توہین رسالت اور موجودہ احوال
عنوان: توہین رسالت اور موجودہ احوال
ازقلم: اسعد اقبال یکہتوی
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (سورۃ آل عمران؍ الآیۃ ۱۰۲۔)
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (سورۃ النسآء؍الآیۃ الأولی۔)
یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا۔ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (سورۃ الأحزاب؍ الآیتان ۷۰۔۷۱۔)
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے متعدد گوشے اور بہت سے پہلو ہیں، ان میں سے ہر گوشہ اور ہر پہلو مخلوق کے اعتبار سے انتہائے کمال کو پہنچا ہے اور اس میں چنداں تعجب کی بات نہیں کہ ساری کائنات کے خالق کائنات نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُمت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا(سورۃ الأحزاب/الآیۃ۲۱۔)
حافظ ابن کثیر نے اس آیت شریفہ کی تفسیر میں تحریر کیا ہے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال میں پیروی کے بارے میں یہ آیت کریمہ عظیم اساس ہے"۔ (تفسیر ابن کثیر۳/۵۲۲)
"بلا شک و شبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت کا یقین رکھتا ہو، اور اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتا ہو"۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مطہرہ کے بہت سے زریں پہلو ہیں اور ان میں سے ایک انتہائی عظیم پہلو یہ ہے کہ اللہ کریم نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلّم بنا کر مبعوث فرمایا۔ قرآن کریم میں دعائے خلیل علیہ السلام بایں الفاظ ذکر کی گئی ہے :
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْھِمْ ط إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (سورۃ البقرہ/الآیۃ۱۲۹)
آیت کریمہ کی تفسیر میں قاضی بیضاوی نے تحریر کیا ہے: "وَابْعَثْ فِیْھِمْ" ان میں مبعوث فرمائیے (اُمت مسلمہ میں) "رَسُوْلًا مِّنْھُمْ" ان کی۔ یعنی ابراہیم اور اسماعیل علیہماالسلام۔ کی نسل میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور رسول بھیجا نہیں گیا۔ (تفسیر البیضاوی۱/۸۷؛نیز ملاحظہ ہو:التفسیر الکبیر ۴/۶۶)
حافظ ابن جوزی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ "الکتاب" سے مراد قرآن کریم اور "الحکمۃ"سے مراد سنت ہے۔(ملاحظہ ہو:زاد المسیر ۱/۱۴۶؛نیز دیکھئے:تفسیر ابن کثیر ۱/۱۹۷)۔
"اے ہمارے رب! انہی میں سے ایک رسول ان کی طرف مبعوث فرمائیے، جو ان کے لیے آپ کی آیات تلاوت کریں، انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیں اور ان کا تزکیہ کریں۔یقینا آپ تو بڑے زبردست اور حکمت والے ہیں"۔
علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود امت کو خبر دی ہے کہ وہ اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
قُلْتُ: "یَا نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! مَاکَانَ أَوَّلُ بَدْئِ أَمْرِکَ؟" قالَ: "دَعْوَۃُ أَبِيْ إِبْرَاھِیْمَ، وَبُشْرٰی عِیْسٰی عَلَیْھِمَا السَّلَامُ" الحدیث (المسند۵/۲۶۲۔ (ط:المکتب الاسلامي)
حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے بارے میں تحریر کیا ہے:"احمد نے اس کو "اسناد حسن" کے ساتھ رو ایت کیا ہے، اس کو تقویت دینے والے شواہد (بھی) ہیں، اور اس کو طبرانی نے (بھی) روایت کیا ہے۔‘‘ (مجمع الزوائد ۸/۲۲۲)۔
’’میں نے عرض کیا: "اے اللہ کے نبیﷺ ! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "[ میں ] اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعاء اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت [ہوں]۔‘‘
گستاخ رسولﷺ کی سزا قرآن و حدیث کی روشنی میں
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ مِنۡہُمُ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ اُذُنٌ ؕ قُلۡ اُذُنُ خَیۡرٍ لَّکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ یُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَکُمۡ لِیُرۡضُوۡکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرۡضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾ اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡخِزۡیُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾ یَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ سُوۡرَۃٌ تُنَبِّئُہُمۡ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلِ اسۡتَہۡزِءُوۡا ۚ اِنَّ اللّٰہَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴿۶۴﴾ وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمۡ تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ ؕ (سورہ توبہ آیت نمبر٦١ تا ٦٦)
ترجمہ: "اور بعضے ان میں سے بد گوئی کرتے ہیں نبیﷺ کی اور کہتے ہیں یہ شخص تو کان ہے تو کہہ کہ کان ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین کرتا ہے مسلمانوں کی بات کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے حق میں تم سے اور جو لوگ بد گوئی کرتے ہیں اللہ کے رسولﷺ کی ان کے لیے عذاب ہے درد ناک، قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمہارے آگے تاکہ تم کو راضی کریں، اور اللہ کو اور اس کے رسولﷺ کو بہت ضرور ہے راضی کرنا اگر وہ ایمان رکھتے ہیں، کیا وہ جان نہیں چکے کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے تو اس کے واسطے ہے دوزخ کی آگ سدارہے اس میں، یہی ہے بڑی رسوائی، ڈرا کرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل ہو مسلمانوں پر ایسی سورت کہ جتا دے ان کو جو ان کے دل میں ہے، ت تو کہدے ٹھٹھے کرتے رہو اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس کا تم کو ڈر ہے، اور اگر تو ان سے پوچھے تو وہ کہیں گے ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی، تو کہہ کیا اللہ سے اور اس کے حکموں سے اور اس کے رسولﷺ سے تم ٹھٹھے کرتے تھے، بہانے مت بناؤ تم تو کافر ہو گئے اظہار ایمان کے پیچھے"۔
ان آیات شریفہ میں اللہ رب العزت نبی کریم ﷺ کو ایذا دینے والوں کی گرفت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ تو کانوں کے کچے ہیں یعنی آپﷺ سے جو بات بھی جا کر کہہ دی جائے وہ اسے درست مان لیں گے یعنی آج کچھ کہا جائے اور کل کچھ ۔ نبی کریم ﷺ تسلیم کر لیں گے منافقین کا یہ قول آپ ﷺ کو قلبی و ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے تھانہ کہ معاذ اللہ کوئی جسمانی اذیت، اس پر بھی اللہ تعالی نے ان کے لیے دردناک عذاب کی وعید سنائی ۔ معلوم ہوا لفظ " هو اذن " شان رسالت میں صریح گمراہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کو اذیت دینا ہے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یوں زبان طعن دراز کرے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کرے فرمایا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ بڑی رسوائی کی بات ہے اور یہاں یہ بات قابل ذکر ہے جنم میں ہمیشہ ہمیش صرف اور صرف کفار ہی رہیں گے ۔
ایک غزوہ میں کچھ منافقین حضور ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی کے مرتکب ہو رہے تھے ۔ مختلف تفاسیر میں اس کے شان نزول کے مختلف روایات ہیں ۔
منافق یہ کہہ رہے تھے کہ یہ جو حضور ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) فرما رہے ہیں کہ فلاں اونٹنی فلاں جگہ ہے اس کا تمسخر اڑا رہے تھے کہ انہیں تو یہ تک معلوم نہیں کہ ہم جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم سچے دل سے ان پر ایمان نہیں لائے لیکن اونٹنی کے متعلق بتا رہے ہیں (دوسری تفاسیر میں شام کے فتح ہونے کی پیشین گوئی فرمائی گئی تھی)
اس کی اطلاع نبی کریم ﷺ کو ہو گئی۔ جب اللہ تبارک و تعالی نے اس پر حضور رسالت مآبﷺ کو مطلع فرما دیا تو ان منافقین سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ بات کہی ہے ؟ تو وہ شرمساری سے کہنے لگے کہ ہم نے تو ازراہ مذاق کہی تھی۔ یہاں قرآن مجید ان کی اس گستاخی کی گرفت کرتے ہوئے کہتا ہے :
" اگر تم ان سے پوچھو کہ محبوبﷺ تو وہ کہیں گے ہم نے تو ہنسی مذاق میں بات کہی تھی پھر فرما دیجئے کہ یہ ہنسی مذاق تم نے اللہ سے کرنا ہے اس کی آیتوں سے کرنا ہے اور اللہ کے رسول سے کرنا ہے"۔
اب یہاں جو بات قابل توجہ ہے کہ ہنسی مذاق کی بات نہ یہاں اللہ سے تھی اور نہ اللہ کے قرآن سے یہاں محض حضور سرور کونینﷺ کی ذات اقدس و مطہر کے خلاف زبان درازی کی گئی تھی اور حضورﷺ پر ایک الزام لگایا گیا تھاجس پر اللہ تعالی نے منافقین کے چھپے کفر کو ظاہر کر دیا ۔
شیخ محمد بن عمر الحمادی سورۃ التوبہ آیت نمبر٦١ کے ذیل میں فرماتے ہیں :
"جو رسول اللہﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے عذاب ہے درد دینے والا ، حضورﷺ کی رسالت کا عنوان بیان ہوا ہے نام نہیں اللہ کے نام کی اضافت کے ساتھ رسول اللہﷺ کا نام اس لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ نبی اکرمﷺ کی انتہا درجے کی تعظیم و تکریم واضح ہو جائے اور پتہ چل جائے کہ اس نبیﷺ کی اذیت اس کی اپنی ذات کی اذیت نہیں ہے بلکہ یہ جناب الہی کی طرف راجع ہے۔ لہذا جو جرم اللہ کی اذیت کے لیے ہوگا وہی رسول اللہ ﷺ کی اذیت کے لیے ہوگا"۔ (تفسیر امام ابو السعود محمد بن عمر الحمادی، ج، ٤، ص:٧٧)
"إن الذين يؤذون الله و رسوله لعنهم الله في الدنيا والأخرة و أعد لهم عذابا مهينا" (احزاب آیت نمبر ۵۷ )
حضرت علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز تفسیر "مظہری" میں اس آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں۔
رسول اللہﷺ کی شخصیت ، دین، نسب یارسول اللہﷺ کے کسی وصف پر طعن کرنا اور صراحۃً یا کنایۃً یا اشارۃً یا بطور تعریض آپ ﷺ پر نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے ایسے شخص پر دونوں جہانوں میں اللہ تعالی کی لعنت ، دنیوی سزا سے اس کو توبہ بھی نہیں بچا سکتی۔
ابن ہمام رحمۃ اللہ نے لکھا ہے کہ جوشخص رسول اللہﷺ سے دل میں نفرت کرے وہ مرتد ہو جاۓ گا ، برا کہنا تو بدرجہ اولی مرتد بنا دیتا ہے اگر اس کے بعد توبہ بھی کرے تو قتل کی سزا ساتھ نہیں ہوسکتی ( آ گے چل کر لکھا ہے) یہ سزا ( قتل ) بہر حال دی جاۓ گی ، خواہ وہ اپنے قصور کا اقرار کرے اور تائب ہو کر آۓ یا منکر جرم ہو ( آگے چل کر تحریر ہے) علماء نے یہاں تک لکھا ہے کہ نشہ کی حالت میں بھی اگر رسول اللہﷺ کو ( معاذ اللہ ) برا کہنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہو تب بھی اس کو معاف نہیں کیا جاۓ گا ضرور قتل کیا جاۓ گا۔ خطابی نے لکھا ہے میں نہیں جانتا کہ ایسے شخص ( گستاخ رسول ) کے واجب القتل ہونے میں کسی نے اختلاف کیا ہو ( مظہری ، ص: ۴۳۰، اردو ط: دارالاشاعت کراچی ) یہی بات معارف القرآن صفحہ ۲۹۱ جلد ۷، ط: ادارة المعارف )
( مزیدتفصیل کے لیے تفسیر مظہری مطالعہ ہو )
تفسیر " قرطبی “ نے لعنت کا معنی کیا ہے۔ "ابعد و امن كل خير" ( ص : ۲۴۰ / ۱۴ ، دارالکتاب العديه )
یعنی گستاخ رسول ہر خیر و بھلائی سے دور ہے ۔
تفسیر ” نظم الدرر “ میں مذکورہ روایت کے تحت تحریر ہے:
"ای ابعد هم و طردهم و ابغضهم ... ( والآخرة ) باد خال النار" ( ص ۱۵ / ۴۰۹ )
یعنی ایسے لوگ ( گستاخ رسول ) اللہ تعالی کی رحمت سے دور ہیں ان پر غضب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہ لوگ جہنم رسید ہوں گے ۔
تفسیر "روح المعانی"میں ہے "طردهم و ابعدهم من رحمتہ" ( ص ۴۲ / ۸۷ ط ادارة )
کہ ایسے بد بخت رحمت الہی سے دور ہیں ۔
تفسیر "ابن عباس" میں مذکورہ آیت کے تحت تحریر ہیں ۔ "عذبهم الله (في الدنيا ) بالقتل ...... ( والآخرة ) في النار ( ص ٤٦٢ )
یعنی گستاخی رسول کے سزادنیا میں قتل اور آخرت میں جہنم ہے ۔
تفسیر "کبیر" میں ہے ۔ واللعن اشذا المحذورات لان البعد من الله لا يرجي معه خير ( ص: ۲۵ / ۱۹۷، ط: بیروت)
یعنی شاتم رسول پر اللہ تعالی کی لعنت ہے وہ اللہ تعالی کی رحمت سے دور سے دور ہے اس کے ساتھ بھلائی کی کوئی امید نہیں ہے ۔
الباری باب قتل ابی رافع ...... عن البراء بن عازب قال بعث رسول الله عـلـيـه وسلم رهطا الی ابی رافع فدخل عليه عبدالله بن عشيک بيته لیلا وهو نائم فقتله ....... و كان ابو رافع يوذى رسول الله صلى الله عليه وسلم ویعین عليه ..... ( ص ۲ / ۲۵۷۷ ط قدیمی )
مفہوم یہ ہے کہ ابورافع یہودی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو دوطرح ایذا دینا تھا ایک مالی طور پر کہ اپنامال کفار کو دیتا اور ان کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر ابھارتا اسی طرح زبانی ایذا کا بھی مرتکب ہوتا تھا لہذا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بدبخت کوختم کرنے کے لیے کچھ حضرات بھیجے جن کی امارت حضرت عبداللہ بن عتیق کے ذمہ لگائی لہذا انہوں نے اس گستاخ رسول کوقتل کیا ۔
عـن انـس بن مالک رضی الله تعالى عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم دخـل مـكـه يـوم الـفـتـح و على رأسه المغفر فلما نزعه جاء رجل فقال ابن خطل متعلق با ستار الكعبه فقال اقتله ( صفحه : ۲۱۴ جلد ۲ قدیمی کتب خانہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے موقع پر ایک آدمی نے بتایا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں ( غلاف ) میں چھپا ہوا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو وہیں قتل کر دو۔
انتہائی رنج ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر مسلم ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہتا ہے اور حکومت ہند اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے
اور جب کوئی مسلمان اپنے آئین کو بچانے کے لیے حق بات کہتا ہے یا اپنے دین پر قائم و دائم رہنے کی بات کرتا ہے تو اس کو فوراً جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا جاتا ہے تو اس وقت میرے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ کیا واقعی مسلمان کمزور ہے؟ کیا اس کا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں ہے؟ میں حکومت ہند سے پوچھتا ہوں کہ ذرا بتائیں کہ کیا کسی مسلمان نے کسی دیوی و دیوتا کے بارے میں لایعنی باتیں کی ہیں؟ مجھے امید ہے کہ آپ کے پاس اس کا جواب نہیں ہوگا۔ کیونکہ کسی بھی دھرم کے دیوی دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کرنے سے اسلام نے منع کیا ہے تو پھر آپ اور آپ کی پارٹی کے لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ آخر کیا چل رہا ہے ہمارے اس ملک میں؟
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں کچھ دن پہلے نوپور شرما اور نوین کمار نے نازیبا کلمات استعمال کیے حکومت خاموش رہی اور آج ٹی راجہ سنگھ نے وہی کلمات استعمال کیے ہے۔ تو حیدرآباد کے کچھ لوگوں نے ایف آئی آر درج کرائی تو اس کو حیدرآباد کی پولیس نے اپنے حراست میں لیا مگر رات ہوتے ہی اس کو بیل بھی مل گئی آخر کیوں؟
ٹی راجہ سنگھ کون ہے؟
یہ بی جے پی کے حیدرآباد میں ایم ایل اے تھا جس کو پارٹی سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ اور اس پر سیکشن ١٥٣ اے۔ (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور ساتھ ہی جان بوجھ کر اور بدنیتی پر ۲۹۵ اے مبنی کاروائیاں، جن کا مقصد کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کر کے اس کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا ہے۔
آپ ذرا ہندو مذہب کے دیوی دیوتاؤں کے احوال کا جائزہ لیں : رام اور سیتا کی شادی کے وقت سیتا کی عمر صرف چھ سال تھی اور سیتا کی چھوٹی بہن کی جب شادی ہوئی تو اس وقت اس کی عم تین سال کچھ ماہ کی تھی(رامائن، ارینہ کانڈ، سرگ:27، اشلوک: 10,4,11)
کیا ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو خود اپنے دھرم کے بارے میں جاننے کا ٹائم نہیں ہے مگر یہ لوگ لوگ اسلام کے پیچھے ہاتھ دھو کر لگے ہوئے ہیں۔ گاہے بگاہے سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف بھڑکاؤ بیان دیتے رہتے ہیں مگر ہماری حکومت اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ اس پر کوئی کارروائی ہی نہیں کرتے۔
اب آئیے ہم اسلام اور ہندو مذہب کے ازدواج کی مجموعی تعداد بتاتے ہیں:
اسلام:- حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعی تعداد (11)
ہندو مذہب:- بھگوان واسودیو کی 16101 رانیاں تھیں۔
شری کرشن جی 8 بیویاں (مہابھارت،انش،15,4)
کرشن جی کے والد کی 16 بیویاں
رشی کشیپ کی 13 بیویاں
راجہ شرتھ 350 بیویاں (بالمیکی رامائن کے مطابق)
اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں، یہ کہا اور لکھا جارہا ہے کہ اسلام پرُامن، عالمی معاشرہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے اور انسانی اتحاد کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے، یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہیں کہ پابند شرع اچھا مسلمان محب وطن نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام مسلمانوں کو دوسرے فرقوں سے دور اور نفرت کی تعلیم دیتاہے،یہ ایک خطرناک اور مذموم پروپیگنڈہ ہے جس کا ہمیں مضبوطی اور سنجیدگی سے تمام ممکنہ طریقوں کواپنا کر مقابلہ کرنا ہوگا، ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مسلمان اچھے نہیں ہوسکتے، تو یہ سراسر لغو اور بیہودہ بات ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اسی لغو اور بے بنیاد بات کا پروپیگنڈہ کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی تانے بانے کو بکھیر نے کی کوشش کی جارہی ہے اور جہاد کے حوالے سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ہم یہ اچھی طرح جانتے اور محسوس کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب اور فرقے والے سماج میں باہمی تعلقات کولے کر بہت سی غلط فہمیاں اور مسائل ہوتے ہیں، اس پر سنجیدگی اورعلمی گفتگو کر کے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن غلط باتیں منسوب کرکے باہمی بھائی چارگی کو ختم کرنے یا نفرت کو بڑھاوا دینے کی کوئی بھی مذہب اجازت نہیں دیتا۔
تمام ضروری موضوعات پر اسلامی لٹریچر وافر تعداد میں دستیاب ہیں،قرآن و حدیث کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں او راس پر مسلسل مختلف انداز سے کام بھی ہورہا ہے،ہم دعوت دیتے ہیں کہ اس کا سنجیدہ مطالعہ کرکے واقعی صورت حال کو جاننے کی کوشش کی جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔ آمین یارب العالمین

تبصرے