حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحبؒ} حیات و خدمات ﴾

حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحبؒ ﴿حیات و خدمات ﴾
   ازقلم اسعد اقبال یکہتوی



   قارئین کرام:

  بتاریخ ۱۳/صفر المظفر ۱۴۴۴ھ مطابق ۱۱/ستمبر ۲۰۲۲ء بروز یکشنبہ بعد نماز عصر جس وقت میں پڑھانے میں مشغول تھا مفتی اسعد اللہ صاحب قاسمی سنت کبیر نگری کی کال آئی اور پوچھا کہ کیا واقعی استاذ محترم حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب اس دار فانی سے کوچ کرگیے ہیں تو میں نے کہا آدھے گھنٹے قبل خبر موصول ہوئی تھی کہ حضرت کی طبیعت بہت ہی زیادہ ناساز ہورہی ہے، سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی ہے جس کی وجہ سے حضرت کو ہاسپٹل لے جارہے تھے مگر وفات کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے میں معلوم کرکے بتاتا ہوں، فوراً میں نے حضرت مولانا محمد شاہد صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند سے رابطہ کیا مگر حضرت درد و الم کی وجہ سے کال ریسیو نا کر سکے پھر رفیق درس مولوی جنید کشی نگری سے رابطہ کیا اور ان سے مولانا کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے سسکتے انداز میں تصدیق کی، فوراً میں نے بچوں کی چھٹی کی اور بھاگتا ہوا استاذ محترم کی قیام گاہ پر حاضر ہوا ، وہاں اس قدر لوگوں کی بھیڑ تھی کہ چاروں طرف سے انسانی سر کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا، حقیقت سے روشناس ہونے کے لیے منزل تک پہنچنا بھی دشوار تھا ، پھر بھی خاکسار ہمت کو بروئے کار لاتے ہوئے منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ، جب پہنچا تو وہاں کا منظر ہی عجیب و غریب ، ہر کوئی آہ و بکا میں مصروف اب یقین ہو گیا کہ نہیں جو خبر موصول ہوئی تھی وہ خبر درست ہے۔

آیت کریمہ " كل من عليها فان،ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام " بار بار ذہن میں گردش کرنے لگا اور بے یقین آنکھوں کو یقین کرنے پر مجبور کرنے لگا، میں نے چہرہ انور دیکھا اور دیکھتا ہی رہا ، بالآخر اپنے تخیلات ، احساسات و جذبات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس بات کے سامنے سر خم تسلیم کرنا پڑا کہ استاذ محترم ہمارے بیچ نہیں رہے، "انا لله وانا اليه راجعون" وانا انشاءاللہ بکم لاحقون نسأل اللہ لنا ولکم العافیۃ


    مضمون کی ابتدا استاذ محترم حضرت مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر صاحب کے اس پروگراف سے کررہا ہوں جس کو استاذِ محترم نے سن ٢٠٠٤ میں تحریر فرمایا تھا:

   "دیوبند کو خداوند قدوس نے جن علمی عظمتوں سے سرفراز کیا ہے، وہ تاریخ کا حصہ بھی ہے، حال کا بیان بھی اور باوقار مستقبل کا آئینہ بھی، یہاں کی خاک سے وہ اہل علم اور مرد مجاہد پیدا ہوئے جو مسلمانانِ ہند کی زندگی میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ خوش فہمیوں کی ابتلاء نہیں: بلکہ حقائق کی وہ روشنی ہے، جو دور تک بہت دور تک بلکہ آخری حدود تک پھیلی ہوئی ہے ، اندھیرے سر اسیمہ اور خوف زدہ ہیں اور تاریکیاں ان کے قدموں کی چاپ سنتے ہی اپنا راستہ بدل دیتی ہیں ، دیوبند کا یہ امتیاز اول دن سے آج تک باقی ہے، اخلاص و للہیت کی پستی میں علم و کمال کی آبادی میں اور فکر و نظر کی فصیلوں پر جب تک یہ چراغ جلتے رہینگے چھ حرفی لفظ "دیوبند" ہمیشہ چمکتا رہے گا"۔

     ولادت:

  ساری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ جب جب تاریکی بڑھی ہے تب تب رب کائنات نے اس کو دور کرنے کے لیے ایک چراغ روشن کیا ہے ۔ اور یہی قاعدہ اب تک جاری ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بتائے ہوئے اسی قاعدے کی ایک کڑی حضرت الاستاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب ہیں ۔

  جنکو اللہ تبارک وتعالیٰ نے وادی کی حسین فضاء اور دلکش مناظر کے محور کو حافظ سید ازہر شاہ قیصر صاحب کے دولت کدے میں ١٨/ربیع الاول ١٣٨٠ھ مطابق ۲۵/ اگست ١٩٦٠ء بروز چہار شنبہ کو نمو بخشا۔


 سلسلۂ نسب:


  نسیم اختر شاہ قیصر

بن سید ازہر شاہ قیصر

بن امام العصر حضرت علامہ سید محمد ا‌نور شاہ کشمیری

بن سید معظم شاہ

بن مسعود نروری


  دینی و دنیاوی تعلیم:


  دینی تعلیم کا آغاز دارالعلوم دیوبند سے ہوا۔ یہاں آپ نے دوم عربی تک کی تعلیم حاصل کی ۔ پھر ١٩٢٧ سے ١٩٧٥ اواخر تک آپ نے ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کی ڈگری حاصل کی۔

اس کے بعد ١٩٧٦ء میں دوبارہ سوم عربی میں داخل ہوئے اور اپنے علمی و ادبی تہذیبی و ثقافتی علوم و فنون پر دستگیری حاصل کی اور انتھک کدو کاوش کے ذریعہ افق عالم پر روز روشن کی طرح چمکے، ہر محفل و مجلس اور علمی اداروں میں بے حد مقبول و منظور ہوئے ۔ بزمانۂ تعلیم حضرت مولانا اپنے اساتذہ اور بڑوں کے یہاں حاضری کا بہت معمول رکھتے تھے۔ پورا زمانہ طالب علمی بہترین اور صاف ستھرا گذارا، طالب علمانہ زندگی کے جو رخ کامیابیوں کا عنوان بنتے ہیں ان میں سے اکثر مولانا کی زندگی کا حصہ تھے۔ اسی دوران آپ نے ١٩٧٦ء سے ١٩٧٨ء تک جامعہ دینیات سے  عالم دینیات، ماہر دینیات اور فاضل دینیات کی سند حاصل کی۔

  عصری تعلیم:


حضرت مولانا نے اسلامی علوم و فنون کے ماہرین علماء فقہاء اور ادباء اور بڑے بڑے جبال العلم وعلماء کے سامنے زانوئے تلمذ ہو کر قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کے ذریعہ اپنی علمی تشنگی بجھائی اور علوم و فنون کے بحرذخّار میں غوطہ زن ہوکر اس بحر بیکراں کو عبور کیا۔


  دنیاوی تعلیم دسویں تک: 

 ١٩٧٢ء میں آپ نے جامعہ اسلامیہ ہائی اسکول دیوبند میں داخلہ لیا جہاں آپ نے چار سال تک تعلیم حاصل کی مگر کسی عارض کی وجہ سے دسویں کا امتحان دیے بغیر ١٩٧٥ء میں اس تعلیم کو منقطع کردیا۔

دورانِ تدریس ہی آپ نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر آگرہ یونیورسٹی سے ایم۔ اے (اردو) کیا۔


      درس و تدریس:


  دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد پانچ سال تک اخبار و رسائل میں مصروف رہے

اس کے بعد آپ نے ١٩٨٦ء میں دارالعلوم وقف دیوبند میں ملازمت اختیار کی ۔ اور راقم کے ناقص علم کے مطابق آپ کا تدریسی سفر دارالعلوم وقف دیوبند سے ہی شروع ہوا اور یہیں ختم ہوا۔


 آپ رحمہ اللہ سے پہلا تعارف: 

 

  ١٤٣٩ھ جب میں دارالعلوم وقف دیوبند کے سال اول عربی میں تھا تو گلستاں اور ١٤٤١ھ سال سوم عربی میں ترجمہ قرآن حضرت والا ہی سے متعلق تھا،   صاف اور سادہ انداز ، آسان اور خوبصورت لب و لہجہ ، علمی ذخیرہ کو سموئے ہوئے موتی جیسے بے شمار الفاظ ، جیسے ہی ہم طلبہ حضرت کو آتا دیکھتے سمٹ کر مسکراتے ہوئے درس گاہ میں داخل ہو جاتے ، چونکہ آپ کا درس ہمارے لئے کسی دلچسپی سے کم نہ ہوتا، اس وجاہت اور باوقار لب و رخسار کے باوجود ہر ایک سے ظرافت اور مزاح سے گفتگو ہر ایک کو بھاتا، آپ مسند درس پر جلوہ افروز ہوتے ، نگاہیں یہاں بھی جھکی رہتیں، نورانی چہرہ اور تفسیر قرآن کا نور، خوب تر خوب منظر ہوتا۔

  اللہ تبارک و تعالی نے تدریس کا بہت خوب ملکہ عطا فرمایا تھا، اپنی معروضات کوہم تمام طلبہ کے اذہان و قلوب میں پیوست کر دینے کی انہیں منجانب اللہ عجیب وغریب صلاحیت عطا ہوئی تھی۔

 متوسط اور غبی سے غبی طالب علم بھی آپ کے درس سے سیراب ہوجاتا۔

درس وتدریس نہایت ہی مبارک و مسعود ترین عمل ہے، جس سے فکر و نظر میں وسعت و بالیدگی کی فضا قائم ہوتی ہے، تہذیب وثقافت کے پھول کھلنے لگتے ہیں اور اقدار و روایات کے تحفظ و پاسداری کے نت نئے شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں، فضل و کمال اور فکر و فن کا مالی و باغباں اس کی جڑوں میں اپنی فہم و فراست، ذکاوت و ذہانت، دانائی و سمجھ داری اور شرابت و نجابت کی شراب محبت اور جام الفت سے ایسی سینچائی و آب یاشی کرتا ہے کہ اس میں شادمانی، فرحت و انبساط،۔ سرور و ابتہاج اور رنگ رنگ کے پھول نکھر کر اپنی خوشی بکھیرنے لگتے ہیں_ حضرت مولانا اس میدان درس و تدریس کے کامیاب ترین مدرس، صاحب فضل و کمال اور بے مثال مشفق و مربی استاذ تھے_

آپ نے اردو زبان و ادب کی مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کو ہمیشہ مقدم رکھا_ آپ کی تدریس کے زمزمے اور شاد یانے کی گونج آپ کے ارشد تلامذہ اور نامور شاگردوں کی شکل میں ملک و بیرون ملک میں سنائی دے رہی ہیں۔


  مولانا کو اللہ نے بے شمار محاسن سے نوازا تھا آپ ایک ماھر ادیب باکمال صحافی، فن ادب کے بے تاج بادشاہ تھے۔ آپ نے 13 سال کی عمر سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور قلم پر آپ کی گرفت اس درجہ مضبوط تھی کہ سرسری انداز میں اردو زبان میں جس موضوع پر بھی کوئی مفصل یا مختصر مضمون سپرد قلم فرما دیاتو نظر ثانی کے مرحلہ سے نہ گزارنے کے باوجود وہ اپنی جگہ پتھر کی لکیر اور معاصرین و متخلفین کے لیے دلیل ہوتی، بڑے سے بڑے قلم کی دھنی بھی ان کی تحریروں کو اپنے اپنے لیے نیا سبق سمجھتے۔


   میرا سوم عربی کا سال تھا انجمن کا اختتامی پروگرام ہونا تھا اس میں تقریر و صحافت کے کئی عناوین منظر عام پر آئے، طلبہ نے  اپنے اپنے ذوق کے مطابق شرکت کی اور منتخبہ عناوین کی تیاری میں مصروف ہوگئے میں بھی اولا ساتھیوں کی دیکھا دیکھی شریک ہوگیا، لیکن میرا منتخبہ عنوان میرے لیے دلچسپی کا سبب بنا، چونکہ میرا عنوان "بحر العلوم حضرت مولانا غلام نبی صاحب کشمیری" تھا دلچسپ تحقیق پہلی دفعہ نگاہوں کے سامنے تھی، موضوع میں نیاپن تھا ازخود اس کے لیے کوشش کرتا رہا، اب وہ شوق حیثیت میں تبدیل ہوا اور ایک مقالہ دس صفحہ کا تیار ہوگیا۔

  اس کی تیاری میں اساتذہ نے رہنمائی کی لیکن خصوصاً حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب نے نوک پلک تک سدھار کے گُڑ سکھائی، میں نے بھی حضرت کے کہے پر عمل کیا۔

 اتفاق کی بات یہ ہے کہ تمام طلبہ کے مقالے حضرت کے پاس ہی ارسال کیےگئے ، تو آپ نے اول پوزیشن کی شکل میں میرے مقالہ کا انتخاب کیا جس میں حضرت نے صرف ایک مقام پر درستگی فرمائی اور وہ بھی اتفاق سے حضرت ہی کا نام تھا جس میں مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کی جگہ صرف نسیم اختر شاہ قیصر بغیر لفظ مولانا کے لکھ دیا تھا، آپ نے شروع میں "مولانا" کا اضافہ کردیا ۔

  آپ نے مقالہ کی تکمیل پر خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور اپنی مخلصانہ دعاؤں سے بھی نوازا۔


حضرت مولانا نے درجنوں کتابیں تصنیف کی ہیں۔ چند خاص کتابوں کے نام درج ذیل ہیں: 

(١) میرے عہد کے لوگ (٢) سید محمد ا‌زہر شاہ قیصر ایک ادیب ایک صحافی (٣) شیخ انظر تاثرات ، مشاہدات (٤) وہ قومیں جن پر عذاب آیا (٥) اکابر کا اختصاصی پہلو (٦) کیا ہوئے یہ لوگ (٧) سیرت رسولﷺ واقعات کے آئینے میں (٨) میرے عہد کا دارالعلوم (٩) اسلامی زندگی (١٠) اعمال صالحہ (١١) اسلام اور ہمارے اعمال (١٢) حرف تابندہ (١٣) خوشبو جیسے لوگ (١٤) اپنے لوگ (١٥) جانے پہچانے لوگ


 خصوصیات و امتیازات:


  حضرت مولانا کو خالق عالم نے علم ، عمل ، تقویٰ اور ورع کی ان خصوصیات کا حامل بنایا تھا، جو ایک صاحب علم انسان کا امتیاز ہے، سادگی کا ایک ایسا پیکر جسے دیکھتے رہیے اور آنکھیں سیراب نہ ہوں، سادگی ان کی فطرت اور سادہ زندگی ان کے خمیر میں شامل تھی، لباس سادہ،گفتگو سادہ،ظاہر سادہ، باطن سادہ،نہ کروفر کا شوق اور نہ ممتاز نظر آنے کا جنون، رعب و دبدبہ اس سادگی میں بھی ہم رکاب رہنا سامنے آنے والے خود بخود راستہ بدل دیتے، استعداد ان کی قابل رشک، علم ان کا مستحضر، حافظہ قوی اور مختلف علوم و فنون پر نظر گہری تھی۔


حضرت مولانا دارالعلوم وقف دیوبند کے ان فرزندوں میں سے تھے، جو اس ادارہ کی عظمت اور رفعت کا نشان ہیں، میانہ قد، خوبصورت چہرہ،گھنی داڑھی، آنکھوں میں علم کی چمک، پیشانی پر نور کی جھلکیاں، رفتار میں ایک وقار، چلتے تو قریب سے گزرنے والے کو خوشبو کا احساس ہوتا، گفتگو سلجھی ہوئی، بات کرتے تو معلوم ہوتا کہ لفظ لفظ دل پر اثر انداز ہورہا ہے، لباس بیحد سادہ تھا، مگر اس سادہ لباس میں بھی مکمل شاہ تھے، اپنے معاصرین میں ان کو ایک بلند مقام حاصل تھا ۔

  جہاں بیٹھتے تھے چھا جاتے تھے جن سے ملتے ان کے ہوجاتے، ہنس مکھ ، ملنسار، کیا چھوٹا کیا بڑا ہر ایک ان سے قریب نہیں بلکہ دل سے قریب ہوتا۔


 آپ کی شاعری:


 آپ اعلی درجہ کے شاعر بھی تھے، آپ کے اشعار نہایت پاکیزہ اور پند و نصیحت پر مشتمل ہوتے تھے __

     شعر؂

کرب کے ماحول میں راحت کا منظر کون دے

زندگی کے خوشنما خوابوں کو پیکر کون دے


مدتوں سے سر برہنہ ہے عروس زندگی

اس کو آئینہ دکھائے کون چادر کون دے


مقتلوں کی سرزمین کو، کون دے اپنا لہو

کون قاتل سے لڑے، حق کے لئے سر کون دے


     مولانا کا منظوم کلام عامیانہ شاعری کے طرز پر نہیں ہے بلکہ وہ ایک عارفانہ منظوم کلام ہے_ مولانا کی شاعری کا عنصر گل و بلبل کی داستان یاساغروصہبا اور قلقل و میناکی حکایت نہیں ہے_ ان کی شاعری کا عنصر درس توحید، توقیر رسالت، درد محبت، نور معرفت، تسلیک و تربیت ہے، ان کی شاعری میں غالب کی شاعری کا نہیں بلکہ مولانائے روم کی شاعری کا رنگ جھلکتا ہے_


 سفر آخرت:


حضرت ڈیڑھ دو ماہ سے بیمار تھے ابتدا میں گھر پر ہی علاج و معالجہ کا آغاز ہوا، تھوڑا افاقہ ہوا، لیکن چند دن کے بعد پھر سے طبیعت ناساز ہوئی اور کمزوری و نقاہت سے دوچار ہونے لگے، گھر والوں نے فورا گاڑی میں بیٹھ آیا ابھی دو چار قدم آگے نکلے ہی تھے کہ آپ نے اطمینان کی سانس لی اور سبھی اس سکوں سے نیند سے خوفزدہ ہوگئے ۔


متنبی نے کسی زمانے میں کہا تھا: "اعي دواءالموت كل طبيب"

 کہ موت کی دوانے ہر طبیب کو عاجز کر رکھا ہے۔ 


سب کے سب ہیں رہ رو کوئے فنا
جارہا  ہے  ہر  کوئی   سوئے  فنا 
بہہ رہی ہے  ہر طرف جوئے  فنا
آتی  ہے  ہر  چیز  سے بوئے فنا



بہرحال وقت موعود آن پہنچا اور آپ پر اس دار فانی سے رحلت فرما گئے ۔

   اور بے شمار بندگان خدا کی موجودگی میں آپ کے صاحبزادے نے نماز جنازہ پڑھائی اور بے شمار کاندھوں سے گزرتی ہوئی ان کی میت مزار انوری میں جا پہنچی، جہاں ان کے ہزاروں چاہنے والوں نے "منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تاره اخرى" کے ابدی اعلان کے ساتھ ان کو سپرد خاک کر دیا_

 کئی دماغوں کا ایک انساں ، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے؟

 قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے ، زباں کا زور بیاں گیا ہے 


مگر تیری مرگ نا گہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں