فضیلت ماہ محرم الحرام

 فضیلت ماہ محرم الحرام

از نوک حرکت: غلام مصطفیٰ بھاگلپوری



اسلامی سال نو کا آغاز ماہ محرم الحرام کے ذریعے سے ہوتا ہے محرم کا لفظ تحریر سے نکلا ہے اور تحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے اور حرمت کا لفظی معنی عظمت اور احترام کے ہیں اس بنا پر محرم کا مطلب احترام اور عظمت والا ہوا چونکہ یہ مہینہ بڑی عظمت اور فضیلت رکھتا ہے اس لیے اسے محرم الحرام کہا جاتا ہے اسی ماہ مبارک سے ہجری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ تاریخ کی ابتداء اس وقت ہوئی جب آپ علیہ السلام مکہ سے ہجرت کر کے قبا پہنچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عمر رضی اللہ ہو تعالئ عنہ نے اس کی ابتدا کی اور اس کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا ۔


ماہ محرم اپنی فضیلت و عظمت، رحمت و برکت اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے اسی وجہ سے شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کے ابتدائی دور میں اس کے اعزاز و اکرام میں قتل و قتال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے کل قتال فیہ کبیر کہہ دیجئے کہ محرم الحرام میں قتل و قتال کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور یہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے إن عدۃ الشهور عند الله اثنا عشره شهرا ......... منها اربعة حرم (التوبه 36) یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور یہ تعداد اسی دن سے ہے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار حرمت وادب والے مہینے ہیں 

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین تو لگاتار ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ ، محرم،اور جمادی الثانی اور شعبان کے مابین رجب کا مہینہ ہے جسے رجب مضر کہا جاتا ہے ۔

یوں تو اس ماہ میں کی جانے والی ہر عبادت قابل قدر اور باعث اجر ہے۔ مگر احادیث مبارکہ میں محرم کے روزوں کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزہ اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں حضرت ابن عباس سے روایت ہے جو محرم کے ایک دن کا روزہ رکھے اس کو ایک مہینے کے روزے کا ثواب ملے گا ۔

پھر اس ماہ کے تمام ایام میں سے اللہ رب العزت نے یوم عاشوراء کو ایک ممتاز مقام عطا فرمایا ہے یہ دن بہت سے فضائل اور نیکیوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ارشاد نبوی ہے جو شخص عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے گذشتہ سال کے( صغریٰ) گناہ معاف فرما دیتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے مہینے اور محرم کے دن کے روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے یہودیوں سے عاشوراء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا اس روز حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون پر غلبہ حاصل ہوا تھا اس لیے یہ بڑی عظمت و فضیلت کا دن ہے اب ہم اس دن کے احترام میں روزہ رکھتے ہیں یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا تعلق تمہارا حضرت موسی علیہ السلام سے ہے اس سے زیادہ ہمارا تعلق ان سے ہے پھر آپ نے امت کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور ایک مقام پر فرمایاتم دو روزہ رکھا کرو تاکہ سنت بھی ادا ہوجائے اور مخالفت یہود کا پہلو بھی نکل آئے ۔ عاشوراء کے دن کے ساتھ بے شمار متبرک واقعات وابستہ ہیں چنانچہ عاشورہ کے دن حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو پیدا کیا گیا اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن عرش و کرسی ،زمین و آسمان چاند و سورج ،ستارے اور جنت پیدا کئے گئے اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی اسی دن حضرت موسی علیہ السلام کو اور آپ کی امت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا اسی حضرت ادریس علیہ السلام کو مقام بلندی کی طرف اٹھایا گیا اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک عظیم عطا کیا گیا اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے اسی دن یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائی گی اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو گہرے کنویں سے نکالے گئے اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی تکلیف رفع کی گئی اسی دن سب سے پہلے بارش ہوئی اللہ کی رحمتوں کا نزول سے پہلے اسی دن ہوا اسی دن قیامت آئے گی۔ 

اب غور کیجئے کہ یہ دن کتنا عظیم دن ہے میں سمجھتا ہوں یوم عاشوراء کے علاوہ سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں ایک دن بھی اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں