کیوں بنتی ہے جہاز کے پیچھے بادلوں جیسی لکیر!

 کیوں بنتی ہے جہاز کے پیچھے بادلوں جیسی لکیر!

  ندائے اسعد

کیوں بنتی ہے جہاز کے پیچھے بادلوں جیسی لکیر!


  ایک ایسا سوال تھا جو پچپن سے کافی پریشان کرتا تھا کہ یہ چیز کیا ہے جو اپنے پیچھے ایسی لکیر چھوڑ جاتی ہے۔ لوگوں سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ موسمی سیارے ہیں ، لیکن اس راز کو پالینے کی جستجو یہ ماننے سے قاصر تھی کہ یہ نہ تو موسمی سیارے ہیں اور نہ ہی کوئی اچھوتی چیز۔
   اس کے بارے میں آج میں آپ کو بھی بتاؤں گا کہ مسافر جہاز اپنے پیچھے بادلوں کی لکیر کیوں چھوڑ جاتی ہے ۔ مسافر جہازوں میں ٹربوفین یا فین جیٹ انجن استعمال ہوتے ہیں جو ہواؤں کا بہت زیادہ دباؤ پیدا کرتے ہیں کیونکہ ان میں انجن کے باہری حصے جتنا پنکھا بنا ہوا ہوتا ہے ، ہوا کے بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے مسافر یا مال بردار جہاز اتنا بھاری بھرکم وزن اٹھانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔



   عمومی طور پر ایسے بادلوں کی لکیر جہاز کی اونچائی 26000/فٹ 40000/ فٹ درمیان بننا شروع ہوتی ہیں کیونکہ اتنی اونچائی پر درجہ حرارت منفی 36/ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتی ہے۔
    1-: انجن میں گیسوں کے جلنے کے عمل کے دوران جونمی اتنی اونچائی پر برف کی طرح فضا میں منجمد ہوتی ہے وہ انجن کے پنکھے سے گذر کر انجن کے ایگزاسٹ کے ساتھ گرم ہوکر باہر نکلتی ہے تو انجن سے باہر نکلنے پر فضا کا درجہ حرارت 36/ ڈگری ہونے کی وجہ سے دوبارہ منجمد ہونی شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بادلوں جیسی لکیر ہمیں جہاز کے پیچھے نظر آتی ہے۔
2-: کچھ دھواں جیٹ انجن کے مخصوص تیل میں بلحاظ وزن سلفر نامی ایک کمپاؤنڈ %0.05 شامل ہوتا ہے اس کی جیٹ انجن میں جلنے کا بھی ہلکا سفید دھواں اس میں شامل ہوتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں