ٹریفک سگنل
ٹریفک سگنل
ندائے اسعد
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ٹریفک سگنل میں تین لال ، اور ہری مخصوص رنگ کی لائٹس ہی کیوں ہوتی ہیں ؟ ان کا آغاز کیسے ہوا ۔ ہم آپ کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ جب گاڑیاں نہیں چلتی تھیں اور لوگ زیادہ تر ریل میں سفر کرتے تھے ۔ ریل روڈ کمپنیوں نے ٹرین سگنلز کے لیے لال ، سفید اور ہرے رنگ کا انتخاب کیا ، جس میں لال رنگ ریل کو روکنے کے لیے تھا ، سفید کا مطلب ریل اب چل سکتی ہے اور ہرے کا مطلب محتاط رہنے کے لیے تھا۔ لیکن سفید رنگ کی وجہ سے کئی ریل کنڈ کٹر مشکلات کا شکار رہتے تھے ۔ ماضی میں ایک ریل کنڈکٹر نے چمکدارستارے کو سفید رنگ تصور کر لیا اور اسے لگا کہ راستہ صاف ہے ، لہذا ریل گاڑی کو چلنے کا اشارہ دے دیا ، اس غلط فہمی کے بعد ریل کمپنیوں نے سفید رنگ کی جگہ ہرا رنگ کر دیا ۔ ( یعنی جب سگنل پر ہری لائٹ جلے تو اس کا مطلب ہے کہ آ گے کا راستہ صاف ہے) یہ بات 1860ء کے عشرے کی ہے ، برطانوی ریلوے کے ایک منیجر جان پیکی نائیک نیریل کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ۔ اس نے ایک کھمبے سے کوئی چیز باندھ دی جو ہلائی جاتی تھی ، تا کہ پتہ چلے کہ ریل کو اس جگہ سے آگے گزرنا ہے یا نہیں ۔ رات کے وقت وہاں لال یا ہری لائٹ جلائی جاتی تھی ، اس کے لیے گیس لیمپ استعمال ہوتے تھے۔ان سگنل کے قریب پولیس افسر کو تعینات کیا جا تا تھا جو اس سارے عمل کا ذمہ دار ہوتا تھا ۔ جب سڑکوں پر گاڑیاں چلنی شروع ہوئیں تو دنیا کا پہلا سگنل 9/دسمبر 1868ء کو برج اسٹریٹ لندن میں لگایا گیا ۔ 1910ء میں ایک امریکی نے خود کار ٹریفک سگنل شکا گو میں لگایا ، جس میں " STOP " اور " START " کے الفاظ درج تھے ۔
پہلا الیکٹرک ٹریفک سگنل جس میں سرخ اور ہری لائٹس جلتی تھیں ، یہ 1912ء میں تیار کیا گیا ۔ اسے تیار کرنے والا ریاست اوتھا کے شہر سالٹ لیک سٹی کا ایک پولیس افسر تھا ۔ اس سگنل کو ایک اونچے کھمبے پر نصب کیا گیا تھا اور میں اوپر سے گزرنے والی تاروں سے چلتا تھا ۔ اس کا ڈیزائن کردہ سگنل 5/اگست 1914ء کوکلیولینڈ میں نصب کیا گیا تھا ۔ 1917ء میں سان فرانسسکو کے ولیم کھگلیری نے خود کار ٹریفک سگنل ایجاد کیا ۔ یہ سگنل آٹو میٹک بھی تھا اور ضرورت کے وقت مینول بھی کیا جاسکتا تھا ۔ تین لائٹس والے سگنل 1920ء میں ڈیٹرائٹ کے پولیس افسر وٹیم پونس نے ایجاد کیا ۔ اب اس میں سرخ اور گرین لائٹ کے علاوہ درمیان میں زرد لائٹ بھی لگا دی گئی تھی ، جس کا مطلب تھا کہ تیار ہو جاؤ ۔
چونکہ زرد رنگ ہر جگہ بہت آسانی سے نظر آجاتا تھا اس لیے اس نے دوسرے نمبر پر جگہ بنالی اور اسے مختلف جگہوں پر بھی استعمال کیا جانے لگا۔

.jpeg)
تبصرے