ماں کا مقام
ماں کا مقام
ندائے اسعد
٢٧/ذی الحجہ ١٤٤٣ھ مطابق 27/جولائی 2022ء بروز چہار شنبہ تقریباً بارہ بجے دوپہر جس وقت ہم تمام رفقائے درس (الصف السادس العربی) حضرت مولانا محمد فرید الدین صاحب دامت فیوضکم العالیہ کے گھنٹہ سے فارغ ہوکر حضرت مولانا سمیع الدین صاحب دامت فیوضکم العالیہ کے آنے کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ اچانک میری نظر ایک ایسے رفیق پر پڑی جس کو میں مادر علمی دارالعلوم وقف دیوبند کی لایبریری (المکتبۃ القاسمیۃ) میں تعطیل عیدالاضحی سے قبل و بعد بارہا جاتے ہوئے دیکھتا تھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کوئی مضمون لکھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ پھر میں نے پوچھا کس عنوان پر؟ تو کہا "آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے" اور آخر میں بتایا کہ"میری ماں" مجھے یقین نہیں ہوا تو میں نے اس کے علاقہ کے ایک لڑکے سے معلوم کیا کہ واقعی اُس کی والدہ اِس دار فانی سے کوچ کرگئ ہیں۔ تو اس نے کہا، ہاں! اب وہ نہیں رہی۔ اس وقت مجھے بہت ہی افسوس ہوا اور میں نے فوراً "انا للہ وانا الیہ راجعون" وانا انشاءاللہ بکم لاحقون نسأل اللہ لنا ولکم العافیۃ
اور سوچا کہ ایک مراسلہ آپ سب کی نظر کروں۔ "ماں کے مقام" پر۔
اللہ تبارک و تعالی نے دنیا کا نظام چلانے کے لیے جو سب سے خاص اور حیران کن چیز بنائی ، وہ ماں کا پیار ہے ۔ یہ نہ ہوتا تو شاید دنیا آگے ہی نہیں بڑھتی اور ہمارا وجود لاکھوں سال پہلے ہی ختم ہو جاتا۔ ذراسوچئے، ماں کے دل میں اولاد کے لیے پیار نہ ہوتا تو وہ کیوں بچوں کی پرورش کرتی؟ ماں کا وجود ایک ایسا سایہ دار درخت کی مانند ہے جو خود تو دھوپ ، سردی ، گرمی اور بارش کا سامنا کرتی ہے مگر اپنے بچوں کوان شدتوں سے بچاتی ہے ۔ اسی لیے تمام مذہبی کتابیں ماں کا احترام کو لازم قرار دیتی ہے ۔ ایک بچے کے گرنے پر اس کو لگنے والی ہر چوٹ ماں کے دل پر لگتی ہے پھر اس چوٹ و زخم کی یاد اس کے دل میں ہمیشہ رہتی ہے یوں کہیے کہ ایک بچے کے بچپن کی ہر حرکت ، ہرشرارت جس ہستی کے ذہن میں کتاب کی طرح محفوظ ہوتی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ ماں ہے اور ماں کا دل اپنے کے لیے کائنات کی تمام وسعتوں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ اسی لیے مشہور شاعر منور رانا نے ماں کی بے پناہ محبت کے بارے میں کہا تھا:
میں نے روتے ہوئے پوچھے تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا دوپٹہ اپنا
بوعلی بن سینا اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ میں نے محبت کی اعلی مثال اس وقت دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تب میری ماں نے کہا کہ مجھے سیب پسند نہیں "ماں کے نایاب مقام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا کردار خاندان کی اکائی کی اساس ہوتا ہے اس کی قربانیوں کا شمار ۔ اپنی ہستی کو مٹا کر اپنے آنگن میں پھولوں کی نشوونما کے لیے تگ و دو کرتی ہے۔ صبح سب سے پہلے جاگتی ہے اور رات کو سب سے آخر میں بستر پر لیٹتی ہے اولاد کے لیے اس کا دل پھول سے بھی زیادہ نرم ہوتا ہے لیکن یہاں دل اولاد کے تحفظ کی خاطر زمانے کے سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے چٹان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کے بازوؤں کا حصار دنیا کے ہر قلعہ سے زیادہ مضبوط اور عظمت کا بہتا ہوا ایسا دریا ہوتا ہے جواپنی ذات اولاد پر قربان کرنے کے باوجودا تنا پرسکون ہو کہ اضطراب کا شائبہ تک نہ ہو۔ بچے کی خوراک سے لے کر تعلیم و تربیت بہ نگہداشت اور محسوسات تک کا خیال رکھنے جیسی پیچیدہ کیفیات کے معاملے میں ایک ماہر استاد کی طرح ذمہ داری نبھاتی ہے ۔اسی لیے ماں کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے وصی شاہ کا کہنا ہے۔
تمھارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
میرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
یہی وہ ہستی ہے جو انتہائی بھوک کے لمحات میں بھی بچے کے منہ میں پہلے نوالہ ڈالتی ہے اور پھر خودکھاتی ہے۔ زندگی میں اگر کسی شے کی طلب کرتی ہے تو اولاد کی کامیابی اگر فکر مند ہوتی ہے تو اپنے لیے نہیں اولاد کے لیے چاہت ، ایثار ، خدمت ، برداشت اور صبر کی اس تصویر کواس لیے مقدس کہا جاتا ہے۔کہ وہ ماں جس کی محبت کے اعتراف کے صلے میں جنت اس کے قدموں میں رکھ دی گئی وہ ماں جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ بلکہ اپنی تمام عمر کی توجہ بچوں پر مرکوز رکھتی ہے کیا ہم سال کا ایک دن صرف ایک دن ماں کی بے پناہ قربانیوں کے اعتراف کے اظہار کے طور پر اس کی نذرنہیں کر سکتے؟

تبصرے