ماہ محرم اور اس کے روزے کی فضیلت

 ماہ محرم اور اس کے روزے کی فضیلت ۔

ازقلم: محمدمبین۔ مصوریہ ارریا ۔دورہ حدیث

ماہ محرم اور اس کے روزے کی فضیلت



     لفظ محرم باب تفعیل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اس کے مختلف معنی ہیں ایک معنی تعظیم کے ہیں کیونکہ یہ مہینہ کابل عظمت ہے قبل از اسلام مشرکین عرب بھی اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کا احترام کیا کرتے تھے، اور اس مہینے میں قتل و قتال کو حرام جانتے تھے مذہب اسلام نے بھی عظمت کے پیش نظر اس ماہ میں جنگ اور قتل و غارتگری کو ممنوع قرار دیا خلاصہ یہ ہے کہ ماہ محرم لائق احترام اور قابل تعظیم و تکریم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کو اللہ کا مہینہ فرمایا جو اس ماہ کی عظمت پر واضح دلیل ہے،

اس مہینےکے متعلق عام انسانوں کا نظریہ یہ ہے کہ ان کی فضیلت و اہمیت شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہے،حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اور بھی دوسرے مہینے میں دوسرے بڑے بڑے جلیل القدر صحابی کی شہادت اور وفات ہوئی ہے ان مہینوں کو بھی اس کی وجہ سے فضیلت حاصل ہونی چاہیے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ ماہ محرم کی فضیلت تو قبل از اسلام ہی مسلم ہے، 

اور ماہ محرم کی دسویں تاریخ کو بہت سے اہم واقعات بھی رونما ہوئے ان میں سے یہ کہ عاشورا ہی کے دن اللہ تعالی نے زمین و آسمان چاند سورج ستارے عرش و کرسی کو پیدا کیا، اور اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے پیدا کیا اور جب آپ علیہ السلام نے شجر ممنوعہ کا پھل کھایا اور اپنی خطاء پر تنبیہ ہوئ تو صدیوں آپ نے اللہ رب العزت کے سامنے آنسو بہاتے اور دعاء مانگتے رہے آخر عاشورہ ہی کے دن اللہ تعالی نے توبہ قبول کی اور سب سے بڑی بات یہ کہ محرم کی دسویں تاریخ ( عاشورہ )کے ہی دن قیامت قائم ہوگی وغیرہ ۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم دسویں تاریخ (عاشورہ )کے روزے کے متعلق بے شمار فضائل وبرکات ارشاد فرمائیں ہیں ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ عاشورہ کا روزہ پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد اس کی فرضیت ختم ہو گئی (جامع الترمذی ص 158) 

ایک روایت میں ہے کہ جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں عاشورہ کے روزے کی اور بھی بہت سی فضیلتیں ہیں ۔

محرم کی دسویں تاریخ کو یہودی پابندی سے روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ان کے روزے کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اسی دن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون کے ظلم و تشدد سے نجات دی تھی اس لیے حضرت موسی علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا جس کو یہود پابندی سے رکھتے ہیں

 تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسی علیہ السلام ہمارے بھائی ہیں اور ہم اس روزے کے زیادہ مستحق ہیں ،مگر ہم یہود کی مخالفت کے لیے آئندہ سال ایک نہیں دو روزے رکھیں گے۔

مگر اب قمری تاریخ کے حساب سے یہود کی یہاں کوئی کام نہیں ہوتا اسی لئے اب مشابہت کا کوئی احتمال نہیں ہیں اور اگر آپ کوئی شخص صرف محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھے تو انشاء اللہ اسے فضیلت حاصل ہو جائے گی اور سنت کا بھی ثواب ملے گا۔ معارف الحدیث (4/171)  

  مزید پڑھیں 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں