استاد کا ادب
❤️استاد کا ادب❤️
از قلم:محمد عمران عبد الرشید نیپالی
سابق متعلم:دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور سنسری نیپال
الحمدللہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہم انسانوں کو ہر محاذ پر بڑی بڑی اور انمول نعمتوں سے نوازا ہے۔ جن کو ہم شمار کرنے سے بالکل قاصر ہیں ۔ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت ہی انمول نعمت ہمارے محسن و مشفق اساتذہ کرام ہیں ۔ اساتذہ کرام کی کیا قدر و منزلت ہے اور ان کا ادب ہم طلباء پر کتنا ضروری ہے اس کی اہمیت جاننے اور سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ استاد وہ محسن و مشفق ہے جو طالبِ علم کو جینے کا سلیقہ اور ہنر سکھاتا ہے، رہنے کا ڈھنگ بتاتا ہے اور اخلاقی برائیوں کو دور کرکے اسے معاشرے کا ایک مثالی فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دینِ اسلام میں استاد کے ادب کو بہت اہمیت دی گئی ہے حتّٰی کہ استاد کو روحانی والد کا درجہ دیا گیا ہے، لہٰذا طلباء پر فرض عین ہے کہ ہم طلباء ان کی قدر کو جانیں اورانہیں اپنے حق میں حقیقی والد سے بڑھ کر مخلص جانیں ۔ یہاں میں ایک ہی حوالے کے ذریعے اساتذہ کی ادب کو عیاں کردینا مناسب سمجھتاہوں(تفسیرِ کبیر میں ہے کہ:”استاد اپنے شاگرد کے حق میں والدین سے بڑھ کر شفیق و محسن ہوتا ہے کیونکہ والدین اسے دنیا کی آگ اور مصائب سے بچاتے ہیں جبکہ اساتذہ اسے نارِ دوزخ اور مصائبِ آخرت سے بچاتے ہیں۔“ (تفسیرِ کبیر،پ1،البقرۃ، تحت الآیۃ:31، جزء:2،ج 1،ص401)
اللّٰہ کے حضور دعا گو ہوں کہ اللہ مجھ خاکسار سمیت دنیا کے تمام طلبہ کو اساتذہ کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ادب کو فرض عین سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور بارگاہ الٰہی میں یہ بھی دعا گو ہوں کہ اللہ ہمارے پیارے تمام اساتذہ کرام کی زندگی دراز فرما تاکہ ہم ان سے مستفید ہوتے رہیں اور یا اللہ ان کی زندگیوں میں ڈھیر ساری خوشیاں نصیب فرما اور ان کے علم و عمل میں خوب خوب برکتوں کا نزول فرما ۔
( آمین ثم آمین یا رب العالمین)
مزید پڑھیں:اولاد کی تعلیم وتربیت

تبصرے