکھادوں جو اعتبار نہ ہو

کھلے گا راز کہاں اس پہ زندگانی کا
رہِ حیات میں جو شخص دل فِگار نہ ہو
 
 کرم ہے عام سب آ جائیں انؐ کے دامن میں
وہ جن کا کوئی بھی دنیا میں غم گسار نہ ہو

 ملے گا کیسے مزہ زندگی کو جینے کا
اگر نصیب میں محبوبؐ کا دیار نہ ہو

کوئی بھی لمحہ گزرتا نہیں مِرا غفران
مدینے جانے کا جس لمحہ انتظار نہ ہو۔ 
نعت رسول مقبول ﷺ





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں