یومِ عاشورہ کی فضیلت اور امام حسین کی شہادت!

 یومِ عاشورہ کی فضیلت اور امام حسین کی شہادت!

ازنوک حرکت: محمد آفتاب ہاشمی 


محرم الحرام کا مہینہ بڑی عظمت اور حرمت والا مہینہ ہے اس کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب قرآن میں اس مہینے کو ادب و احترام کا مہینہ قرار دیا ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس مہینے کا احترام کریں اور اس کی خوب قدر کریں اس کی دسویں تاریخ کو یوم عاشورہ کہا جاتا ہے جو بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اگرچہ محرم کا پورا مہینہ ہی بہت عظمت اور محترم ہے

 لیکن جو بزرگی اور برتری اس مہینے کی دسویں تاریخ کو حاصل ہے وہ کسی اور تاریخ کو نہیں اللہ تعالی کی خصوصی رحمت اپنے بندوں پر اسی دن ہوئی انعامات ِخداوندی اور نصرت و برکت کے متعدد واقعات اسی دن ظہور پذیر ہوئے اللہ تعالی نے اسی دن تمام انسانوں کے جدامجد حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام بنائے گئے اسی دن بہت سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے مختلف انعامات و اکرامات سے نوازا اور قیامت بھی محرم کی دسویں تاریخ جمعہ کے دن ہوگی

ان مقدس روایات اور اہم تاریخی واقعات کے علاوہ اس دن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ محرم کی دسویں تاریخ کو عاشورہ کے دن نواسۂ رسول جگر گوشۂ بتول حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ عصر کے وقت جمعہ کے دن کربلا میں شہید ہوئے یہ سانحہ امت مسلمہ کے لیے بڑا المناک ہے،

بہرحال اس مہینہ میں یومِ عاشورہ بھی ہے جو بڑی عظمتوں اور غیر معمولی خوبیوں کا دن ہے اس دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس میں اول یا آخر ایک دن کا اضافہ کر لیا کرو تاکہ یہود و نصاری کی مخالفت ہو البتہ اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص روزہ رکھے گا اس کے پچھلے ایک سال کے صغیرہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے ،

اور یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کربلا کا واقعہ اسلامی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی چونکہ محرم( عاشورہ )کے دن اس واقعہ کے پیش آنے کی وجہ سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ محرم کا مہینہ اور عاشورہ کے دن صرف اسی لئے مقدس کہ اس میں کربلا کا واقعہ پیش آیا،

لیکن حقیقت یہ ہے کہ کربلا کا واقعہ تو سن٦١ ہجری میں پیش آیا جب کہ محرم کا مہینہ تو کائنات بننے کے پہلے ہی دن سے پچھلی شریعتوں میں مقدس و بابرکت چلا آرہا ہے اس ماہ محرم یعنی یوم عاشورہ کو اہل مکہ خانۂ کعبہ پر غلاف چڑھایا کرتے تھے اور اس دن کو یوم الزینہ کہتے تھے شروع اسلام میں جب تک روزہ فرض نہیں ہوئے تھے عاشورہ کا روزہ رکھنا ہر مسلمان پر فرض تھا عاشوراء یعنی دس محرم کے دن ہی اللہ تعالی نے فرعون کو غرق آب اور بنی اسرائیل کو نجات عطا فرمائی تھی جس کی وجہ سے عاشورہ کا دن یہودیوں کے نزدیک اور موسی علیہ الصلاۃ و السلام کی شریعت میں بابرکت ٹھہرا بلکہ سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے لیے شرف و فضیلت کا مقام ہے کہ اللہ تعالی نے ان پاکیزہ نفوس کو ایسے دن شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا جو روز اول سے مقدس و محترم چلا آ رہا ہے،

اللہ تعالی ہم تمام کو ماہ محرم اور خاص طور سے یوم عاشورہ کی قدر کرنے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں