ماہ محرم الحرام کی فضیلت اور آج کا مسلمان
ماہ محرم الحرام کی فضیلت اور آج کا مسلمان
✍️ ازقلم محمد عادل ارریاوی
متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
اللہ تعالی اس نئے اسلامی سال کو پورے عالم اسلام کے لئے خوشی کا سال بنائے جس کا آغاز ماہ محرم الحرام سے ہو رہا ہے محرم الحرام کے مہینوں میں ہم پر بہت ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یہ مہینہ بھی ان مہینوں میں سے ہے جسے اسلام نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے جن میں گناہوں سے بچنے کی بہت زیادہ تاکید آئی ہوئی ہے لیکن قرآن وحدیث سے عدم واقفیت کی بنا پر بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہے جبکہ اس مہینہ کی حرمت اسی دن سے ہے جس دن اللہ تعالی نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے "ان عدتہ شہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السمٰوات والارض ومنہا اربعتہ حرم" ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں یہی سیدھا دین ہے۔
ماہ محرم الحرام کی فضیلت:
گزشتہ بالا آیتوں سے ماہ محرم الحرام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اسی طرح حدیث مبارکہ سے اس ماہ کے روزے کی بڑی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے یہ بات وارد ہوئی ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزہ ماہ محرم الحرام کا روزہ ہے "کما ورد فی الحدیث الشریف" "افضل الصیام بعد رمضان شہراللہ المحرم"
یوم عاشورہ کے روزے کی فضیلت اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے صیام عاشورہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشورہ سے بڑھ کر کسی اور دن کے روزے کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی ماہ رمضان سے بڑھ کر کسی اور مہینے کو فضیلت دیتے ہوئے، اس لئے جو شخص اس دن روزہ رکھنا چاہے اسے دسویں کے ساتھ نویں تاریخ کا یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا چاہئے تاکہ یہودیوں سے مشابہت نہ ہونے پائے۔
قارئین کرام: مذکورہ بالا سطور سے آپ کو یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ کتاب و سنت کی نظر میں یہ مہینہ کس قدر مقدس اور محترم ہے لیکن مذہب سے ناواقف مسلمان اس نیک عمل کو ترک کرکے اس ماہ میں وہ نازیبا کام کرتے ہیں جن سے اسلام پر بہت بڑا دھبہ آتا ہے اور اسلام اغیار کی نظروں میں بدنما نظر آتا ہے۔
جیسے تعزیہ بنانا: تعزیہ اس ڈھانچے کو کہتے ہیں جو ہر سال کاغذ اور بانس وغیرہ کا خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے ہیں اور پھر محرم کی دسویں تاریخ کو اسے بڑے اہتمام کے ساتھ نکالتے ہیں اور اس تعزیہ کے ارد گرد ہزاروں مرد اور عورتوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اس کے سامنے اپنے ماتھے کو ٹیکتے ہیں اور ان سے نہ جانیں کیسی کیسی مرادیں ما نگتے ہیں ، رزق کی درخواست کرتے ہیں، جو کہ سراسر شرک ہے اس ماہ محرم میں ہم سب کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں :دور حاضر میں ماہ محرم کے بدعات و خرافات

تبصرے