حفید امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری

 حفید امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری
   ابوبکر صدیق 

حفید امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری


  استاذ محترم حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر سے ملاقات کا اشتیاق ہوا اس لئے بھی کہ ان سے ملے ہوئے بہت وقت گزرگیا تھا چنانچہ اس بات سے وہ لوگ بخوبی واقف ہیں جو ان سے تعلق رکھتے ہوں یا ان سے کبھی بھی واسطہ پڑا ہو وہ ان سے ملے یا بات کئے بغر نہیں رہ سکتے اس لئے میں بھی بروز جمعہ بعد نماز عصر اپنے چند رفقاء کے ساتھ بغرض عیادت (حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر) شاہ منزل کا رخ کیا اور جب ان کے گھر پہنچا تو استاذ محترم کے چھوٹے صاحبزادے خبیب انور شاہ سے ملا اور اپنی آمد کا سبب بتایا اور  حضرت الاستاذ سے ملاقات کی درخواست کی جس پر انہوں نے حضرت والا سے بات کرکے اجازت طلب کی جیسے ہی ملنے کی اجازت ملی تو ہماری یہ چھوٹی سی جماعت خوشی خوشی حضرت کے آستانہ میں پہنچی جیسے ہی ہم حضرت کے گھر میں قدم رنجا ہوئے تو ہماری آنکھوں نے ایک خوشنما سنگم دیکھا کہ استاذ محترم کے یہاں دارالعلوم وقف دیوبند کے مایہ ناز استاذ قلم و قرطاس کی دنیا کے بے تاج بادشاہ عربی و زبان و ادب کے نامور ادیب جناب حضرت مولانا اسلام صاحب قاسمی مدظلہ العالی پہلے ہی سے محو گفتگو تھے ایک دوسرے کے احوال کوائف اور خبر خیریت دریافت کررہے تھے 

 اور اس تبادلہ خیال میں کبھی  مسکراتے اور کبھی کھلکھلا کر ہنستے ہم دونوں حضرات کی باتوں سے محظوظ ہوتے رہے اور جب مولانا اسلام صاحب مدظلہ نے واپسی کا ارادہ کیا تو اس وقت انہوں نے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر سے کہا کہ ہم دونوں بیمار ہیں اور دونوں کو ہی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے اس لئے آپ میرے لئے دعا کریں اور میں آپ کے لئے دعا گو رہوں 

خیر جب استاذ محترم حضرت مولانا اسلام صاحب قاسمی وہاں سے رخصت ہوئے تو ہمیں حضور والا نے بیٹھنے کا اشارہ کیا ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا اور پھر معمول کے مطابق حال و احوال دریافت کیا ان کے مرض کے بارے میں پوچھا بڑے پر امید انداز میں جواب دیا کہ بستر علالت پر پڑے پڑے تقریباً 56 دن گزرگئے چند دنوں کی بات ہے ابھی ڈاکٹر نے آرام کے لئے کہا ہے مجھ جیسے آدمی کے لئے بستر پر لیٹے رہنا بہت دشوار کن مرحلہ ہے خیر اللہ تعالیٰ آسانی کا معاملہ فرمائے اس درمیان میں آپ کے موبائل کی گھنٹی بجتی اور آپ جسے مناسب سمجھتے جواب دیتے بعض کے بارے میں کہتے کہ بعد میں ان سے بات کرونگا اسی طرح آپ کے چاہنے والے آپ سے تعلق رکھنے والے آپ کے محبین و متوسلین آتے اور خبر و خیریت معلوم کرنے کے بعد رخصت ہوتے یہ اس وقت تک رہا جب تک ہم لوگ ان کے پاس رہے ہر آنے والے مہمان کے ساتھ ملاقات کا وہی سلسلہ رہا جو ان کی صحت کے زمانے میں تھا وہی انداز وہی گفتار وہی طریقہ اور بالکل وہی اسلوب ہر آنے والے مہمان کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملاقات ہوتی رہی یہ ان کی خصوصیت کہیے یا ان کا دلوں پر جادو کرنے والا انداز کہ جو بھی ان سے ایک بار ملتا وہ انکا گرویدہ ہوکر رہ جاتا 

اس دوران ہمیں اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ آپ بیماری کی حالت میں ہیں اور اتنے دنوں سے بیماری میں مبتلا ہیں ہم لوگوں کی باہم گفت و شنید کا سلسلہ بدستور جاری رہا کبھی کبھی ہم آپس میں سرگوشی کرتے تو حضرت کو یوں محسوس ہوتا کہ اب ان کا دل مزید رکنے سے ابا کر رہا ہے تو وہ ہم سے سوالیہ انداز میں پوچھتے کہ کوئی بات تو نہیں شاید وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ اب یہ لوگ جانا چاہتے ہیں تو وہ کہتے کہ اگر آپ لوگ جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں آپ آئے آپ کا احسان ہے (ھل جزاء الاحسان الا الاحسان )

لیکن ہم تو آپ کی عادت و اخلاق اور طور طریق سے بخوبی واقف تھے اس لیے ہر بار ہمارا یہی جواب ہوتا کہ کوئی بات نہیں جس کی وجہ سے مزید یہ مجلس دراز ہوتی رہی یہاں تک کہ جب جہان تاب نے اپنی شعاؤوں کو مغرب کی وادیوں میں سمو دیا اور مسجدوں سے اذان کی صدائیں گونجنے لگیں جس کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے حضرت سے رخصت کی اجازت چاہی اور حضرت نے بلا تأمل اجازت مرحمت فرمادی اور دعائیں دیتے ہوئے دعاء کے لئے کہا اور یوں ہم وہاں سے حضرت سے ملاقات اور آپکی طبیعت میں بہتری دیکھ کر خوش ہوئے اور واپسی پر آپس میں ایک دوسرے سے استاذ محترم کے اوصاف حمیدہ اور ان کے خوشنما انداز تکلم کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں کوئی ان کے الفاظ کے پیچ و خم کے بارے میں حیرت و استعجاب سے بیان کرتا کہ اللہ نے زبان میں کیا سلاست دی ہے جب بولتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ میں موتیوں کو پرو دیاگیا ہو کوئی ان کے بے تکلفانہ انداز سے متأثر دکھائی دیتا۔ 

خیر ہم ایک دوسرے کو سنتے سناتے مدرسہ پہنچ گئے اور یوں ہمارا سفر تمام ہوا۔

  مزید پڑھیں: حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحبؒ ﴿حیات و خدمات ﴾https://nidayeasad.indiaofficial.net/2022/09/blog-post_14.html

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں