کیا محرم الحرام غم کا مہینہ ہے؟
ازنوک حرکت: محمد آفتاب ہاشمی

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ،لغوی اعتبار سے اس کے معنی معظم ،محترم اور معزز کے ہیں چونکہ یہ مہینہ بھی اعزاز و احترام اور عظمت و فضیلت والا ہے اس لیے اس کا نام محرم ہے ،اس مہینہ کی فضیلت و عظمت بتلا نے کے لئے اس کو اللہ کا مہینہ فرمایا گیا ورنہ تمام مہینہ اور دن اللہ ہی کی مخلوق ہیں اور اسی کے حکم سے رواں دواں ہیں۔
لیکن
بعض ناواقف لوگ ایسے بھی ہیں جو محرم کے مہینہ کو رنج و غم کا مہینہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینہ میں کربلا کا سانحہ پیش آیا ہے جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دوسری عظیم ہستیوں کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا تھا۔
لہذا
یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے اور اسی وجہ سے یہ لوگ اس مہینہ میں خوشی کا کام جیسے شادی بیاہ انجام دینے سے پرہیز کرتے ہیں اور بعض لوگ خوشی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے مختلف قسم کے سوگ کرتے ہیں۔
مثلاً:
کالا لباس پہننا ،عورتوں کا زیب و زینت اور بناؤ سنگار چھوڑ دینا،میاں بیوی کے خصوصی تعلقات سے رکے رہنا،اور مرثیے کا پڑھنا،نوحہ اور ماتم کرنا وغیرہ وغیرہ
لیکن
اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ یہ مہینہ غمی کا مہینہ ہے۔
کیوں کہ یہ مہینہ بہت محترم اور فضیلت بلکہ عبادت والا مہینہ ہے اور دس محرم کے دن تاریخ اسلام کے بہت سے عظیم اور خوشگوار واقعات رونما بھی ہوئے ہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ غمی کا واقعہ پیش آ نے سے وہ مہینہ یا دن غم کے لئے مخصوص نہیں ہو جاتا کہ اس میں ہمیشہ غم کیا جاتا رہے اور صدیاں گزر جانے کے باوجود اس کو غم کا مہینہ بناۓ رکھنا بہت بڑی حماقت ہے۔
اس لیے اس حماقت اور بیوقوفی والی باتوں سے نکل کر اپنی زندگی قرآن وحدیث کے مطابق گزارنی چاہیے اور اس طرح کی باتوں سے خود کو اور دوسروں کو بھی بچائیں یہی ہمارا دینی فریضہ ہے کیونکہ اللہ کے نبی جناب محمد الرسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الدین یسرٌ۔ دین بہت آسان ہے۔
تو ہم اس دین کو مشقت بناکر دوسروں کے سامنے کیوں پیش کریں جس کی وجہ سے اس پر عمل کرنا دشوار اور مشکل ہو جائے۔
لہذا
جو باتیں ہمیں معلوم نہیں ہے تو ہمیں چاہئے کہ اپنے علماء کرام سے معلوم کریں اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزار یں اللہ عمل کی توفیق دے آمین ثم آمین
تبصرے