وہ ہو نہ سکا جو سوچاتھا

 وہ ہو نہ سکا جو سوچاتھا 

ازقلم: محمد طاسین ندوی 

وہ ہو نہ سکا جو سوچاتھا


  بنی آدم اس جہان رنگ و بو میں آنکھیں کھولنے کہ بعد کچھ ایسے ارادے و عزائم کے بار گراں تلے دبے ہوتے ہیں کہ اگر نکلنا چاہے تو نکلنا مشکل ہر طرح کی تگ ودو کہ بعد باری تعالی کے حضور اپنی ساری بازی ہارجاتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو خالق کائنات ہی تو قادر مطلق وذات عالی صفات ہے جس کے سامنے بڑے دقاق و ماہر علماء اور دانشوران سب حقیر کسی کی کوئی نہ حیثیت اور نہ ہی اوقات کے اپنے بارے میں بھی کوئی حتمی بات کرسکے ان ساری باتوں سے واقفیت کے بعد بھی ہم حضرت انسان کھار دار وادی میں آبلہ پا ہورہے ہیں اور ذرا بھی ہوش کا ناخن نہیں لیتے کہ ہم کس لئے برپا کئے گئے تھے کہا ہمارا منشود و ہدف تھا اور کس طرف ہم بہے جارہے ہیں اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو یقینا یہ صدائے بازگشت زبان قال سے نہیں تو زبان حال سے ہی سہی سنائی دے گئی وہ ہو نہ سکا جو سوچا تھا.

قارئین کرام! 

 ہماری عمریں رفتہ رفتہ سفر آخرت کی طرف رواں دواں ہیں ہمیں یہ نہیں معلوم کے کب کاتب اجل کا بلوا آئے اور ہم آخرت سدھار جائیں اسی لئے ہم بندگان خدا کو یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے اور دنیا سے زیادہ آخرت کو سنوارنے کی فکر دامنگیر کرلینا چاہئیے کہ ہمارے اعمال کیا ہیں اگر درست و موافقِ کتاب سنت ہیں تو ہمارے وارے نیارے، ہاں اگر شریعت سے روگردانی ہماری فطرت ثانیہ ہے تو ہم اپنی خیر منائیں یا پر توبہ، استغفار اور انابت الی اللہ کے لئے اپنے قدم کو بڑھائیں کیونکہ فرمان رسول اللہ ہے "التائب من الذنب کمن لاذنب لہ " 


"گناہوں سے تائب ہوجانے والا ایسا ہے جیسا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو"


    اے علمبرداران توحید ومدعیان اسلام ہم اپنی انکھیں کھولیں اور اپنا محاسبہ کریں اور جائزہ لیں کہ کیا کھویا اور کیا پایا قبل اس کے کہ باری تعالی کے سامنے ہماری حاضری ہو اور ہم نادم و پشیمان ہوں جب کہ اس وقت کی ندامت سے کوئی فائدہ نہیں.

تعلیمات نبوی کو اپنا حرز جاں بنائیں کتاب و سنت کو اپنا آئیڈیل و نمونہ بنائیں اور اپنا محاسبہ ازخود کریں پھر دیکھیں کہ کیا لطف ہے زندگی جینے میں ..وماذلك على الله بعزيز.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں