دو رخی پالیسی
دو رخی پالیسی
🖋️ اسعد اقبال یکہتوی
چند روز قبل صوبہ جھارکھنڈ کے ضلع دمکہ میں جو حادثہ پیش آیا تھا وہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ یوں کہیے کہ کوئی درندہ ہی ایسی حرکت کرسکتا ہے۔
معلوم ہوا کہ شارخ نام کے ایک مسلم لڑکے نے انکیتہ نام کی ایک غیر مسلم لڑکی سے جو 12 ویں کلاس میں پڑھتی تھیں ان سے یکطرفہ محبت کیا اور بات نہ ماننے پر زندہ جلا دیا۔
جب یہ خبر سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہوئی اور پتہ چلا کہ اس کا نام شارخ ہے تو پوری گودی میڈیا اس خبر پر ٹوٹ پڑی اور انہوں نے اس خبر کو فل کیورج دینا شروع کر دیا۔ اس مدعی کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ اب نہ جانے ایک ہی لمحہ میں گودی میڈیا حالات کو بالکل بدل کر رکھ دے گی۔ دل میں ہی صحیح مگر سوال اٹھتا ہے کہ کیا صرف ملزم کا نام دیکھ کر پرائم ٹائم پیش کرنا، ڈیبیٹ کرنا اور ایک جھوٹ کو رنگ و روپ دے کر لوگوں کے سامنے لانا کیا یہ صحیح ہے؟
جھارکھنڈ میں جو کچھ بھی ہوا وہ سراسر غلط تھا ہم بھی اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں، لیکن گودی میڈیا کا یہ رویہ میڈیائی آزادی کا غلط استعمال اور موجودہ حکومت پر سوال ہے۔
انجنا کشیپ، سدھیر چودھری، چترا تری پاٹھی اور امن چوپڑا نے ایسی ایسی باتیں کہیں ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
انجنا کشیپ کہتی ہیں کہ انکیتہ ہم شرمندہ ہیں۔
چترا ترپاٹھی جھارکھنڈ میں دوشٹی کرن کی بات کر رہی ہے۔
امن چوپڑا کہتے ہیں کہ جھارکھنڈ میں ہندو خطرے میں ہے۔
سدھیر چوہدری کہتا ہے کہ گلی گلی میں شاہ رخ ہے۔
اب میرا سوال ان گودی میڈیا سے ہے کہ اسی طرح کا واقعہ بلقیس بانو کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔
کیا بلقیس بانو کے لئے یہ مہان اینکرز شرمندہ نہیں ہیں؟
کیا چترا ترپاٹھی نے بلقیس بانو کے ملزم پر سوال اٹھایا؟
کیا انجنا کشیف نے اٹھایا؟
کیا گودی میڈیا نےگجرات سرکار سے سوال کیا؟
کیا بلقیس بانو کے لئے ان مہان انکروں نے ایک ٹوئٹ بھی کیا؟
صوبہ گجرات کے کھیڑا ضلع سے ایک دل دہلا دینے والی خبر آئی تھی کہ کشور نامی ایک غیر مسلم فرد نے پندرہ سال کی ایک لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیا اور اس کے سینہ پر کئی بار چاقو سے وار کر کے مار ڈالا۔ تو وہاں پڑوسی چچا کا یکطرفہ پیار تھا پندرہ سال کی بچی کے لئے۔
لیکن اس خبر کو پرائم ٹائم پر جگہ نہیں ملی کیونکہ دھرم اور جس راجے میں یہ معاملہ بن رہا تھا اور جس راج میں یہ معاملہ پیش آیا اس راج میں اس پارٹی کی ہی سرکار ہے جو اس طرح کے معاملے کو فروغ دینے والی ہے۔
اب ان پترکاروں سے میں یہ پوچوں گا کہ بلقیس بانو کے لئے تو ان کا ضمیر مر چکا تھا یہ تو معلوم ہے۔ کیونکہ جس کانڈ میں مودی جی کا نام جڑا ہوا ہو اس خبر پر ان جیسے پترکاروں کو سوال اٹھانے کی ہمت ہی نہیں ہے۔
لیکن جب 15/ سال کی ایک بچی کو 46/ سال کے پڑوسی چچا نے بیچ سڑک پر نوچ ڈالا تب گودی میڈیا صرف اور صرف اس وجہ سے خاموش رہ گئی کہ وہ معاملہ گجرات میں پیش آیا تھا، کیا وہاں دوشٹی کرن کی راج نیتی ہوتی ہے۔
بات صرف یہ ہے کہ انصاف سے گودی میڈیا کو بھی مطلب نہیں ہے بلکہ اس کو تو اپنے ٹی آر پی سے مطلب ہے۔
ٹھیک ہے آپ کو یہ بات اچھی نہ لگے کہ میں گودی میڈیا کے اس حق کی آواز کو دبانا چاہتا ہوں لیکن جب وہ حق ہی نہ رہے تو آواز کیوں نہ بلند ہو۔
جب مسلمان لڑکے کا معاملہ آیا تو چیخ و پکار شروع اور جب ایک مسلمان لڑکی پر ظلم ہوا تو خاموشی کیوں؟ اسی طرح جب ایک ہندو غریب بچی کا معاملہ آیا تو خاموشی کیوں؟
سمجھنا یہ ہے کہ میڈیا کو انصاف نہیں چاہیے اور نہ ہی ہندو برادران وطن سے پیار چاہیے بلکہ صرف حکومت کو خوش رکھنا اور اس کی ہاں میں ہاں کہنا ہی اس کا اصل مشن ہے ورنہ اس پندرہ سالہ ہندو لڑکی کے قتل پر خاموشی کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔
ویسے انکیتہ والے کیس کو لے لیں تو بہت سے شبہات سامنے آرہے ہیں۔
یکطرفہ پیار کا الزام ہے تو جو شوشل میڈیا پر تصاویر ان دونوں کی وائرل ہے اس کے کیا معنی ہے۔
گھر میں آگ لگی تو دوسرے لوگ اس سے متاثر کیوں نہ ہوئے، کیا مجمع میں پھینکے گئے تیزاب سے ایک ہی کوئی نقصان ہوا۔
نہ جانے کتنے طرح کے بے بنیاد الزامات ہے جس کے کوئی نشان تک نہیں ہیں۔
بس ایک ڈرامہ اور ہنگامہ ہے اور کچھ نہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ان گودی میڈیا کے مکاری سے ہم سب کی حفاظت فرمائے اور امت مسلمہ کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
مزید پڑھیں: موجودہ روش سے نوجوانوں کا مستقبل https://nidayeasad.indiaofficial.net/2022/01/blog-post_28.html




تبصرے