عہــد رفتہ کی آواز سننا
عہد رفتہ کی آواز سننا
از: محمد طاسین ندوی
اس نیل گگن تلے بود وباش کرنے والے آدم زادے ، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس عمارت و پہاڑ ، دامن پہاڑ میں چہچہاتے پرند اور تلاش معاش میں سرگرداں چوپائے جسے دیکھ کر فہم و فراست کا پیکر یہ غور کرنے پر یقینا آمادہ ہوتا ہیکہ اس جہان فانی کا ہے کوئی خالق و موجد لیکن نفس عیار کو بھیس بدلتے ذرا دیر نہیں لگتی ان کےاوپر اتنی دبیز چادر تنی ہیکہ کے کفر و شرک کی بھی تمیز جاتی نظر آرہی ایسا اس لئے کے دارالبقاء اور دارالقرار کو یکسر بھول جانا اور دنيا دنی کے چکر میں اپنی اصلیت کو کھودینا، جس کاز و مہم کے لئے تخلیق فرمائی گئی اس سے سرگرداں ہونا پہلو تہی کرنا.
آائیے ذرا غور کرتے ہیں اس فرمان باری تعالی پر " إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا"نساء ١١٦
باری تعالی نے وضاحت فرمادی کچھ گناہ و بغاوت انکی مشیت سے یک لخت ختم لیکن ان کی ذات و صفات خاصہ میں کسی طرح کی کوئی آمیزیش پائی گئی تو لاکھ سر پٹخاجائے حاصل صفر کیونکہ اسے رب العزت نے ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے، ظالم و جابر کو اللہ تعالی بالکل برداشت نہیں فرماتا ،.
قارئین عظام! اس مضبوط ومستحکم اصول کے تناظر میں اگر ہم اپنا اور اپنے معاشرہ و مجتمع کا جائزہ لیں ،غور کریں تو یہ عیاں ہوگا کہ کچھ ایسے لوگ بھی رہتے بستے ہیں جنہیں اس کا مطلق علم نہیں کہ وہ مشرکین قدامی کے راہ پر گامزن ہیں اور انہیں اسکا احساس تک نہیں ایسی صورتحال میں علماء اسلام کی ذمہ داریاں دو گنی ہوجاتی ہیں لیکن ہم بھی اس دنیاء فانی کے ٹیپ ٹاپ اور تام جھام میں ایسے گم ہوئے جارہے کہ عمر رفتہ کی ساری باتیں عجیب محسوس ہورہی ہیں- پناہ خدا- جبکہ ہمیں عہد رفتہ و عمر رفتہ کی پکار پر لبیک کہنا چاہئیے تھا۔
آئییے اللہ تبارک وتعالی سے تجدید عہد کریں اور اس عہد و معاہدہ کو حتی المقدور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی سعی پیہم کریں پھر ان شاء اللہ کچھ سکون و اطیمنان نصیب ہو
اللہ تعالی ہمیں بھی اس قیمتی نسخہ پر عمل کی توفیق بخشے اور شرک و بدعات ،خرافات و رسومات سے محفوظ فرمائے آمین قادر مطلق ہی مہربان ہے.

تبصرے